Friday, November 15, 2019
11:12 PM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > CSS Optional subjects > Group V > Urdu Literature

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #1  
Old Tuesday, March 20, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default tareekh-e-Urdu Zaban-o-Adab

اردو زبان کی ابتداء کے متعلق نظریات


زبان اردو کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداء کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداء کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔ اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداء مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔


دکن میں اردو


نصیر الدین ہاشمی
اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں۔ ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اس لیے دکن میں اردو کی ابتداء کا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد و شمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطین کی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کے ارتقاء سے ہے۔ ابتداء سے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا گزیر ہو کر یگانگت کے مضبوط رشتوں کا باعث بنتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ نزدیکی اور قرب پیدا نہ ہوسکاجہاں زبان میں اجنبیت کم ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہو جانے کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ عربوں کے یہ تجارتی و مقامی تعلقات لسانی سطح پر کسی بڑے انقلاب کی بنیاد نہ بن سکے البتہ فکری سطح پر ان کے اثرات کے نتائج سے انکار نہیں۔
سندھ میں اردو


یہ نظریہ
سید سلیمان ندوی کا ہے جس کے تحت ان کا خیال ہے کہ مسلمان فاتحین جب سندھ پر حملہ آور ہوئے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی اس دور میں مقامی لوگوں سے اختلاط و ارتباط کے نتیجے میں جوزبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ ان کے خیال میں:
”مسلمان سب سے پہلے سند ھ میں پہنچے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں۔ اس کا ہیولیٰ اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔“ اس میں شک نہیں کہ سندھ میں مسلمانوں کی تہذیب و معاشرت اور تمدن و کلچر کا اثر مستقل اثرات کا حامل ہے۔ مقامی لوگوں کی زبان، لباس اور رہن سہن میں دیرپا اور واضح تغیرات سامنے آئے ہیں بلکہ عربی زبان و تہذیب کے اثرات سندھ میں آج تک دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ آج سندھی زبان میں عربی کے الفاظ کی تعداد پاکستان و ہند کی دوسری تمام زبانوں کی نسبت زیادہ ہے اس کا رسم الخط بھی عربی سے بلاو اسطہ طور پر متاثر ہے۔ عربی اثرات کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بعض مورخین کے نزدیک دوسری زبانوں میں جہاں دیسی زبانوں کے الفاظ مستعمل ہیں وہاں سندھی میں عربی الفاظ آتے ہیں مثال کے طو ر پر سندھی میں پہاڑ کو ”جبل“ اور پیاز کو ”بصل“ کہنا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ اثرات زبان میں الفاظ کے دخول سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اس لیے کوئی مشترک زبان پیدا نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اپنے اس دعوےٰ کا کوئی معقول ثبوت نہیں دے سکے۔ بقول ڈاکٹر غلام حسین:
”اس بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ابتدائی فاتحین عرب تھے جن کے خاندان یہاں آباد ہو گئے۔ نویں صدی میں جب ایران میں صفاریوں کا اقتدار ہوا تو ایرانی اثرات سندھ اور ملتان پر ہوئے۔ اس عرصہ میں کچھ عربی اور فارسی الفاظ کا انجذاب مقامی زبان میں ضرور ہوا ہوگا اس سے کسی نئی زبان کی ابتداء کا قیاس شاید درست نہ ہوگا۔“ اس دور کے بعض سیاحوں نے یہاں عربی، فارسی اور سندھی کے رواج کا ذکر ضرور کیا ہے مگر ان بیانات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ یہاں کسی نئی مخلوط زبان کا وجود بھی تھا۔ البتہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سندھی اور ملتا نی میں عربی اور فارسی کی آمیزش ہوئی ہوگئی۔ اس آمیز ش کا ہیولیٰ قیاس کرنا کہاں تک مناسب ہے۔ خاطر خواہ مواد کی عدم موجودگی میں اس کا فیصلہ کرنا دشوار ہے۔
پنجاب میں اردو


حافظ محمود شیرانی نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی بنیادوں پر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ اردو کی ابتداء
پنجاب میں ہوئی۔ ان کے خیال کے مطابق اردو کی ابتداء اس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمو د غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر باربار حملے کر رہے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فارسی بولنے والے مسلمانوں کی مستقل حکومت پنجاب میں قائم ہوئی اور دہلی کی حکومت کے قیام سے تقریباً دو سو سال تک یہ فاتحین یہاں قیام پذیر رہے۔ اس طویل عرصے میں زبان کا بنیادی ڈھانچہ صورت پذیر ہوا اس نظریے کی صداقت کے ثبوت میں شیرانی صاحب نے اس علاقے کے بہت سے شعراء کا کلام پیش کیا ہے۔ جس میں پنجابی،فارسی اور مقامی بولیوں کے اثرات سے ایک نئی زبان کی ابتدائی صورت نظرآتی ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
”سلطان محمود غزنوی کی فتوحا ت کے ساتھ ساتھ برصغیر کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ فتوحات کا یہ سلسلہ 1000ء سے 1026ء تک جاری رہا اور پنجاب و سندھ کے علاوہ قنوج، گجرات (سومنات) متھرا اور کالنجر تک فاتحین کے قدم پہنچے لیکن محمود غزنوی نے ان سب مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہ کیا البتہ 1025ءمیں لاہور میں اپنا نائب مقرر کرکے پنجاب کو اپنی قلم رو میں شامل کر لیا۔ نئے فاتحین میں ترک اور افغان شامل تھے۔ غزنوی عہد میں مسلمان کثیر تعداد میں پنجاب میں آباد ہوئے، علماء اور صوفیا نے یہاں آکر رشد و ہدایت کے مراکز قائم کیے اور تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مقامی باشندے گروہ درگروہ اسلام قبول کرنے لگے اس سماجی انقلاب کا اثر یہاں کی زبان پر پڑا۔ کیونکہ فاتحین نے پنجاب میں آباد ہو کر یہاںکی زبان کو بول چال کے لیے اختیار کیا۔ اس طرح غزنوی دور میں مسلمانوں کی اپنی زبان، عربی، فارسی اور ترکی کے ساتھ ایک ہندوی زبان کے خط و خال نمایا ں ہوئے۔“ مسلمان تقریباً پونے دو سو سال تک پنجاب، جس میں موجودہ سرحدی صوبہ اور سندھ شامل تھے حکمران رہے۔ 1193ء میں قطب الدین ایبک کے لشکروں کے ساتھ مسلمانوں نے دہلی کی طرف پیش قدمی کی اور چند سالوں کے بعد ہی سارے شمالی ہندوستان پر مسلمان قابض ہوگئے۔ اب لاہور کی بجائے دہلی کو دارالخلافہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو لازماً مسلمانوں کے ساتھ یہ زبان جو اس وقت تک بول چال کی زبان کا درجہ حاصل کر چکی تھی، ان کے ساتھ ہی دہلی کی طر ف سفر کر گئی۔
تاریخی اور سیاسی واقعات و شواہد کے علاوہ پرفیسر محمود خان شیرانی، اردو اور پنجابی کی لسانی شہادتوں اور مماثلتوں سے دونوں زبانوں کے قریبی روابط و تعلق کو واضح کرکے اپنے اس نظرے کی صداقت پر زور دیتے ہیں کہ اردو کا آغاز پنجاب میں ہوا۔ فرماتے ہیں: ”اردو اپنی صرف و نحو میں پنجابی و ملتانی کے بہت قریب ہے۔ دونوں میں اسماء و افعال کے خاتمے میں الف آتا ہے اور دونوں میں جمع کا طریقہ مشترک ہے یہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزاء بلکہ ان کے توابعات و ملحقات پر بھی ایک باقاعدہ جاری ہے۔ دنوں زبانیں تذکیر و تانیث کے قواعد، افعال مرکبہ و توبع میں متحد ہیں پنجابی اور اردو میں ساٹھ فی صدی سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں۔“
مختصراً پروفیسر شیرانی کی مہیا کردہ مشابہتوں اور مماثلتوں پر نظر ڈالیں تو دونوں زبانوں کے لسانی رشتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو اپنی ساخت اور صرفی و نحوی خصوصیات کی بناء پر پنجابی زبان سے بہت زیادہ قریب ہے اور اس سے بھی پروفیسر موصوف کے استدلال کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔
پروفیسر سینٹی کمار چیٹر جی نے بھی پنجاب میں مسلمان فاتحین کے معاشرتی اور نسلی اختلاط کا ذکر کیا ہے اور ڈاکٹر زور کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔ ان کے خیال میں قدرتی طور پر مسلمانوں نے جو زبان ابتداً اختیار کی وہ وہی ہوگی جو اس وقت پنجاب میں بولی جاتی تھی وہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں پنجابی زبان خاص طور پر مشرقی پنجاب اور یو پی کے مغربی اضلاع کی بولیوں میں کچھ زیادہ اختلاف نہیں اور یہ فرق آٹھ، نوسو سال پہلے تو اور بھی زیادہ کم ہوگا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وسطی و مشرقی پنجاب اور مغربی یوپی میں اس وقت قریباً ملتی جلتی بولی رائج ہو۔ مزید براں پروفیسر موصوف حافظ شیرانی کی اس رائے سے بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پنجاب کے لسانی اثرات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
حافظ محمود شیرانی کی تالیف ”پنجاب میں اردو“ کی اشاعت کے ساتھ ہی مولانا محمد حسین آزاد کے نظریے کی تردید ہو گئی جس میں وہ زبان کی ابتداء کے بارے میں اردو کا رشتہ برج بھاشا سے جوڑتے ہیں۔ پنجاب میں اردو کا نظریہ خاصہ مقبول رہا مگر پنڈت برج موہن و تاتریہ کیفی کی تالیف ”کیفیہ“ کے منظر عام پر آنے سے یہ نظریہ ذرا مشکوک سا ہو گیا۔ مگر خود پنڈت موصوف اردو کی ابتداء کے بارے میں کوئی قطعی اور حتمی نظریہ نہ دے سکے۔ یوں حافظ محمودشیرانی کے نظریے کی اہمیت زیادہ کم نہ ہوئی۔
دہلی میں اردو


اس نظریے کے حامل محققین اگرچہ لسانیات کے اصولوں سے باخبر ہیں مگر اردو کی پیدائش کے بارے میں پنجاب کو نظر انداز کرکے دہلی اور اس کے نواح کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ لیکن
دہلی اور اس کے نواح کی مرکزیت اردو زبان کی نشوونما اور ارتقاء میں تو مانی جا سکتی ہے ابتداء اور آغاز میں نہیں۔ البتہ ان علاقوں کو اردو کے ارتقاء میں یقینا نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ دہلی اور اس کے نواح کو اردو کا مولد و مسکن قرار دینے والوں میں ڈاکٹر مسعود حسین اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نمایاں ہیں۔ وہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ارد و کی ابتداء کا مسلمانوں سے یا سرزمین ہند میں ان کے سیاسی اقتدار کے قیام اور استحکام سے کیا تعلق ہے۔ اردو میرٹھ اور دہلی کی زبان ہے اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اردو اپنے ہار سنگھار کے ساتھ دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں بولی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس زبان کا آغاز انہی اضلاع میں ہوا یا کسی اور مقام میں جہاں سے اسے دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں لایا گیا۔“ ان نظریات کے علاوہ میر امن، سرسید اور محمد حسین آزاد نے بھی کچھ نظریات اپنی تصانیف میں پیش کیے لیکن یہ نظریات متفقہ طور پر حقیقت سے دور ہیں اور جن کے پیش کنندگان فقدان تحقیق کا شکار ہیں۔
مجموعی جائزہ


اردو کی ابتداء کے بارے پروفیسر محمود شیرانی کا یہ استدال بڑا وزن رکھتا ہے کہ کہ غزنوی دور میں جو ایک سو ستر سال تک حاوی ہے ایسی بین الاقوامی زبان ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔ اردو چونکہ پنجاب میں بنی اس لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو موجودہ پنجابی کے مماثل ہو یا اس کے قریبی رشتہ دار ہو۔ بہرحال قطب الدین ایبک کے فوجی اور دیگر متوسلین پنجاب سے کوئی ایسی زبان ہمراہ لے کر روانہ ہوئے جس میں خود مسلمان قومیں ایک دوسرے سے تکلم کر سکیں اور ساتھ ہی ہندو اقوام بھی اس کو سمجھ سکیں اور جس کو قیام پنجاب کے زمانے میں وہ بولتے رہے ہیں۔ یوں محققین کی ان آراء کے بعد یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ قدیم اردو کا آغاز جدید ہند آریائی زبانوں کے طلوع کے ساتھ 1000ء کے لگ بھک اس زمانے میں ہو گیا جب مسلم فاتحین مغربی ہند (موجودہ مغربی پاکستان) کے علاقوں میں آباد ہوئے اور یہاں اسلامی اثرات بڑی سرعت کے ساتھ پھیلنے لگے۔
Reply With Quote
The Following 4 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Monday, April 02, 2012), Hamidullah Gul (Tuesday, March 20, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #2  
Old Wednesday, March 21, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

اردو زبان کا ارتقا
** انسان کا شاید سب سے بڑا تخلیقی کارنامہ زبان ہے ۔۔۔ ہم دراصل زبان کے ذریعے اپنی ہستی کا اور اس رشتے کا اقرار کرتے ہیں جو انسان نے کائنات اور دوسرے انسانوں سے قائم کر رکھے ہیں۔ انسان کی ترقی کا راز بھی بہت کچھ زبان میں پوشیدہ ہے کیونکہ علم کی قوت کا سہارا زبان ہی ہے۔

** اردو زبان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندی ، فارسی اور عربی کی تمام آوازیں موجود ہیں۔ اردو کے حروفِ ہجا ان تینوں زبانوں کے حروفِ ہجا سے مل کر بنے ہیں۔ ۔۔۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں دوسری زبانوں کے لفظوں اور محاوروں کو اپنانے کی بڑی صلاحیت ہے۔ ۔۔۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط ابتدا سے فارسی ہے۔

** اردو زبان کو انیسویں صدی کی ابتدا تک ہندی ، ہندوی ، دہلوی ، ریختہ ، ہندوستانی ، دکنی اور گجراتی غرض مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔

** ڈاکٹر گلکرسٹ نے جب ملک کی سب مقبول زبان جو شمالی ہند کے علاوہ دکن حتیٰ کہ مدراس اور بنگال میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ، انگریزوں کو سکھانے کا ارادہ کیا تو اس زبان کو 1787ء میں "ہندوستانی" کا نام دیا۔

** اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی لشکر ، سپاہی ، کیمپ ، خیمہ وغیرہ کے ہیں۔ عہدِ مغلیہ میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ زبان کے معنی میں اس لفظ کا استعمال چنداں قدیم نہیں۔ میرامن دہلوی ، سرسید احمد خان اور سید احمد دہلوی (مولف فرہنگِ آصفیہ) کا یہ دعویٰ کہ اردو زبان کی ابتداء شاہجہانی لشکر (اردو) سے ہوئی اس لیے اس زبان کا نام بھی اردو پڑ گیا ، درست نہیں ہے۔ کیونکہ اٹھارویں صدی عیسوی سے پیشتر کا کوئی شاعر، ادیب اور تذکرہ نگار اس زبان کو "اردو" سے تعبیر نہیں کرتا۔

** علمائے لسانیات نے زبانوں کو ان کی صَوتی اور صرفی خصوصیات کی بنیاد پر مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے بڑا خاندان آریائی زبانوں کا ہے۔ اس کے بعد منگول خاندان (چینی ، جاپانی وغیرہ) کا نمبر آتا ہے۔ اور پھر سامی (عربی اور عبرانی وغیرہ) اور دراوڑی (تلگو ، تامل ، ملیالم ، کنٹری) زبانوں کے خاندان ہیں۔
آریائی خاندان جو بنگال سے ناروے تک پھیلا ہوا ہے کئی گھرانوں میں بٹ گیا ہے۔

** ہندی کا علاقہ بہت وسیع تھا۔ یہ زبان ملتان سے پٹنہ تک بولی اور سمجھی جاتی تھی اور اس کی بہت سی مقامی بولیاں تھیں مثلاً برج بھاشا، کھڑی بولی، اودھی، بھوجپوری، قنوجی، ہریانی وغیرہ۔ اور یہ زبان راجستھانی اور پنجابی سے بہت قریب تھی۔ مماثلت اور ہمسائیگی کے باعث ہم ہندی (مغربی اور مشرقی) ، پنجابی ، راجستھانی اور سندھی وغیرہ کو آپس میں بہنیں کہہ سکتے ہیں۔

** مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب "عرب اور ہند کے تعلقات" میں اُن ہندی الفاظ کی طویل فہرست دی ہے جو قدیم عربی لغت میں تجارتی چیزوں کے لیے پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ صندل (چندن) ، کافور (کپور) ، اطریفل (تری پھل) ، نیلوفر (نیلو پھل) وغیرہ ہندئ الاصل الفاظ ہیں۔ قرآن شریف میں بھی ہندی کے تین الفاظ کی نشاندہی کی ہے : مسک (موشکا) ، کافور (کپور) اور زنجبیل (زنجابیر)۔

** ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اردو زبان کا بیج کہاں بویا گیا اور اس کے انکھوے کہاں پھوٹے۔ البتہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ زبان کی علاقائی تقسیم جو آج ہے وہ 800 ، 900 سال پیشتر نہ تھی۔ اُس وقت تک اکثر دیسی زبانوں نے کوئی واضح شکل بھی اختیار نہیں کی تھی۔
قدیم مورخین نے اول تو زبان کے مسائل سے بحث ہی نہیں کی ہے اور اگر اشارۃً ذکر کیا ہے تو بڑے مبہم انداز میں۔

** حافظ محمود شیرانی صاحب نے ہمیں اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ اگر اردو پنجاب میں پیدا ہوئی تو پھر وہ یہاں کے باشندوں کی مادری زبان کیوں نہیں بنی؟ یہاں کے عام لوگوں کی بولی پنجابی کیوں ہو گئی؟ حالانکہ یہ سارا علاقہ محمود غزنوی کے حملے سے اٹھارویں صدی عیسوی یعنی 800 برس تک مسلمانوں کے تسلط میں رہا۔ یہ خطہ اسلامی تہذیب کا نہایت اہم مرکز بھی تھا اور یہاں مسلمانوں کی غالب اکثریت بھی آباد تھی۔ پھر اردو یہاں بول چال کی زبان کیوں نہ بنی جس طرح وہ گنگا جمنا کے دو آبے کی زبان بن گئی۔

** مختصر یہ کہ اردو کی ابتدا کے بارے میں ہم یقین سے فقط یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب مغربی ہندی میں فارسی کا پیوند لگا تو یہ زبان وجود میں آئی۔ مغربی ہندی سے مراد وہ زبان ہے جو دہلی اور میرٹھ کے علاقے میں بولی جاتی تھی۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ غزنوی عہد میں لاہور اور ملتان وغیرہ میں بھی یہی زبان رائج تھی تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو کی داغ بیل اسی خطے میں پڑی۔

** تیرھویں ، چودھویں اور پندرھویں صدی کا زمانہ اردو زبان کی تشکیل کا دَور ہے۔ اس دَور میں بقول مولوی عبدالحق اردو کٹھالی میں پڑی گل رہی تھی ہنوز سونا نہیں بنی تھی۔ اس دَور میں امراء اور عمائدینِ سلطنت نے اردو کو منہ نہیں لگایا۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ گھروں میں یہی زبان بولتے ہوں مگر ان کی تحریر اور تصنیف کی زبان مدت تک فارسی ہی رہی۔ یہی زمانہ تصوف اور بھگتی کے عروج کا بھی ہے۔ اسی دور کی اردو کی خصوصیات میں ہندی الفاظ کی بہتات تھی ، عربی اور فارسی کے الفاظ خال خال پائے جاتے تھے۔ فارسی اور عربی کی مذہبی اور صوفیانہ اصطلاحیں استعمال کی جاتی تھیں مگر شعراء ہندی اور سنسکرت کے ٹھیٹ الفاظ اور عارفانہ اصطلاحیں بھی بڑی بےتکلفی سے لکھ جاتے تھے۔ شاعرانہ بحریں اور اصنافِ سخن سب ہندی کے تھے۔

** اسی دَور کی ایک غزل بھی امیر خسرو کے نام سے مشہور ہے جس کا پہلا مصرع فارسی میں ہے اور دوسرا اردو میں۔
زحالِ مسکین مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں نہ دارم اے جاں نہ لیہو گاہے لگاہے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز از زلف و روزِ وصلش چوعمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

** اردو زبان اور ادب نے 300 سال تک جتنی ترقی دکن میں کی اس کی نظیر پورے ملک میں نہیں ملتی۔ اسی لیے دکن کے لوگ اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پُرکھوں نے اردو کو نکھارا ، بنایا ، سنوارا اور اس میں ادبی شان پیدا کی تو یہ دعویٰ بےبنیاد نہیں ہے۔
قطب شاہی (گولکنڈہ : 1518ء - 1687ء) اور عادل شاہی (بیجاپور : 1489ء - 1686ء) دَور میں اردو کو دکن میں بہت فروغ ہوا اور وہ ملک کی سب سے مقبول زبان بن گئی۔

** جب دکن کی ریاستوں کو زوال آیا اور سلطنت مغلیہ کے دَورِ عروج میں اورنگ زیب نے بیجاپور (1686ء) اور گولکنڈہ (1687ء) فتح کیا تو اورنگ آباد کی رونق بڑھ گئی۔ ۔۔۔ اردو کا اورنگ آبادی دَور دراصل ایک درمیانی کڑی ہے جو دکن کو شمالی ہندوستان سے ملاتی ہے۔ اورنگ آباد کے لوگوں کی زبان میں بھی یہ رنگ جھلکتا ہے جو دکنی تہذیب سے بھی متاثر ہے اور اردوئے معلیٰ سے بھی مماثلت رکھتی ہے۔

** اردو زبان کی تاریخ میں شاہجہاں کا عہد بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ۔۔۔ اٹھارویں صدی کے تذکرہ نویسوں نے یہاں کی زبان کو "اردوئے معلیٰ شاہجہاں آباد دہلی" کا لقب دیا ہے۔

** ہمارے بعض محققین ، ناسخ اور دوسرے مصلحین زبان کا ذکر یوں کرتے ہیں گویا وہ ادیب نہیں بلکہ بادشاہِ وقت یا ہائیکورٹ کے جج تھے کہ اِدھر اُن کا حکم ہوا اُدھر لوگوں نے اپنی زبان میں اصلاح کر لی۔ یہ طرزِ فکر غیر تاریخی ہے۔ کیونکہ زبان کی دنیا میں کُن فیکون کا قانون نہیں چلتا اور نہ کسی بادشاہ کا فرمان کام آتا ہے۔ یہاں اگر کسی کا حکم چلتا ہے تو وہ عام لوگ ہیں جو نہ کسی کے کہنے سے زبان بولتے ہیں اور نہ کسی کے کہنے سے اُسے ترک کرتے ہیں۔ ترک و قبول ایک مسلسل اور تدریجی عمل ہے جو زبان کی دنیا میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ الفاظ اور محاورے جب اپنی افادیت کھو دیتے ہیں تو لوگ انہیں کھوٹے سکے کی مانند ترک کر دیتے ہیں اور نئے الفاظ و محاورات کو جو اظہار و ابلاغ میں ان کی مدد کریں قبول کر لیتے ہیں۔
اصلاحِ زبان کے سلسلے میں آرزو یا حاتم یا ناسخ کی اہمیت یہ نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن بیٹھے بیٹھے یہ فیصلہ کیا کہ کل سے فلاں ترکیبیں ، الفاظ اور محاورات ترک کر دئے جائیں گے اور لوگوں نے ہنسی خوشی ان کی بات مان لی یا انہوں نے کہا : فلاں الفاظ کل سے رائج ہو جانے چاہئیں اور وہ پورے ملک میں رائج ہو گئے۔ اس کے برعکس ان مصلحین کی عظمت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے یہ معلوم کیا کہ ملک کے شائستہ لوگوں نے کن الفاظ و محاورات کا استعمال ترک کر دیا ہے اور کون کون سے نئے الفاظ و محاورات زبان میں داخل ہو گئے ہیں۔

** الفاظ بڑے سخت جان ہوتے ہیں۔ ان کو مرنے کے لئے ایک جگ چاہئے۔ اسی طرح نئے محاورات اور کلمات بھی آہستہ آہستہ رواج پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں غالب کے عہد میں بھی آوے ، جاوے ، اور آئے ہے ، جائے ہے ، شنیدن ، غلطیدن وغیرہ کا استعمال ملتا ہے۔

** اردو زبان کی ترویج و ترقی میں چھاپے خانوں اور اخباروں ، رسالوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اردو کے چھاپے خانے پہلے پہل کلکتہ میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد ایک پریس 1831ء میں کانپور میں اور دوسرا لکھنؤ میں 1837ء میں کھلا۔ رفتہ رفتہ دہلی ، بمبئی ، حیدرآباد دکن اور لاہور غرض ملک کے سب بڑے شہروں میں چھاپے خانے کھل گئے اور اردو کی کتابیں کثرت سے شائع ہونے لگیں۔ اہل وطن نے انگریزوں سے صحافت کا فن بھی سیکھا۔ چنانچہ دہلی ، کلکتہ ، لکھنؤ اور لاہور وغیرہ سے اخبارات جاری ہوئے۔ اخباروں کی وجہ سے زبان میں ایک طرح کی یکسانیت اور ہم آہنگی آ گئی اور مقامی بولیوں کا فرق کم ہو گیا۔

** گذشتہ ایک صدی میں مغرب سے ربط ضبط کے باعث ہمارے ملک میں بڑی بڑی انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ مغربی معیشت اور معاشرت کا اثر فقط ہماری اقتصادی ، صنعتی اور سیاسی زندگی پر نہیں پڑا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہمارے رہن سہن ، خوراک ، پوشاک اور وضع قطع میں بھی مغربی رنگ جھلکنے لگا ہے۔ ہماری تہذیبی ، جمالیاتی اور اخلاقی قدریں بھی مغربی ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ ہمارے سوچنے ، محسوس کرنے اور بولنے کے انداز پر بھی مغرب کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ زبان جو کہ تہذیب کا عطر و علامت ہے ، بہت متاثر ہوئی ہے۔

اردو لغت میں سینکڑوں ہزاروں الفاظ و اصطلاحات مغربی زبانوں کے داخل ہوئے ہیں۔ ہمارا پیرایہ بیان انگریزی ہوتا جاتا ہے اور ان گنت انگریزی ترکیبیں ترجمے کی شکل میں غیرارادی طور پر اردو میں رائج ہو رہی ہیں۔ بعض انگریزی داں لوگ تو بولتے اور لکھتے وقت سوچتے انگریزی میں ہیں اور پھر اس کا ترجمہ اردو میں کرتے ہیں۔

اور چونکہ مغرب میں آئے دن نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ علوم و فنون کی نئی نئی شاخیں پھوٹ رہی ہیں، نئی نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں، نئی نئی مشینیں ایجاد ہو رہی ہیں۔ نئے نئے پھل ، پھول اور پودے اگائے جا رہے ہیں، نئے نئے کام نکل رہے ہیں اور نئی نئی چیزیں پیدا ہو رہی ہیں اس لیے ان کے نام بھی لامحالہ مغربی ہیں۔ یہ چیزیں ہمارے ملک میں بھی استعمال ہوتی ہیں لہذا ان کے مغربی نام بھی اردو زبان میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اردو لغت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

(مقالہ : اردو زبان کا ارتقا(جامع فیروز اللغات
Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014), stranger498 (Sunday, April 08, 2012)
  #3  
Old Wednesday, March 21, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

ایہام گوئی

ایہام گوئی کیا ہے

ایہام سے مرادر یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنی پیداکرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوایہام کہلاتا ہے۔بعض ناقدین نے ایہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چا ر معنی ہوتے ہیں جب کہ ایہام میں ایسا نہیں ہوتا۔

اردو شاعری میں ایہام گوئی

ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراءکے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسباب

ایہام گوئی کے بارے میں رام بابو سکسینہ اور محمد حسین آزاد دونوں کا خیال ہے کہ اردو کی ابتدائی شاعری میں ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اہم سبب ہندی دوہوں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی کے نزدیک اس زمانے میں فارسی شعراءکا دربار اور شعر و ادب کی محفلوں میں بہت اثر تھا۔ یوں بھی ادب میں دہلی والے فارسی روایات برتتے تھے۔ اس لیے یہ بہت ممکن ہے کہ متاخرین شعرائے فارسی کے واسطے یہ چیز عام ہوئی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک سبب ایہام گوئی کا ہندی دوہے ہیں اور دوسرا سبب متاخرینشعرائے فارسی سے متاثر ہو کر اس دور کے شعراءنے اپنی شاعری کی بنیاد ایہام پر رکھی۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک ہر بڑے شاعر کی طرح دیوان ولی میں بھی بہت رنگ موجود تھے۔ خود ولی کے کلام میں ایہام گوئی کا رنگ موجود ہے۔ اگرچہ ولی کے ہاں یہ رنگ سخن بہت نمایاں نہیں لیکن ہر شاعر نے اپنی پسند کے مطابق ولی کی شاعری سے اپنا محبوب رنگ چنا۔ آبرو ، مضمون ، ناجی اورحاتم ولی کے ایہام کے رنگ کو چنا۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایہام کی ایک بڑی وجہ ولی کے کلام میں موجود ایہام گوئی کا رنگ بھی تھا۔

ان تین اسباب کے علاوہ ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اور اہم سبب محمد شاہی عہد کے درباری اور مجلسی زندگی تھی۔ یہ دور بر صغیر کا نہایت بحرانی دور رہا۔ محمد شاہ گو بادشاہ تو بن گیا تھا لیکن اس میں وہ صلاحیتیں موجود نہ تھیں جو گرتی ہوئی حکومت کو سنبھال سکتیں۔ یوں اس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے عیش و عشرت اور رقص و سرور کاسہارا لیا۔یوں طوائفوں اوربھانڈوں کی محفلیں جمنے لگیں۔ اس قسم کی مجلسی فضا میں جہاں حسن و عشق کاتصور انفرادی کے بجائے اجتماعی جذبے کی صورت اختیار کر لے تو پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے پیرائے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایہام ، رعایت لفظی ، ذومعنی اور پہلو دار معنی ، ضلع جگت ، چٹکلے اور پھبتیاں وغیرہ ایسی محفلوں میں سب کو مزا دینے لگیں۔ یوں اس دور کے تہذیبی موسم اور معاشرتی زمین ایہام گوئی کے پھلنے پھولنے کے لیے نہایت مناسب تھی۔

مختصرا ان اسباب کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ہندی دوہوں کا اثر ،فارسی کے شعرائے متاخرین کی روایت دیوان ولی میں ایہام گوئی کے رنگ کی موجود گی اور محمد شاہی عہد کی مجلسی اور تہذیبی زندگی ایہام گوئی کے رجحانات کے عام کرنے میں معاون و مدگار ثابت ہوئی۔
ایہام گو شعراء

ایہام گو ئی کے سلسلے میں آبرو ، ناجی ، مضمون ،یکرنگ ، فائز اور حاتم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
  • آبرو
  • شاکر ناجی
  • شرف الدین مضمون
  • مصطفےٰ خان یک رنگ
  • شاہ حاتم
اردو شاعری پر اثرات

ایہام گوئی کی بدولت شاعری پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات پڑے۔ ایہام گویوں کی کوشش سے سینکڑوں ہندی اورمقامی الفاظ اس طور سے استعمال ہوئے کہ اردو زبان کا جزو بن گئے۔ نہ صرف الفاظ بلکہ ہندی شاعری کے مضامین ، خیالات اور اس کے امکانات بھی اردو شاعر ی کے تصرف میں آگئے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ ایہام گوئی کے رجحان سے جہاں اردد زبان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اس کے کچھ منفی اثرات بھی ظاہر ہوئے۔
جب ایک مخصوص فضا میں ایہام کا رواج ہوا جہاں الفاظ کی بازیگری کو استادی سمجھا جانے لگا تو شاعری صرف الفاظ کے گورکھ دھندے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ لفظ تازہ کی تلاش میں متبذل اور بازاری مضامین بھی شاعری میں گھس آئے۔ نیز جب شاعر لفظوں کو ایہام کی گرفت میں لانے کی کوشش میں مصروف رہے تو پھر شاعری جذبہ و احساس سے کٹ کر پھیکی اور بے مزہ ہو جاتی ہے اور یہی حال اس دور میں شاعری کا ہوا۔
ایہام گوئی کے خلاف ردِعمل

ایہام گو شعراءکے بعد جو نیا دور شروع ہوااس میں مظہر ، یقین ، سودا ،میر تقی میر، خواجہ میر درد،وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے ایہام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ اس دور میں ان لوگوں نے ایہام گوئی کی بندشوں کو شدت سے محسوس کیا ان کے سبب خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آجاتی تھی۔ یوں ایہام گوئی میں زیادہ شعر کہنا مشکل تھا۔ لیکن ایہام گوئی ترک کرنے کے بعد شعراءکے دیوان خاصے ضخیم ہونے لگے۔ شعراءکی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ اس نئے دور میں ایہام گوئی کے خلاف اس قدر احتجاج کیا گیا کہ شاہ حاتم جو ایہام گو شاعر تھے انہوں نے اس روش کو ترک کر دیا اور اپنے دیوان سے ایہام کے شعر نکال دیئے۔
ur.wikipedia.org/wiki/ایہام_گوئی
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #4  
Old Wednesday, March 21, 2012
doli's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Jan 2010
Location: pakistan
Posts: 137
Thanks: 144
Thanked 73 Times in 45 Posts
doli is on a distinguished road
Default

Due Urdu font its not fully readable.would you please tell me how can we read it without illegiblity of font?
Reply With Quote
  #5  
Old Wednesday, March 21, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

Quote:
Originally Posted by doli View Post
Due Urdu font its not fully readable.would you please tell me how can we read it without illegiblity of font?
follow this link
Help to write in Urdu « Urdu Text

Probably it will help.It will guide you to set Urdu and its script as alternate default language in your computer. I have no idea about font. Any one else may guide you better.
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
doli (Wednesday, March 21, 2012)
  #6  
Old Wednesday, March 21, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

اردو شاعری میں ایہام گوئی

فضہ پروین

شمالی ہند میں اردو شعرا نے ایہام گوئی پر توجہ دی ۔آخری عہد مغلیہ میں مرکزی حکومت عدم استحکام کا شکار ہو گئی ۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 18فروری1719سے 14اگست 1719تک تین بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ محمد شاہ رنگیلا1719سے 1747تک مغلیہ حکومت پر قابض رہا ۔اسی عہد میں ایہام گوئی کا آغاز ہوا ۔محمد شاہ اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا رہا تھا ۔ اس کی شامت اعمال 13 فروری 1739کو نادر شاہ کی صورت میں عذاب بن کر نمودار ہوئی ، دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ دو لاکھ پچیس ہزار افراد نادر شاہ کی سفاکی اور بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے .ان حالات میں اردو شعرا نے ایہام گوئی کی روش اپنالی۔

ایہام سے مراد وہم یا شک میں مبتلا کرنا ہے ۔اپنی اصل کے اعتبار سے ایہام کو رعایت لفظی کے ایک خاص انداز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ ذومعنی الفاظ کے استعمال سے تخلیق کار دو مفاہیم کے ذریعے قاری کو وہم میں ڈال کر اپنے فنی محاسن کے لیے داد طلب ہوتا ہے ۔میرتقی میر نے ایہام کو ریختہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ اردو شاعری میں ایہام گوئی کارجحان سے 1719دیکھنے میں آتا ہے جو دہلی کے شعرا کے ہاں پچیس سال تک برقرار رہا.ایہام گو شعرا کے ہاں الفاظ کو دوہری معنویت کا حامل بنادیا جاتا ہے ۔ بادی النظر میںقاری قریب ترین معانی تک جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے مراد دور کے معانی ہوتے ہیں۔ اس طرح قاری قدرے تامل کے بعد دور کے مفہوم تک رسائی حاصل کرپاتا ہے مثلاً

یہی مضمون ِ خط ہے احسن اللہ
کہ حسن خوبرویاں عارضی ہے

یہاں عارضی میں ایہام ہے ۔ عارضی کے قریب ترین معانی تو ناپائیدار ہیں مگر شاعر نے اس سے رخسار مراد لیے ہیں۔
نشہ ہو جس کو محبت کا سبز رنگوں کا
عجب نہیںجو وہ مشہور سب میں بھنگی ہو
یہاں لفظ بھنگی میں ایہام پایا جاتا ہے۔

علم صنائع بدائع میں ایہام کو ایک صنف قرار دیا گیا ہے۔ اردو زبان میں ایہام کے فروغ میں ہندی دوہوں کا گہرا عمل دخل ہے ۔ سنسکرت میں ایہام کو ” شلش“ کہاجاتا ہے ۔ اردو میں ہندی اور سنسکرت کے وسیلے سے ایہام کو فروغ ملا ۔ فارسی ادب میں بھی ایہام گوئی کا وجود پایا جاتا ہے مگر فارسی تخلیق کا ر اس میں کم دلچسپی لیتے تھے ۔ محمد حسن آزاد نے اردو میں ایہام گوئی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ہندی دوہوں کے زیر اثر اس کا آغاز ہوا.رام بابو سکسینہ نے ایہام گوئی کے آغاز کو ولی کے عہد سے وابستہ کیا ہے ۔ انھوںنے لکھا ہے :”ولی کے معاصرین صنعت ایہام کے بہت شائق تھے ۔ یہ صنعت بھاشا کی شاعری میں بہت مقبول ہوئی اور دوہوں کی جان ہے ۔ قدما کے کلام میں ایسے ذومعنی اشعار بکثرت ہوتے ہیں ۔

اردو شاعری میں ایہام گوئی پر خان آرزو اور ان کے شاگردوںنے تخیل کی جولانیاںدکھائیں۔ مولوی عبدالحق نے اردو شاعری میں ایہام گوئی کے محرکات کے بارے میں لکھا ہے۔ ” یہ خیال قرین ِصحت معلوم ہوتا ہے کہ اردوایہام گوئی پر زیادہ تر ہند ی شاعری کا اثر ہوا ، اور ہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔“

محمد حسین آزاد نے آب حیات میں لکھا ہے کہ ایہام گوئی کا تعلق آخری عہدمغلیہ سے ہے ۔ انھوں نے ولی کے عہد میں اس کے پروان چڑھنے کی بات کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :”ولی نے اپنے کلام میں ایہام اور الفاظ ذومعنین سے اتنا کام نہیں لیا ۔ خداجانے ان کے قریب العہد بزرگوں کو پھر اس قدر شوق اس کا کیوں کر ہوگیا ؟ شاید دوہوں کا انداز جو ہندوستان کی زبان کا سبزہ خود رو تھا ، اس نے اپنا رنگ جمایا۔

یہ بات قرین قیاس ہے کہ دوہوں نے ایہام گوئی کی راہ ہموار کی مثلاً یہ دوہا ملاحظہ کریں

رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا


تخلیقی اظہار کے متعد امکانات ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا تخلیق کار کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے ۔ان حالا ت میں اگر کوئی تخلیق کار یہ طے کر لے کہ وہ قاری کو سرابوں کی بھینت چڑھا کر اپنی فنی مہارت کی داد لے گا تو یہ ایک خیال خام ہے ۔ایسے ادیب ذو معنی الفاظ اور زبان و بیان کی بازی گری سے اپنا مافی الضمیرکیسے پیش کر سکتے ہیں ؟ایہام کے متعلق یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ ا یہام گو شعرا اپنے کلام میںایسے الفاظ کو استعمال کرتے ہیںجو بہ ظاہر گنجینہءمعانی کے طلسم کی صورت پیدا کر دیتے ہیں اور شاعر کو یہ گمان گزرتا ہے کہ قطرے میں دجلہ اور جزو میں کل کا منظر دکھانے پر دسترس رکھتا ہے ۔تخلیق کار کی شخصیت میں داخلی پہلو عام طور پر غالب رہتا ہے ۔

اس کی شدت سے مغلوب ہو کر وہ قاری کو حیرت زدہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے دریافت کرنے کی ترکیبیں تلاش کرتا ہے ۔ایہام اسی سوچ کو تخلیقی اظہار کی مثال بناتا ہے ۔ایہام گو شاعر تخلیق فن کے لمحوں میں ایسا پیرایہ ءاظہار اپناتا ہے کہ پورے شعر یا اس کے کسی ایک جزو سے دو ایسے مفاہیم پیدا ہوں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں ۔اس مقصد کے لیے ذو معنی الفاظ کے استعمال میں شعرا نے گہری دلچسپی لی ہے ۔جہاں تک معانی کا تعلق ہے ان میں سے ایک معنی تو قریب کا ہوتا ہے جب کہ دوسرا معنی بعید ہے ۔در اصل شاعر کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ بعید کے معنی پر توجہ مرکوز کی جائے اور قاری وہم کی صورت میں قریب کے معنی میں الجھ کر رہ جائے ۔شاعر ذو معنی الفاظ کو اپنے تخلیقی اظہار کی اساس بنا کر صنائع بدائع کی اس صنف کو اپنی شاعری میں استعمال کر کے اپنی جدت پر داد طلب دکھائی دیتا ہے ۔اس سے یہ انداز لگایا جا سکتا ہے کہ رعایت لفظی کی ایسی صورتیں پیدا کر کے شعرا نے کس طرح مفاہیم کو بدلنے میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کیا ۔اردو شاعری کے کلاسیکی عہد میں یہ رسم چل نکلی تھی کہ حقیقت کو خرافات میں نہاں کر نا ہی فنی مہارت کی دلیل ہے ۔داخلی حقائق کو خارجی فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرنا قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے ۔ایہام بعض اوقت الفاظ کی املا سے بھی پیدا کیا جا تا ہے ۔

وہ تخلیق کار جنھوں نے ایہام گوئی پر بھرپور توجہ دی ان کے نام حسب ذیل ہیں :خان آرزو ،شاہ مبارک آبرو ، ٹیک چند بہار ، حسن علی شوق، شہاب الدین ثاقب ، رائے آنند رام مخلص، میرزین العابدین آشنا، شرف الدین مضمون، شاہ حاتم ، محمد شاکر ناجی ، غلام مصطفٰے یک رنگ ،محمد احسن احسن، میر مکھن پاک باز ، محمد اشرف اشرف، ولی اللہ اشتیاق ، دلاورخان بیرنگ ، شرف الدین علی خان پیام ، سید حاتم علی خان حاتم ، شاہ فتح محمد دل ، میاں فضل علی دانا ، میر سعادت علی خاں دسعادت ، میر سجاد اکبر آبادی ، محمدعارف عارف ، عبد الغنی قبول ، شاہ کاکل ، شاہ مزمل ، عبدالواوہاب یک رو اور حیدر شاہ ۔

کلام میں ذومعنی الفاط کا استعمال کرنا اس عہد کے شعرا نے بظاہر ایک جدت کا پہلو تلاش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کلام کے حسن میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ دور از کار مفہوم اور باتوں کی بے لطفی ضلع جگت کی بے لطفی سے کسی طور بھی کم نہیں. ولی کے سفر دہلی کے بارے میں بھی درست معلومات پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ ولی کے بارے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ انھوںنے کہا تھا

دل ولی کا لے لیا دلی نے چھین
جا کہو کوئی محمد شاہ سوں


یہ شعر ولی دکنی کا نہیں بلکہ شرف الدین مضمون کا ہے۔صحیح شعر اس طرح سے ہے :

اس گد ا کا دل لیا دلی نے چھین
جا کہو کوئی محمد شاہ سوں


ولی کے اشعار میں ایہام کا انداز سادگی ، سلاست اور اثر آفرینی کا حامل ہے
خودی سے اولاً خالی ہوا اے دل
اگر شمع روشن کی لگن ہے


موسیٰ جو آکے دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کو پہاڑ ہو وے پھر طو ر کا تماشا


شیخ شرف الدین مضمون (م 1735) نے ایہام گوئی کے سلسلے میں اپنے اہم کردار کا ذکر کیا ہے ۔

ہوا ہے جگ میں مضمون شہرہ اپنا
طرح ایہا م کی جب سیں نکالی

شاہ مبارک آبرو نے ایہام گوئی پر توجہ دی اور اسے اپنے اسلوب کی اساس بنایا۔آبر و کے اسلوب میں محض ایہام ہی نہیں بلکہ بسا اوقات وہ سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور دردمندی کو بھی اپنے تخیل کی اساس بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر وہ ایہام پر انحصار نہ کرتے تو ان کا شاعرانہ مقام اس سے کہیں بلند ہوتا۔ایہام میں ان کی متبذل شاعری نے ان کے اسلوب کو شدید ضعف پہنچایا۔ شیخ شرف الدین مضمون نے ایہام گوئی کو بہ طور اسلوب اپنایا۔ان کا شمار ایہام گوئی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام کی فراوانی ہے ۔اس کے باوجود اس صنعت کے استعمال کی کسی شعوری کو شش یا کھینچ تان کا گمان نہیں گزرتا ۔ایہام گوئی ان کا اسلوب شعر و سخن رہا لیکن اس میں وہ اس سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے کمال فن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کیفیت نوائے سروش کی ایک صورت بن کر شاعر کے دل میں سما گئی ۔

مضمون شکر کر کہ تر ا نام سن رقیب
غصے سے بھوت ہو گیا لیکن جلا تو ہے

کر ے ہے دار بھی کام کو سر تاج
ہوا منصو ر سے یہ نکتہ حل آج

کرنا تھا نقش روئے زمیں پر ہمیں مراد
قالی اگر نہیں تو نہیں بوریا تو ہے

نظر آتا نہیں وہ ماہ روکیوں
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی

اگر پاﺅں تو مضمون کو رکھوں باندھ
کروں کیا جو نہیں لگتا مرے ہاتھ


شیخ ظہور الدین حاتم (م 1791)کا پیشہ سپہ گری تھا ۔ان کی ایہام گوئی ابتذال کی حدوں کو چھو لیتی ہے او رذوق سلیم پر گراں گزرتی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عہد کے متعدد شعرا نے شیخ ظہور الدین سے اکتساب فیض کیا جن میں مرزا محمد رفیع سودا بھی شامل ہیں۔حاتم کے اسلوب میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ تنقیدی بصیرت سے متمتع تھے۔وہ حالات کے نباض اور قاری کے ذوق سے آشنا تھے اس لیے جب انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ایہام سے قاری کا ذوق سلیم غارت ہو جاتا ہے تو انھوں نے نہ صرف اسے ترک کر دیا بلکہ ایسے اشعار بھی اپنے کلام سے حذف کر دیئے۔نمونہ ءکلام:

مثال بحر موجیں مارتا ہے

لیا ہے جس نے اس جگ کا کنارہ

ہے وہ چرخ مثال سر گرداں
جس کو حاتم تلاش مال ہوا

نظر آوے ہے بکری سا کیا پر ذبح شیروں کو
نہ جانا میں کہ قصاب کا رکھتا ہے دل گردہ


اس عہد کے ایک اور شاعر کا نام بھی ایہام گوئی کے بانیوں میں شامل ہے یہ سید محمد شاکر ناجی ہیں ۔سید محمدشاکرناجی زمانی اعتبار سے شاہ حاتم اور ولی دکنی کے ہم عصر ہیں ۔ناجی نے اپنی تما م تر صلاحیتیں ایہام گوئی پر صرف کر دیں ۔ان کے کلام کا بہ نظر غائر مطالعہ کرنے سے قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس تخلیق کار نے اپنے قصر شاعری کو ایہام اور صرف ایہام کی اساس پر استوارکرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ایہام کے علاوہ ان کے دیوان میں کچھ موجود نہیں ۔ایہام کے استعمال کی شعوری کاوشوں نے ان کے کلام کے حسن کو متاثر کیا ہے اور سادگی ،بے ساختگی اور اثر آفرینی عنقا ہو گئی ہے ۔نمونہ کلام

ریختہ ناجی کا ہے محکم اساس
بات میری بانی ءایہام ہے

قرآں کی سیر باغ پہ جھوٹی قسم نہ کھا
سیپارہ کیوں ہے غنچہ اگر تو ہنسا نہ ہو


شیخ شرف الدین مضمون(م 1734) کا شمار ایہام گوئی کی تحریک کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے شیخ شرف الدین مضمون کو حاتم اور ناجی کے بعد تیسرا بڑا ایہام گو شاعر قرار دیا جاتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام گوئی کے باوجود جدت اور شگفتگی کا عنصر نمایاں ہے ۔

مصطفی خان یک رنگ کی شاعری میں ایہام گوئی اس شدت کے ساتھ موجود نہیں جس قدر آبرو اور ناجی کے ہاں ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب پر ایہام گوئی کو مکمل طور پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ایہام گوئی کا ہلکا سا پرتو ان کی شاعری میں موجود ہے ۔

جدائی سے تری اے صندلی رنگ
مجھے یہ زندگانی دردسر ہے


ذیل میں بعض ایہام گو شعرا کا نمونہ کلام درج ہے ۔جس کے مطالعہ سے ان کے اسلوب کے بارے میں آگہی حاصل ہوسکتی ہے ۔

ٓٓاحسن اللہ احسن :
صبا کہیو اگر جاوے ہے تو اس شوخ دلبر سوں
کہ کر کے قول پرسوں کا گئے برسوں ہوئے برسوں


عبدالوہاب یکرو:
دیکھ تجھ سر میں جامئہ ململ
خوش قداں ہاتھ کو گئے ہیں مل


میر محمد سجاد :
ہم تو دیوانے ہیں جو زلف میں ہوتے ہیں
ورنہ زنجیر کا عالم میں نہیں ہے توڑا


اردو شاعری میں ایہام گوئی نے بلا شبہ اپنے عہد کے ادب پر اثرات مرتب کیے کئی تخلیق کار اس جانب مائل بہ تخلیق ہوئے ۔جب بھی کوئی تخلیق کار کسی بھی صورت میں اپنے عہد کے علم و ادب کو متاثر کرتا ہے تو بالواسطہ طور پر اس سے افکار تازہ کی سمت ایک پیش رفت کی امکانی صورت پیدا ہوتی ہے ۔جہد وعمل کے لیے ایک واضح سمت کا تعین ہو جاتا ہے ،جمود کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خوب سے خوب تر کی جانب سفر جاری رہتا ہے لیکن ایہام گوئی کے بارے میں صورت حال انتہائی غیر امید افزا رہی ۔ایہام گو شعرا نے الفاظ کا ایک ایسا کھیل شروع کیا جس کی گرد میں معنی اوجھل ہو گئے ۔لفظوں کی بازی گری نے اسلوب پر غلبہ حاصل کر لیا ،دروں بینی کی جگہ سطحیت نے لے لی ۔ایہام کو شعرا نے افکار تازہ کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں کی بلکہ قدامت پسند ی کی پامال راہ پر چلتے ہوئے حقائق کو خیال و خواب بنا دیا ۔الفاظ کے اس گورکھ دھندے میں مطالب و مفاہیم عنقا ہوتے چلے گئے۔قاری کا ناطقہ سر بہ گریباں تھا کہ اس کو کس چیز کا نام دے اور خامہ انگشت بہ دندان کہ ایہام گوئی کے متعلق کیا لکھا جائے ۔ایہام پر مبنی تحریرو ں کا تو مدعا ہی عنقا تھا۔بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تلمیحات ،مرکبات اور محاورات کے معانی میں ایہام کے ذریعے حس مزاح کو تحریک ملتی ہے ۔مرزا محمد رفیع سودا کے ہاں اس کا ہلکا سا پرتو ملتا ہے ۔کہتے ہیں آخری عمر میں مرزا محمد رفیع سودا دہلی سے ترک سکونت کر کے لکھنو چلے گئے اور نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے ۔ایک مرتبہ نواب آصف الدولہ شکار کو گئے سودا بھی ہمراہ تھے ۔ شکار کرتے ہوئے ”بھیلوں” کے جنگل میں نواب آصف الدولہ نے ایک شیر مارا۔اس موقع کی مناسبت سے سودا نے برجستہ کہا:

یارو!یہ ابن ملجم پیدا ہوا دوبارہ
شیر خدا کو جس نے ” بھیلوں“ کے بن میں مارا


یہاں شیر خدا سے مراد اللہ کی مخوق شیر ہے ۔اس میں مزاح نگار نے ناہمواریوں کا ہمدردانہ شعور اجاگر کر کے فن کارانہ انداز میں ایہام کے ذریعے مزاح پیدا کیا ہے ۔

ایہام گوئی اپنی نوعیت کے لحاظ سے کلاسیکیت کے قریب تر دکھائی دیتی ہے۔اس تحریک کے علم برداروں نے الفاظ کے اس کھیل میں اس قدر گرد اڑائی کہ حسن و رومان کے تمام استعارے قصہءپارینہ بن گئے ۔اردو کو مقامی اور علاقائی آہنگ سے آشنا کرنے میں ایہام گو شعرا نے اپنی پوری توانائی صرف کر دی ۔متعدد ایسے الفاظ زبان میں شامل کیے جو مانوس نہیں تھے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زبان میں ان الفاظ کو قبولیت نصیب نہ ہو سکی ۔تاہم کچھ الفاظ ایسے بھی تھے جن کو اپنی جگہ منانے میں کامیابی ملی ۔اس لسانی تجربے سے مستقبل میں مزید تجربات کی راہ ہموارہوئی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ رفتہ رفتہ اردو میں جذب ہونے لگے ۔ اردو شاعری میں ایہام گوئی کی تحریک یک بگولے کی طرح اٹھی اور سارے ماحول کو مکدر کرنے بعد گرد کی طرح بیٹھ گئی جب افق ادب پر مطلع صاف ہوا تو اس کا کہیں نام و نشاں تک دکھائی نہ دیا۔

ایہام گوئی محض الفاظ کی بازی گری کا نام ہے۔ شاعری کو تاریخ کی نسبت ایک وسیع اور جامع حیثیت حاصل ہے۔ ایہام گوئی میںایسی کوئی صفت نظر نہیں آتی ۔ اس عہد میں جن شعرانے ایہام گوئی پر توجہ دی ان میں سے شاہ حاتم اور ولی کے علاوہ کوئی بھی اپنا رنگ نہ جما سکا ۔ باقی سب ابتذال کی راہ پر چل نکلے ۔ علم وادب کے فروغ کے لیے یہ امر ناگزیرہے کہ درخشاں اقدار وروایات کو پروان چڑھایا جائے ۔جب تخلیق کا ر نظام اقدار کو پس پشت ڈالنے کی مہلک غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں تو تاریخ انھیں یکسر فراموش کردیتی ہے ۔ اخلاقیات سے قطع نظر ادبیات کے حوالے سے بہر حال ایہام گوشعرانے الفاظ کے مفاہیم اور معنوی لطافتوں اور نزاکتوں کے حوالے سے جو کام کیاوہ ناقابل فراموش ہے ۔ کثیر المعنویت کی اہمیت مسلمہ ہے ۔لفظ کی حرمت اور اسے برتنے کاقرینہ آنا چاہیے ۔ ایہام گو شعرا نے مرصع ساز کا کردار ادا کیاالفاظ کو مربوط انداز میں اشعار کے قالب میں ڈھال کر انھوں نے الفاط کو گنجینہ معانی کا طلسم بنادیا ۔تاریخ ادب میں ا س تجزیے کو ہمشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔


اردو شاعری Ω…ΫŒΪΊ Ψ§ΫŒΫΨ§Ω… گوئی
Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), Hamidullah Gul (Wednesday, March 21, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #7  
Old Friday, March 23, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default Anjuman Punjab

انجمن پنجاب

سال1857کے ہنگامے کے بعد ملک میں ایک تعطل پیدا ہوگیا تھا ۔ اس تعطل کودور کرنے اور زندگی کو ازسر نو متحرک کرنے کے لیے حکومت کے ایماءپر مختلف صوبوں اور شہروں میں علمی و ادبی سوسائٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔ سب سے پہلے بمبئی ، بنارس ،لکھنو ، شاہ جہاں پور ، بریلی اور کلکتہ میں ادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایسی ہی ایک انجمن لاہور میں قائم کی گئی جس کا پور ا نام ”انجمن اشاعت مطالب ِ مفیدہ پنجاب “ تھا جو بعد میں انجمن پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔
انجمن کا قیام جنوری 1865ءمیں عمل میں لایا گیا۔ اس انجمن کے قیام میں ڈاکٹر لائٹر نے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ لاہور میں جب گورنمنٹ کالج لاہور قائم ہواڈاکٹر لائٹر اس کالج کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر لائٹر کو نہ صرف علوم مشرقی کے بقاءاور احیاءسے دلچسپی تھی بلکہ انہیں یہ بھی احساس تھا کہ لارڈ میکالے کی حکمت عملی کے مطابق انگرےزی زبان کے ذریعے علوم سکھانے کا طریقہ عملی مشکلات سے دوچار تھا۔ ان باتوں کی بناءپر ڈاکٹر لائٹر نے اس خطے کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاح کا فیصلہ کیا۔ اور انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب کی داغ بیل ڈالی ۔
مقاصد:۔

انجمن کے مقاصد میں قدیم علوم کا احیاء، صنعت و تجارت کا فروغ ، دیسی زبان کے ذریعے علوم مفیدہ کی اشاعت، علمی ادبی اور معاشرتی و سیاسی مسائل پر بحث و نظر صوبے کے بارسوخ طبقات اور افسران حکومت کا رابطہ ، عوام اور انگریز حکومت کے درمیان موجود بدگمانی کو رفع کرنا شامل تھا۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے مختلف مقامات پر مدارس ، کتب خانے قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ رسائل جاری کئے گئے۔ سماجی اور تہذیبی ، اخلاقی ، انتظامی اور ادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔
رکنیت:۔

انجمن پنجاب کے پہلے جسلے میں جن لوگوں نے شرکت کی تھی وہ سرکاری ملازم ، روسا ءاور جاگیردار وغیر ہ تھے۔ لیکن جلد ہی اس کی رکنیت عام لوگوں کے لیے بھی کھول دی گئی۔ اس انجمن کے اعزازی دائمی سرپرست پرنس آف ویلز تھے جب کہ سرپرست گورنر پنجاب تھے۔ اس انجمن کے اراکین کی تعداد 250 تھی ۔
انجمن کے جلسے:۔

انجمن کا اہم کام مختلف مضامین پر ہفتہ وار مباحثوں کا سلسلہ شروع کرنا تھا۔ چنانچہ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو یہ اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ اس کی بازگشت سرکاری ایوان میں بھی سنی جانے لگی۔ اس انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مضامین پر بحث و نظر کی عام اجازت تھی۔ جب کہ انجمن پنجاب کا جلسہ خاص بالعموم انتظامی نوعیت کا ہوتا تھا۔ اور اس میں صرف عہدہ دار شریک ہوتے تھے۔ لیکن جلسہ عام میں شریک ہونے اور دانشوروں کے مقالات سننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس لیے انجمن پنجاب کی تحریک میں زیادہ اہمیت جلسہ عام کو حاصل تھی۔ اس انجمن کے ابتدائی جلسوں میں مولوی محمد حسین آزاد، پنڈت من پھول ، ڈاکٹر لائٹز ، بابو نوبین چندر رائے، بابو شاما چرن ، مولوی عزیز الدین اور پروفیسر عملدار حسین وغیرہ نے مضامین پڑھے ۔ ان میں سے بیشتر مضامین انجمن کے رسالے میں طبع ہوئے۔

محمد حسین آزادانجمن کے لیکچرار:۔

انجمن کے جلسوں میں جو دانشور مضامین پڑھتے تھے، ان میں سے سب سے زیادہ مضامین محمد حسین آزاد کے پسند کئے گئے ۔ اس لیے ڈاکٹر لائٹز نے انہیں انجمن کے خرچ پر مستقل طور پر لیکچرر مقرر کرنے کی تجویز منظور کروائی۔ جب محمد حسین آزاد کا تقرر اس عہدے پر کیا گیا ۔ تو آزاد نے موثر طور پر اپنے فرائض ادا کئے اور انجمن پنجاب کو ایک فعال تحریک بنا دیا۔ بحیثیت لیکچرار انجمن پنجاب میں محمد حسین آزاد کے ذمے یہ فرائض تھے کہ جو مضامین جلسوں میں پڑھے جانے والے پسند کئے جاتے تھے ان کو عوام میں مشہور کرنا، ہفتے میں دو تین لیکچر کمیٹی کے حسب منشاءپڑھنا، تحریری لیکچروں کو سلیس اور دلچسپ اردو میں پیش کرنا اور انجمن کے رسالے کی طباعت اور ترتیب مضامین وغیرہ کی درست شامل تھے۔
ان فرائض کی وجہ سے انجمن میں انھیں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ لیکچروں کی ترتیب و تنظیم ، مجالس کا اتنظام ، مضامین کی قرات اور اشاعت غرضیکہ انجمن پنجاب کے تمام امور عملی انجام دہی ، آزاد کی ذمہ داری تھی۔ آزاد نے اس حیثیت سے اتنی عمدہ خدمات انجام دیں کہ محمد حسین آزاد ادبی پیش منظر پر نمایاں ہوگئے ۔ محمد حسین آزاد نے انجمن کے جلسوں میں ایک جدت یہ کی انہوں نے جلسے کے اختتام پر روایتی مشاعرے کا اضافہ کر دیا تھا۔ اس سے عوامی دلچسپی زیادہ بڑھ گئی تھی۔
انجمن کے مشاعرے:۔

انجمن پنجاب کی شہرت کا سب سے بڑا سبب انجمن کے مشاعرے تھے۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں کا آغاز مئی 1874ءکو ہوا۔ کہا جاتا ہے۔ کہ مشاعروں کی بنیاد کرنل ہالرائیڈ ناظم تعلیمات پنجاب کی تحریک سے ہوئی۔ اس زمانے میں غزل کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ جبکہ غزل کے بارے میں آزاد کا خیال تھا کہ غزل کی طرز میں ایک خیال اول سے آخر تک اچھی طرح تضمین نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کے اجلاس منعقدہ 1876ءمیں ایک لیکچر بعنوان ”خیالات درباب نظم اور کلام کے موزوں کے۔“دیاتھا۔ اور اختتام پر اپنی مشہور نظم ”شب قدر“ پڑھ کر سنائی ۔ اس نظم سے مقصود یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر شاعر سلیقہ رکھتا ہو تو ہجر و صال ”عشق و عاشقی، شراب و ساقی اور بہار و خزاں کے علاوہ مناظر فطرت کو بھی شاعری کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔ آزاد کی تقریر اور ان کی نظم اس قدر دل پزیر تھی کہ جلسے کے اختیام پر محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کرنل ہالرائیڈ نے اس کی بے حد تعریف کی اور فرمایا: ”اس وقت مولوی صاحب نے جو مضمون پڑھا اور رات کی حالت پر اشعار سنائے وہ بہت تعریف کے قابل ہیں۔ یہ نظم ایک عمدہ نظام کا طرز ہے جس کا رواج مطلوب ہے۔“
کرنل ہالرائیڈ کے آخری جملے سے بالمعموم یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نظم جدید کی ترویج کرنل ہالرائیڈ کی ایما پر ہوئی
مشاعروں کا پس منظر:۔

مشاعروں کا سیاسی پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ ٧ اگست 1881ءکو وائسرائے ہند نے ملک کے مختلف صوبہ جات کے پاس ایک آرڈیننس بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں مسلمانوں کی قدیم زبانوں اور نیز دیسی زبانوں کی تعلیم دی جائے۔ مسلمان اساتذہ مقرر کئے جائیں اور عربی فارسی کی تعلیم میں اضافہ کیا جائے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وائسرے ہند کے اس حکم کی تعمیل میں پنجاب کے گورنر نے جب سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانے والی اردو کتابوں کو دیکھا تو انہوں نے ان کتابوں میں نظموں کی کمی کو محسوس کیا۔ اس کمی کی بناءپر گورنر نے دیسی نظموں کی ترویج کی خواہش ظاہر کی۔ گورنر کی خواہش کوعملی جامہ پہنانے کے لیے پنجاب کے ناظم تعلیمات کرنل ہالرائیڈ نے اردو نظم کے سلسلے میں مشاعروں کی تحریک شروع کرنے کا ارارہ کیا اور اس ضمن میں انہوں نے محمد حسین آزاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جو اس وقت ناظم تعلیمات پنجاب کے دفتر سے منسلک تھے ۔
جدت:۔

انجمن پنجا ب کے زیر اہتمام جو مشاعرے منعقد کئے جاتے تھے۔ ان میں ایک نئی جدت کی گئی تھی کہ ان مشاعروں کے لیے طرح مصرعہ نہیں دیا جاتا تھا بلکہ نظموں کے عنوان مقرر کئے جاتے تھے اور شعراءحضرات ان موضوعات پر طبع آزمائی کرتے اور ان موضوعات پر نظمیں لکھ کر لاتے اور مشاعرے میں سناتے۔
مشاعروں کی تفصیل:۔

انجمن پنجاب کے مشاعروں کا آغاز 1874ءمیں ہوا۔ پہلا مشاعرہ ٣ مئی 1874ءکو منعقد ہوا ۔ اس مشاعرے کے لیے کرنل ہالرائیڈ کی تجویز کے مطابق نظم کا موضوع ”برسات رکھا گیا۔ اس مشاعرے میں مولانا حالی نے پہلی بار شرکت کی اور اپنی مشہور نظم”برکھا رت“ سنائی تھی۔ محمد حسین آزاد نے بھی برسات کے موضوع پر نظم سنائی تھی۔ مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد کے علاوہ اس پہلے مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعراءمیں الطاف علی ، ذوق کاکوروی وغیر ہ شامل تھے
اس مشاعرے کے انعقاد کے بعد انجمن پنجاب کے زیر اہتمام موضوعی مشاعروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مشاعروں کا سلسلہ 30 مئی 1874ءسے شروع ہواور مارچ 1875ءتک جاری رہا۔ اس دوران کل دس مشاعرے ہوئے اور جن موضوعات پر مشاعروں مےں نظمیں پڑھ گئیں ان میں برسات ، زمستان، امید ، حب وطن ، امن ، انصاف، مروت ، قناعت ، تہذیب، اور اخلاق شامل تھے۔
ان مشاعروں میں شرکت کرنے والے شعراءکے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی کے علاوہ کوئی دوسرا صف اول کا شاعر شریک نہیں ہوا۔ حالی بھی انجمن کے صرف چار مشاعروں میں شریک ہوسکے تھے۔ کیونکہ بعد میں وہ دہلی چلے گئے تھے۔ ان مشاعروں میں مولانا الطاف حسین حالی نے جو نظمیں پڑھی تھیں ان کے نام یہ ہیں۔ ”برکھا رت“، ”نشاط امید“ ”حب وطن“ اور ”مناظر رحم انصاف “۔
لاہور سے دلی چلے جانے کے باوجود مولانا الطاف حسین حالی نے نظمیں لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ چنانچہ انھوں نے جو نظمیں لکھیں ان میں مسدس حالی ، مناجات بیوہ ،چپ کی داد اور شکوہ ہند ، واعظ و شاعر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں میں محمد حسین آزاد نے جو نظمیں پڑھیں ان میں شب قدر، صبح امید، ابر کرم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں کے ذریعہ نظموں کا ایک وافر ذخیرہ جمع ہوگیا۔ جس نے آنے والے دور میں نظم کی تحریک اور جدید شاعری کے رجحان کی رہنمائی کی۔
ادب پر اثرات:۔

انجمن پنجاب نے ادب پر جو گہر ے اثرا ت مرتب کئے ۔ ان کا مختصر ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابتداءمیں ذکر ہو چکا ہے۔ کہ انجمن پنجاب کے قیام کا بنیادی مقصد قدیم مشرقی علوم کا احیا اور باشندگان ملک میں دیسی زبان کے ذریعے علوم مفیدہ کی اشاعت وغیرہ تھی ۔ اس کے لیے طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ انجمن کے جلسوں میں مضامین پڑھے جاتے تھے اور اس طریقہ کار کا بڑا فائدہ ہوا۔اور اردو ادب پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوئے۔
مجلسی تنقیدکی ابتدا:۔

انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مضامین پر بحث و تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ انجمن کے اس طریقہ کار کی وجہ سے شرکائے جلسہ کو بحث میں حصہ لینے علمی نقطہ پیداکرنے اور صحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی تربیت ملی۔ ہندوستان میں مجلسی تنقیدکی اولین روایت کواسی انجمن نے فروغ دیا۔ علمی امور میں عالی ظرفی ، کشادہ نظری اور وسعت نظر کے جذبات کی ترویج کی گئی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں جب حلقہ ارباب ذوق کی تحریک چلی تو اس میں بھی مجلسی تنقید کے اسی انداز کو اپنایا۔ جس قسم کے تنقید کی بنیاد انجمن پنجاب نے ڈالی تھی ، اسی کے نتیجے میں پھر حالی نے اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب”مقدمہ شعر و شاعری“ لکھی۔

نیچرل شاعری کا آغاز:۔

انجمن پنجاب کے مشاعروں کی وجہ سے اردو میں نیچرل شاعری کا رواج ہوا۔ نیچرل شاعری سے مراد یہ ہے کہ ایسی شاعری جس میں مبالغہ نہ ہو، صاف اور سیدھی باتوں کو اس انداز سے بیان کیا گیا جائے کہ لوگ سن کر لطف اندوز ہوں۔ چنانچہ انجمن پنجاب کے مشاعروں میں محمد حسین آزاد اور مولانا حالی نے اپنی نظمیں پڑھ کر اردو میں نیچرل شاعری کی بنیاد ڈالی جس کا بعد میں اسماعیل میرٹھی نے تتبع کیا۔حالی کی نظم برکھا رت سے اس کی مثال ملاحظہ ہو۔
گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار
اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار
تھی لوٹ سی پڑی چمن میں
اور آگ سی لگ رہی بن میں
بچوں کا ہواتھا حال بے حال
کملائے ہوئے تھے پھول سے گال
اردو شاعری میں انقلاب:۔

انجمن کے مشاعروں نے اردو شاعری میں ذہنی ، فکری اور تہذیبی انقلاب پیدا کیا۔ حب الوطنی ، انسان دوستی ، مروت ، محنت ، اخلاق اور معاشرت کے مختلف موضوعات کو ان مشاعروں کا موضوع بنایا گیا۔ چنانچہ ان مشاعروں نے فرضی ، خیالی اور رسمی عشقیہ شاعری کو بدل کر رکھ دیا ۔ مبالغہ آمیز خیالات کو چھوڑ کر ہر قسم کی فطری اور حقیقی جذبات کو سادگی اور صفائی سے پیش کرنے پر زور دیا جسے اس زمانے میں نیچر ل شاعری کا نام دیا گیا۔
مناظر قدرت:۔

مناظر قدرت کا نظموں میں بیان اگرچہ کوئی نئی چیز نہیں اور نہ ہی یہ انجمن پنجاب کے مشاعروں کی پیداوار ہے ۔ اس کے متعدد نمونے ہمیں نظیر اکبر آبادی کے ہاں ملتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انجمن پنجاب کے مشاعروں سے قبل مناظر قدرت نے کوئی مستقل حیثیت پیدا نہیں کی تھی۔ اور نظیر کے علاوہ کسی دوسرے شاعرے نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی۔ لیکن اُس میں مناطر قدرت کے بیان نے ایک مستقل صورت اختیار کی اور س کا سنگ بنیاد سب سے پہلے انجمن پنجاب کے مشاعرہ میں مولانا حالی نے رکھا۔ مولانا حالی نے برکھا رت کے نام سے جو نظم لکھی اس میں برسات کے مختلف پہلوئوں کی تصویر کھینچ کر فطرت کی ترجمانی کی ۔ جبکہ آزاد نے ابر کرم میں قدرت کے مناظر کی عکاسی کی ۔بعد کے شعراءمیں اسماعیل میرٹھی ، شوق قدوائی، بے نظیر نے مناظر فطرت پر اچھی نظمیں لکھیں۔
برسات کا بج رہا ہے ڈنکا
اک شور ہے آسماں پہ برپا
پھولوں سے پٹے ہوئے ہیں کہسار
دولہا بنے ہوئے اشجار
چلنا وہ بادلوں کا زمیں چوم چوم کر
اور اٹھنا آسماں کی طرف جھوم جھوم کر
بجلی کو دیکھو آتی ہے کےا کوندتی ہوئی
سبز ے کو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روندتی ہوئی


حب وطن :۔

حب وطن کے جذبات قدیم شاعری میں محدود پیمانے پر ملتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وطنی شاعری کی وسیع پیمانے پر بنیاد انجمن پنجاب کے مشاعروں کی مرہون منت ہے۔ اس عنوان پر مولانا حالی اور محمد حسین آزاد نے نظمیں لکھیں۔ ان بزرگوں کے بعد چکسبت ،علامہ اقبال اور سرور جہاں آبادی نے حب وطن کے جذبات کو بڑے موثر انداز میں بیا ن کیا ذیل میں حالی کی نظم حب وطن کے چند شعر ملاحظہ ہوں
تم ہر ایک حال میں ہو یوں تو عزیز
تھے وطن میں مگر اور ہی چیز
آن اک اک تمہاری بھاتی تھی
جو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی
اے وطن ای میر بہشت بریں
کیاہوئے تیرے آسمان و زمین


اخلاقی شاعری:۔

اردو میں اخلاقی شاعری کا عنصر زمانہ قدیم سے چلا آرہاہے۔ لیکن حالی اور آزاد کے دور میں برصغیر کے حالات و واقعات نے بڑی تیزی کے ساتھ پلٹا کھایا ان بزرگوں نے قوم کو اخلاقی سبق سکھانے اور افراد قوم کو سعی کوشش ، صبر و استقلال اور محنت و مشقت سے کام لینے کی تلقین کرنی پڑی۔ چنانچہ محمد حسین آزاد ، مولانا حالی اور اسماعیل میرٹھی نے ان عنوانات پر بکثرت نظمیں لکھیں۔
حالی کے ادبی مزا ج میں تبدیلی:۔

انجمن پنجاب کے مشاعروں کے اثرات نے مولانا حالی کے مزج کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان مشاعروں کے آغاز سے قبل مولانا حالی عیسائی پادری عماد الدین کے ساتھ مناظروں میں الجھے ہوئے تھی۔ لیکن ان مشاعروں نے ان کا مزاج بدلا اور وہ شاعری کی طرف متوجہ ہوئے اور مدوجزر اسلام جیسی طویل نظم لکھ ڈالی
اس طرح مجموعی طور دیکھا جائے تو انجمن پنجاب نے اردو ادب میں جدید شاعری اور تنقید پر دور رس اثرات مرتب کئے اردو نظم کی موجودہ شکل اسی ادارے کی بدولت ہے۔ اور بعد میں آنے والے شعراءاسی روایت کو آگے لے کر چلے اور اُسے مزید آگے بڑھایا۔

http://ur.wikipedia.org/
Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), Hamidullah Gul (Monday, April 16, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #8  
Old Friday, March 23, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default


انجمن کے قیام کا پسِ منظر

۴۶۸۱ءمیں سر رشتہ تعلیم پنجاب کے ڈائریکٹر میجر فلر تھے۔ میجر صاحب اردو کے بڑے شائق تھے۔ انہوں نے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اردو کی تدریس کے لئے خصوصی اقدامات کئے۔ انھی دنوں کرنل ہالرائیڈ محکمہ تعلیم کے سیکریڑی تھے۔اب یہ حسنِ اتفاق کہ شرقی علوم کے نامور انگریز ماہر ڈاکٹر لائٹر بھی لاہور آگئے۔ ڈاکٹر لائٹر اردو، فارسی، عربی کے عالم تھے۔ انہوں اردو سے خاص دلچسپی تھی۔انہوں نے میجر فلر اور کرنل ہالرائیڈ کو مشورہ دیا کہ اردو کو ترقی دینے اور اردو میں مختلف نوعیت کے مفید مضامین شائع کرانے کے لیے ایک انجمن قائم کی جائے۔


انجمن کاقیام

ڈاکٹر لائٹر کی تجویز پر اسی سال کرنل ہالرائیڈ اور میجر فلر نے ایک انجمن قائم کی تھی جس کا پورا نام انجمنِ اشاعتِ مطالب پنجاب تجویز کیا گیا۔ بعد میں یہ انجمن اپنے مختصر نام انجمنِ پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔


انجمن کے مقاصد

انجمن کے بنیادی مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱) اردو زبان و ادب کی ترقی اور اسے رواں اور سہل بنانا۔

(۲) اردو شاعری کو مفید اور بامقصد بنانا

(۳) اردو میں مفید اور بامقصد تحریر کی تصنیف


انجمنِ پنجاب اور مولانا محمد حسین آزاد

جس زمانے میں مولانا محمد حسین آزاد لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں پندرہ روپے ماہوار کے ملازم ہوئے۔ اُس وقت انجمن کے قیام کی کاغذی کارروائیاں ہورہی تھیں۔ کرنل ہالرائیڈ مولانا محمد حسین آزاد سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے آزاد کو اس انجمن میں شمولیت کی دعوت دی۔ مولانا چند برسوں میں ترقی کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کے اخبار پنجاب میگزین کے ایڈیٹر ہوچکے تھے۔ انھوں نے اُس دعوت کو قبول کرلیا۔ مولانا آزاد کی شمولیت کے بعد انجمن سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔


مولانا حالی اور انجمنِ پنجاب

۶۶۸۱ءمیں مولانا الطاف حسین حالی بھی لاہور آچکے تھے۔ مولانا حالی نے بھی انجمن کی سرگرمیوں میں آزاد کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔


انجمن کے مشاعرے

۴۷۸۱ءمیں انجمنِ پنجاب کے زیرِ اہتمام جدید طرز کے شاعروں کا آغاز ہوا ۔جس میں مولانا آزاد نے جدید شاعری پر ایک مقالہ پڑھا۔ نیز شام کی آمد اوررات کی کیفیت پر ایک طویل نظم پڑھی۔ ان شاعروں میں مولانا الطاف حسین حالی نے بھی متعدد یادگار نظمیں پڑھیں۔ آزاد کی مشہور نظمیں مثنوی ابرکرم، برکھارت اور صبح اُمید وغیرہ اسی دور کی یادگار ہیں جب کہ مولانا حالی نے برکھارُت، چپ کی داد، حبِ وطن، امید اور رحم و ازماف جیسی نظمیں لکھیں۔ اس طرح اردو شاعری کا دورِ جدید شروع ہوا۔ اگر چہ مشاعروں کا یہ سلسلہ صرف گیارہ برس جاری رہا اور بعض اختلافات کی بناء پر منقطع ہوگیا مگر اس مختصر عرصے میں شاعروں کو نیا راستہ مل گیا۔


انجمن کی نثری خدمات

انجمن کے زیر اہتمام مختلف نثر نگاروں نے متعدد اہم اور مفید موضوعات پر اردو میں مضامین لکھے۔ جو حکومتِ پنجاب کے سرکاری رسائل و جرائد بالخصوص اتالیق پنجاب اور پنجاب میگرین میں شائع ہونے کے علاوہ کتابی صورتوں میں بھی مرتب کئے گئے۔ کرنل ہالرائیڈ کی فرمائش پر مولانا محمد حسین آزاد نے اردو کی کتابیں قوائد اردو، قصص ہند اور نصیحت کے کرن پھول وغیرہ تصنیف کیں۔ مولانا محمد حسین آزاد نے بچوں کے لئے جو درسی کتب تحریر کی ہیں ان کی نظیر مولانا اسمعیل میرھٹی کے علاوہ اور کسی مصنف یا ماہرِ تعلیم کی تصانیف میں ہیں ملتی۔ انجمن سے وابستگی کے دوران مولانا حالی نے اردو نثر میں ایک مذہبی رسالہ لکھا۔ اس کے علاوہ دیگر بکثرت مضامین تحریر کئے۔
Reply With Quote
The Following 4 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), Hamidullah Gul (Friday, March 23, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #9  
Old Saturday, March 31, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default Fort William College

فورٹ ولیم کالج کی اردوخدمات
شجاعت علی سندیلوی

آسان اور عام فہم اردو نثر کے آغاز اورارتقا میں فورٹ ولیم کالج کی خدمات کواولیت بھی حاصل ہے اور اہمیت بھی۔ یہ کالج ۰۰۸۱ءمیں اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں نووارد انگریزوں کو یہاں کی زبان اور معاشرت سے واقفیت ہوجائے کیونکہ: ”برطانوی قوم کے مقدس فرض، ان کے حقیقی مفاد، ان کی عزت اوران کی حکمت عملی کا اب یہ تقاضا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی سلطنت کے حدود میں عمدہ عمل داری قائم کرنے کے لئے مناسب اقدام کئے جائیں۔“اور عمدہ عمل داری قائم کرنے کےلئے لارڈ ویلز نے سب سے اہم اور مفید کام فورٹ ولیم کالج کاقیام سمجھا، اس نے تعلیم کا ایک وسیع منصوبہ بنایا اور نصاب تعلیم میں ریاضی ، تاریخ ، جغرافیہ ، سائنس، معاشیات ، مغربی اور مشرقی زبانیں ، قوانین وغیرہ کو داخل کیا اور ان کے لئے علاحدہ علاحدہ پروفیسر مقرر کئے۔ ہندوستانی زبان کے شعبہ کا صدر، مشہور مستشرق اور ماہر تعلیم ڈاکٹر جان گلکرسٹ کو مقرر کیا گیا۔


گلکرسٹ کو ہندوستانی زبان (اردو)سے خاص لگاﺅ تھا درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا تجربہ ، فورٹ ولیم کالج میںآنے سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ وہ ہندوستانی (اردو) زبان کو ہندوستان گیر سمجھتا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں مختلف مقامات پر جانے اور رہنے کے بعد وہ لکھتا ہے:

”جس گاﺅں اورجس شہر سے میرا گزر ہوا وہاں اس زبان کی مقبولیت کی جو میں سیکھ رہا تھا مجھے ان گنت شہادتیں ملیں۔“

ہندوستانی زبان کے شعبہ کی یہ خوش قسمتی سمجھنا چاہئے کہ اس کا سربراہ ایک ایسا شخص تھا جو ہندوستانی زبان اور تعلیم کا ماہر، تصنیف و تالیف کادل دادہ، اردو کی ترقی و ترویج کا شائق ،علم دوست تجربہ کار، دانش ور اور دانش مند تھا

بابائے اردو ڈاکٹر عبد الحق کے الفاظ میں:
”بلا مبالغہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو احسان دلی نے اردو شاعری پرکیا تھا اس سے زیادہ نہیں تواسی قدر احسان گلکرسٹ نے اردو نثر پر کیا ہے۔“


اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ گلکرسٹ کی بدولت فورٹ ولیم کالج اور اس کا ہندوستانی شعبہ اردو کی لسانی اور ادبی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔گلکرسٹ مشکل سے چار برس تک ہندوستانی شعبہ کا صدر رہا اس قلیل مدت میں اس نے شعبہ کو بڑی ترقی دی۔ درس و تدریس کے علاوہ اس نے تصنیف و تالیف کا باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لئے اس نے اپنے شعبہ میں مصنفین، مترجمین کی تقرری کی۔ منشی اور ماتحت منشی بھی رکھے ، چھاپہ خانہ کھولا ،اردوٹائپ سے طباعت شروع کی ،عام اور بے پڑھے لکھے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اور نووارد انگریزوں کو اردو کالب و لہجہ ، تلفظ سمجھانے کے لئے قصہ خواں مقرر کئے جو دلچسپ قصے سناکر اردو بولنے اور پڑھنے کے لئے رغبت دلاتے تھے۔ ہندوستانی مصنفین کو ان کی بہترین تصنیف پر انعام دیئے جانے کی کالج کونسل سے سفارش کرکے انعام دلایا۔ ایسے مصنفین کو بھی انعام دلایا جوکالج سے وابستہ نہیں تھے۔ کتابوں کی طباعت کے لئے امداد دیئے جانے کی راہ نکالی، کتابوں کے فروخت کرنے کا پروگرام بنایا۔ ہندوستانی شعبے میں، اس عہد کے نامور اردو، ہندی ادیبوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میر بہار علی حسینی، میر امن، غلام غوث، میر حیدر بخش حیدری، تارنی چرن متر کندن لال، کاشی راج وغیرہ ۴۱ حضرات کا تقرر کیا گیا۔ میر بہادر علی حسینی چیف منشی اور تارنی چرن مترا سکنڈ بالترتیب دو سو اور سو روپئے ماہوار اور بقیہ منشی ۰۴ روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ جیسے جیسے اردو شعبہ کاکام بڑھتا گیا اورطلباءکی تعداد میںاضافہ ہوتا گیا۔ مزید منشیوں کا تقرر ہوتا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک خوش نویس ، ایک ناگری نویس ، ایک بھاکا منشی اور ایک قصہ خواں کی بھی خدمات حاصل کی گئیں ۔طالب علموں کو کالج کے اوقات کے علاوہ تعلیم دینے کے لئے سندی منشی بھی مقرر کئے گئے جن کے اخراجات طالب علم ہی برداشت کر تے تھے۔اس طرح ۲۰۸۱ میں ہندوستانی شعبے کے عملے کی تعداد ۸۴ تک پہونچ گئی تھی جن میں شیر علی افسوس، مرزا علی لطف، مظہر علی خاں ولا، کاظم علی خاں جوان خلیل خاںاشک، نہال چند لاہوری، بینی نرائن جہاں، مرزا جان طیش، اکرام علی، للو لال جی وغیرہ نے اپنی تصانیف کے ذریعہ سے اردو کی بیش بہا خدمات انجام دیں اور اردونثر کو مقبول عام بنایا۔


گلکرسٹ کی کوشش یہ تھی کہ ہندوستانی شعبہ اور ہندوستانی زبان (اردو) ہر اعتبار سے ترقی کرے، اس کاادب بھی ترقی یافتہ زبانوں کے ادب کی طرح ممتاز درجہ حاصل کرکے خاص وعام میں مقبول ہوجائے اس کوخوب سے خوب تر بنانے کی دھن تھی زبان کی توسیع و اشاعت کے سلسلے میں اس نے کالج کونسل کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا، کونسل نے سنی ان سنی کردی۔ گلکرسٹ کوجب یہ یقین ہوگیا کہ وہ اپنے پروگرام کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا تو ۳۲فروری ۴۰۸۱ءکو اس نے استعفا دے دیا۔ کالج کے ذمہ داروں نے اس کی خدمات کااعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ منظور کر لیا۔

گلکرسٹ کا عہد ، ہندوستانی شعبے خصوصاً اردو کے لئے، تصنیف و تالیف اور تعلیم کے اعتبار سے ، انتہائی اہم اور مفید تھا۔ اس کی سر پرستی اوررہنمائی میں، آسان اردو نثر لکھنے کی ابتدا ہوئی،اسی نے اردو کے مشاہیر اہل زبان کی خدمات حاصل کیں اور ان سے ایسی کتابیں لکھوائیں جن میںسے بعض ہمیشہ زندہ رہیں گی۔“ وہ خود بھی صاحب قلم تھا اور اس نے زبان ، قواعد زبان ، اورلغت وغیرہ پراعلیٰ درجہ کی کتابیں لکھیں۔ اس نے ہندوستانی زبان کے مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لئے، ان کی کتابوں کی طباعت کے لئے امداد دینے کی سفارش پر غور کرکے منظور کر لیا اس کے زمانے میںچوالیس کتابوںپرانعامات دیئے گئے۔ گلکرسٹ کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہواکہ اردو میں مختلف موضوعات پرکتابیں لکھی گئیں یاترجمہ کی جانے لگیں ۔ گلکرسٹ کے چلے جانے کے بعد ان کے جانشینوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔


فورٹ ولیم کالج نے اپنے مختصر زمانے میں جو لٹریچر پیدا کردیا اورجتنی کتابیں تصنیف ، تالیف اور ترجمہ کرادیں، پورے ملک میں اتنی کتابیں نہیں لکھی گئیں اور زبان و اسلوب کے لحاظ سے تو ایک کتاب بھی ایسی نہی ہے جو ان کتابوں کی طرح عام فہم اور مفیدہو۔ فورٹ ولیم کالج کے مصنفین سے زیادہ تر ایسی کتابیں لکھوائی گئیں جو عام دلچسپی یعنی، تعلیمی ،اصلاحی، اخلاقی، تاریخی ہوں۔ جن سے ہندوستان کے مذہبی، سماجی، معاشی، حالات معلوم ہوں، زبان عام فہم ،دلچسپ اور رواں ہو۔ اسلوب ،سیدھا سادا اور سلجھاہوا ہو۔ میر امن کے الفاظ میں کہ گلکرسٹ نے فرمایا:
”قصے کو ٹھیٹ ہندوستانی زبان میں جو اردو کے لوگ ، ہندو، مسلمان، عورت ، مرد ، لڑکے ، بالے، خاص و عام، آپس میں بولتے چالتے ہیں ترجمہ کرو۔ موافق حکم حضور کے میں نے بھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔ “

فورٹ ولیم کالج کی کتابوں میں سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت ، میر امن کی اسی کتاب کو نصیب ہوئی، متعدد غیر ملکی زبانوں ، انگریزی، فرانسیسی، پر تگالی، لاطینی میں ترجمے ہوئے۔ میر امن کی زبان دلی کی ٹکسالی زبان ہے ، روز مرہ اور محاورہ کی چاشنی بیان کی سادگی و دلکشی ، منظر نگاری ، قومی و ملکی خصوصیات نے، باغ و بہار کو سدابہار بنادیا ہے ،باغ و بہار کے بعد میر امن نے دوسری کتاب گنج خوبی لکھی لیکن اس کو باغ و بہار جیسی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔


میر امن کے علاوہ چند دوسرے مشہور لکھنے والے اور ان کی مقبول اور اہم کتابیں حسب ذیل ہیں: حیدر بخش حیدری (آرائش محفل، گلزار دانش اور شعرائے اردو کا تذکرہ گلشن ہند) مظہر علی خاں ولا (سنت گلشن ۔ تاریخ شیر شاہی) میر بہادر علی حسینی (اخلاق ہندی) مرزا علی لطف (تذکرہ گلشن ہند)میر شیر علی افسوس (باغ اردو) میرزا کاظم علی جوان (شکنتلا ڈرامہ) خلیل خاں اشک (داستان امیر حمزہ)نہال چند لاہوری (مذہب عشق) بینی نرائن جہاں (دیوان جہاں۔اردو شعراءکا تذکرہ) للو لال جی (سنگھاسن بتیسی)


ان چند کتابوں سے ہی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ فورٹ ولیم کالج نے مختصر مدت میں اردو کی ترقی اور ترویج کے لئے جو گراں قدر خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد گار رہیں گی۔پونے دو سو برس سے زیادہ زمانہ گزر جانے کے باوجود فورٹ ولیم کالج کی بیش تر کتابیں آج بھی زبان و بیان کی شیرینی و دل کشی میںاپنا جواب نہیں رکھتیں۔



فورٹ ولیم کالج کی اردو خدمات کااختصار یہ ہے

(۱)
فورٹ ولیم کالج ، غیر ملکیوںکا پہلا کالج ہے جس نے ہندوستانی زبان کی تعلیم و ترقی ،ترویج و اشاعت کی طرف توجہ دی اور اس غرض سے اس نے ہندوستانی زبان کا باقاعدہ شعبہ قائم کیا۔
(۲)
ہندوستانی زبان کے مشہور ادیبوں کی خدمات حاصل کیں اور ان
سے کتابیں لکھوائیں۔
(۳)
دوسری زبانوں کی کتابوں کے تراجم کرنے کا اہتمام کیا۔
(۴)
کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لئے پریس قائم کیا اورٹائپ سے چھپائی کاانتظام کیا۔
(۵)
کالج نے قصے کہانیوں کی کتابوں کے علاوہ دوسرے مفید اور دلچسپ موضوع کی بھی کتابیں۔ (قواعد ) لغت ،تاریخ، تذکرہ، مذہب ،اخلاق وغیرہ لکھوائیں۔
(۶)
عمدہ کتابوں پر انعامات دینے اور کتابوں کی طباعت کے لئے امداد دینے کا آغاز کیا۔
(۷)
اردو نثر کو سلیس ، عام فہم بنانے پر خاص توجہ دی۔ سچ تو یہ ہے کہ فورٹ ولیم کالج نے اردو نثر کو، زندگی ، توانائی ،عطا کی اور اسی کی بدولت آسان نثر نگاری کا رواج ہوا۔
(۸)
ہندوستان میں یہ پہلا علمی و ادبی ادارہ تھا جس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کوبھی اپنا نصب العین بنایا۔
(۹)
فورٹ ولیم کالج نے اردو نثر کے ایسے اعلیٰ نمونے پیش کئے اور اتنی بے مثل کتابیں لکھوائیں کہ جن سے اردو ادب کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ ہوا۔

http://urdutehqiq.blogspot.com/2009/...post_5233.html
Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), Hamidullah Gul (Monday, April 16, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014)
  #10  
Old Saturday, March 31, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default Fort William College

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انگریزوں نے یہ کالج سیاسی مصلحتوں کے تحت قائم کیا تھا۔ تاکہ انگریز یہاں کی زبان سیکھ کر رسم و رواج سے واقف ہو کر اہل ہند پر مضبوطی سے حکومت کر سکیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فورٹ ولیم کالج شمالی ہند کا وہ پہلا ادبی اور تعلیمی ادارہ ہے جہاں اجتماعی حیثیت سے ایک واضح مقصد اور منظم ضابطہ کے تحت ایسا کام ہوا جس سے اردو زبان و ادب کی بڑ ی خدمت ہوئی۔


اس کالج کے ماتحت جو علمی و ادبی تخلیقات ہوئیں جہاں وہ ایک طرف علمی و ادبی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں تو دوسری طرف ان کی اہمیت و افادیت اس بناءپر بھی ہے کہ ان تخلیقات نے اردو زبان و ادب کے مستقبل کی تعمیر و تشکیل میں بڑا حصہ لیا۔خصوصاً ان تخلیقات نے اردو نثر اور روش کو ایک نئی راہ پر ڈالا۔


فورٹ ولیم کالج کے قیام سے قبل اردو زبان کا نثری ذخیرہ بہت محدودتھا۔ اردو نثر میں جو چند کتابیں لکھی گئی تھیں ان کی زبان مشکل ، ثقیل اوربوجھل تھی۔ رشتہ معنی کی تلاش جوئے شیر لانے سے کسی طرح کم نہ تھی۔ فارسی اثرات کے زیراثر اسلوب نگارش تکلف اور تصنع سے بھر پور تھا۔ ہر لکھنے والا اپنی قابلیت جتانے اور اپنے علم و فضل کے اظہار کے لئے موٹے موٹے اور مشکل الفاظ ڈھونڈ کر لاتا تھا۔ لیکن فورٹ کالج کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس پر تکلف انداز تحریر کے خارزار سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی۔ سادگی ، روانی ، بول چال اور انداز ، معاشرے کی عکاسی وغیرہ اس کالج کے مصنفین کی تحریروں کا نمایاں وصف ہے۔



فورٹ ولیم کالج کی بدولت تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ ترجمے کی اہمیت بھی واضح ہوئی ۔ منظم طور پر ترجموں کی مساعی سے اردو نثر میں ترجموں کی روایت کا آغاز ہوا اور انیسویں اور بیسویں صدی میں اردو نثر میں ترجمہ کرنے کی جتنی تحریکیں شروع ہوئیں ان کے پس پردہ فورٹ ولیم کا اثر کار فرما رہا۔


فورٹ ولیم کالج کی بدولت تصنیف و تالیف کے کام میں موضوع کی افادیت اور اہمیت کے علاوہ اسلوب بیان کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی ۔ یہ محسوس کیا گیا جس قدر موضوع اہمیت کا حامل ہے اسی قدر اسلوب بیان ، اسلوب بیان کی سادگی، سلاست اور زبان کا اردو روزمرہ کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ تاکہ قاری بات کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مطالب کو سادہ ، آسان اور عام فہم زبان میں بیان کیاجائے ۔



فورٹ ولیم کالج کے مصنفین کی مساعی کی بدولت اردو زبان بھی ایک بلند سطح پر پہنچی ۔ فورٹ ولیم کالج کی اردو تصانیف سے قبل اردو زبان یا تو پر تکلف داستان سرائی تک محدود تھی یا پھر اسے مذہبی اور اخلاقی تبلیغ کی زبان تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن فورٹ ولیم کالج میں لکھی جانے والی کتابوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو زبان میں اتنی وسعت اور صلاحیت ہے کہ اس میں تاریخ ، جغرافیہ ، سائنس ، داستان ، تذکرے ، غرضیکہ ہر موضوع اور مضمون کو آسانی سے بیان کے جا سکتا ہے۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/فورٹ_ولیم_کالج
Reply With Quote
The Following 5 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Friday, April 06, 2012), Hamidullah Gul (Saturday, March 31, 2012), kainateeq (Wednesday, September 03, 2014), Maria The Chemist (Tuesday, July 08, 2014), MorningLark (Thursday, January 08, 2015)
Reply

Tags
tareekh urdu adab, urdu ka aaghaz, urdu zuban aur adab

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
Important urdu mcqs for lecturers naveed143smile PPSC Lecturer Jobs 0 Thursday, September 29, 2011 09:50 AM
History of Urdu Literature sara soomro General Knowledge, Quizzes, IQ Tests 0 Monday, September 28, 2009 07:44 PM
Urdu Newspapers Qurratulain Journalism & Mass Communication 0 Sunday, April 23, 2006 11:26 PM
*`~Urdu Language*`~ sibgakhan Urdu Literature 0 Wednesday, February 08, 2006 05:13 PM


CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.