Friday, April 26, 2019
06:54 PM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > General > News & Articles

News & Articles Here you can share News and Articles that you consider important for the exam

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #1  
Old Wednesday, June 22, 2011
rashidjunaid's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Feb 2010
Posts: 7
Thanks: 0
Thanked 6 Times in 4 Posts
rashidjunaid is on a distinguished road
Default فوج میں امریکہ مخالف جذبات کے نمائندے

کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ مبینہ تعلقات پر زیرحراست پاکستانی فوج کے بریگیڈیئر علی خان، ان کے بعض ساتھیوں اور سینئر افسران کے مطابق، گزشتہ کئی سالوں میں پاکستانی فوج میں امریکہ مخالف جذبات کے نمائندے کے طور پر سامنے آئے تھے۔

انیس سو اٹھاون میں میانوالی کے ایک گاؤں کے غریب خاندان کے صوبیدار مہر خان کے گھر پیدا ہونے والے علی خان نے انیس سو اناسی میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔


وہ اپنے گولڈ میڈل اور شاندار سروس ریکارڈ کے باعث پاکستانی فوج کے بہترین افسران میں شمار ہوتے تھے۔ اپنے ریکارڈ کے مطابق وہ تقرریوں اور ترقیوں کی دوڑ میں نمایاں حیثیت میں کامیابی کی منازل طے کرتے رہے یہاں تک کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گرد حملے ہوئے اور پاکستانی فوج نے امریکہ کو افغانستان میں فوجی کارروائی کے لیے فوجی تعاون فراہم کرنا شروع کر دیا۔

بریگیڈیئر علی خان اس وقت کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں کورس میں شامل تھے جس کے بعد ان کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی تقریباً یقینی تھی۔ بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کوئٹہ پہنچے اور سٹاف کالج سے خطاب کیا۔ سوال و جواب کی نشست شروع ہوئی۔ بریگیڈئر علی خان نے مائیک سنبھالا اور تقریر نما سوال داغ دیا۔

لب لباب اس جذباتی تقریر کا یہ تھا کہ جنرل مشرف کو وہ معاہدہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے جس کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ اس تعاون کی حدود و قیود کا واضح تعین ہونا چاہیے۔

اس روز سٹاف کالج میں موجود ایک سینئر افسر کے بقول جنرل مشرف نے اجلاس ختم ہونے کے بعد بریگیڈیئر علی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد بورڈ ہوا لیکن بریگیڈیئر علی، بریگیڈیئر ہی رہے۔ ان کے ساتھی ترقی پا کر پہلے میجر اور پھر لیفٹینٹ جنرل بن گئے۔

ان کے کورس کے ساتھیوں، سینئرز اور جونئیر افسران سب کو توقع تھی کہ پاکستانی فوج کا یہ سینئر ترین بریگیڈئر اب ریٹائرمنٹ لے ہی لے گا۔ لیکن علی خان نے سب کو حیران کر دیا یہ کہ کر کہ وہ ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے بلکہ فوج میں رہتے ہوئے اپنا کام کرتے رہیں گے۔ اور یہ کام کیا تھا، جلد ہی فوج کے اہم عہدوں پر رہنے والوں کو اندازہ ہو گیا۔ بریگیڈئر علی نے باقاعدگی سے اپنے ان سینئر افسران کے ساتھ خط و کتابت شروع کر دی جو فوج میں کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔ مضمون میں تو فرق ہوتا تھا لیکن ان خطوط تک رسائی رکھنے والے ایک سے زیادہ افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ بریگیڈئر علی کی ان تحریروں کا موضوع ایک ہی تھا خود انحصاری اور امریکی امداد سے نجات۔

بریگیڈیئر علی خان نے ان تحقیقی مقالات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی فوج کا امریکی پر بڑھتا ہوا انحصار اس ادارے کی کمزوری اور درمیانی اور نچلے سطح کے افسران میں بے چینی اور بددلی کا باعث بن رہا ہے۔

بریگیڈیئر علی کی ماتحتی میں کام کرنے والے پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر نے جو اس وقت ایک کلیدی عہدے پر کام کر رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ اب کے دوست اور سابق افسر کے خطوط کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی اس سلسلے کے ختم ہونے کے خواہشمند ہیں، تو انہوں نے دبے لفظوں میں علی خان کو باور کروانے کی کوشش کی کہ وہ یہ کام نہ کریں۔

لیکن علی نے ہماری باتوں کو زیادہ وزن نہیں دیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو صحیح مشورہ دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ جب ہم نے زیادہ اصرار کیا تو ان کی کہنا تھا کہ ان سے رائے مانگی جاتی ہے اس لیے وہ دیتے ہیں۔

اس افسر نے تاہم کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو معلوم تھا کہ بریگیڈیئر علی کی رائے نہ طلب کی جاتی ہے اور نہ ہی زیر غور لائی جاتی ہے۔

بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ علی خان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھی انہی موضوعات پر ایک طویل مراسلہ لکھ دیا۔ اس میں بریگیڈیئر نے پانچ اقدامات تجویز کیے جن پر عمل کر کے، ان کے بقول پاکستان کو ایک خود انحصار مملکت بنایا جا سکتا تھا اور امریکیغلامی سے نجات حاصل کی جا سکتی تھی۔

اس میں اعلیٰ حکام کی مراعات میں کمی، جس میں ارکان پارلیمنٹ، سیاسی حکمران، بیورکریسی اور فوجی افسران کو دی جانے والی مراعات بھی شامل تھیں۔ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا یہ خط بھی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی میز تک پہنچا۔

پھر دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی ہوئی۔ بریگیڈیئر علی کے ساتھ کام کرنے والے بعض افسران کا کہنا ہے کہ اس روز سے بریگیڈیئر علی سخت غصے کے عالم میں تھے اور انہیں اپنا یہ غصہ نکالنے کا موقع اس وقت ملا جب ان کے سابق شاگرد اور موجودہ کمانڈر لیفٹینٹ جنرل جاوید اقبال نے پانچ مئی کو اپنے زیر کمان افسروں کا اجلاس طلب کر کے اس معاملے پر مشاورت کی۔

جی ایچ کیو میں ہونے والی اس مشاورت میں ایک درجن سے زائد سینئر افسران شریک ہوئے۔ پاکستانی فوج میں نظم و ضبط کے ذمہ دار ایڈجوٹنٹ جنرل جاوید اقبال کا سوال یہ تھا کہ اس واقعے کی کن خطوط پر تفتیش کی جائے۔

علی خان کی شمولیت سے پہلے تک گفتگو انہیں خطوط پر چلتی رہی جیسا کہ باس کی خواہش تھی۔ پھر اس سینئر موسٹ بریگیڈیئر نے گفتگو کا رخ خود احتسابی کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب اجلاس ختم ہوا تو دو کے سوا تمام افسران بریگیڈیئر علی خان کے مؤقف کے حامی ہو گئے، وہ بھی جو ابتدا میں جنرل جاوید کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔

اگلے روز کور کمانڈرز کانفرنس تھی۔ جنرل جاوید نے یہ سارا معاملہ پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کے گوش گزار کر دیا، جیسا کہ ان کے فرائض میں شامل تھا اور اسی شام بریگیڈیئر علی کو حراست میں لے لیا گیا۔

بریگیڈیئر علی کے خلاف حزب التحریر کے ساتھ روابط کےحق میں بعض واقعاتی شہادتیں جمع کر لی گئی ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں لیکن ان شہادتوں کو ثابت کرنے کے لیے گواہان ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔

بریگیڈیئر علی کے ساتھ، ان کے اوپر اور نیچے کام کرنے والے بہت سے افسران ان کے امریکہ مخالف خیالات سے متفق نہیں ہیں۔

تاہم ان میں سے بعض، جن سے بی بی سی نے علی خان کی گرفتاری کی خبر نشر ہونے سے پہلے رابطے کیے، کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا شاید ہی کوئی افسر یہ تسلیم کرے کہ بریگیڈیئر علی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتے ہیں البتہ خود انحصاری کے بارے میں ان کے خیالات پاکستانی فوج کے اوسط سطح کے افسروں گزشتہ کچھ عرصے میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہے تھے، خاص طور پر دو مئی کے بعد سے۔
Reply With Quote
Reply

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
Ahmad Shah Patras Bukhari(PMS) Farrah Zafar Urdu Literature 15 Saturday, November 18, 2017 05:35 PM
عجوہ کھجور کی فضیلت Shooting Star Islam 0 Tuesday, May 24, 2011 02:08 AM
قرآن حکيم ميں قرآن کے بارے ميں بيان sara soomro Islam 1 Tuesday, March 15, 2011 01:17 PM
Isamiat Paper in Urdu Raz Islamiat 4 Thursday, December 06, 2007 11:33 AM


CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.