Saturday, December 07, 2019
05:21 PM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > CSS Optional subjects > Group V > Urdu Literature

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #1  
Old Thursday, June 14, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default Ahmed Nadeem Qasmi ki Afsana Nigari

احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری

یوں تو احمد ندیم قاسمی مختلف اصناف ادب کی تحقیق اور تخلیق میں مصروف رہے جن میں نظم ، غزل ، افسانہ ، کالم نویسی ، بچو ں کی کتابیں ، تراجم ، تنقید اور ڈرامے وغیرہ شامل ہیں ۔لیکن زیر نظر مضمون میں صرف ان کے فن ِ افسانہ نگاری پر بحث ہو گی۔ اگرچہ کوئی بھی ادبی تخلیقی شخصیت مختلف اصناف کی تخلیق میں اظہار اور موضوعات کے کچھ بنیادی رنگوں کو اہمیت دیتی ہے۔ تاہم ادب کی ایک آدھ صنف ہی ایسی ہوتی ہے جس میں صاحبِ تحریر اپنے تخلیقی یا نفسیاتی پس منظر کے حوالوں سے اظہار کی مناسب سہولت محسوس کرتا ہے۔ لیکن نثری ادب میں افسانہ ہی وہ واحد صنف ہے جس میں ندیم کا قلم جولانیِ طبع کے امکانات روشن کرتا ہے۔انہوں افسانوں کے کئی مجموعے تخلیق کیے آئیے ان کے فن اور فکر کی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

پنجاب کی دیہاتی زندگی:۔

احمد ندیم قاسمی کو خصوصی طور پرپنجاب کی دیہاتی زندگی کا عکاس افسانہ نگار کہا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دیہی پس منظر میں لکھے گئے ندیم کے افسانے ہمارے دیہاتی زندگی، وہاں کی طرز معاشرت ، رہن سہن، طبقاتی نظام ، معصومیت اور الہڑ پن کے دلکش جیتے جاگتے مرقعے ہیں۔ اردو میں پنجاب کے دیہات کے پس منظر میں اس سے خوبصوررت کہانیاں اور کسی نے نہیں لکھیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ ندیم کا شعور اور لاشعور ہے جس میں زندگی کے حوالے سے تمام بنیادی خدوخال دیہات ہی کے پس منظر سے متعلق ہیں۔چونکہ ندیم کی پیدائش دیہات میں ہوئی اس کا بچپن اور لڑکپن گائوں ( انگہ) میں گزرا ۔ یہیں اس کے کچے پکے جذبات پروان چڑھے ، اسی مٹی کی مہک اُسے اپنی رگوں میں اترتی محسوس ہوئی۔ دیہات ہی کی سادگی کا بے ساختہ پن ندیم کے لب و لہجہ کی پہچان بنا اور یہی فضا ہے جس کی گرفت سے وہ دیہاتی سے شہری بن جانے کے باوجود باہر نہیں نکل سکا۔

زندگی اور معاشرے کا شعور:۔

دراصل جس زندگی سے افسانہ نگار کی واقفیت درست اور براہ راست ہو اسے اپنے تخیل میں خام مواد کے طور پراستعمال کرنا سونے پر سہاگے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہاں ایک بات یہ بھی کہی جا سکتی ہے کہ ندیم نے ممکن ہے متوسط یا دیہات کی زندگی کا انتخاب یہ سوچ کر کیا ہو کہ متوسط یا زیادہ تر نچلے طبقوں کی زندگی میں جو زمین میں اپنی جڑیں مضبوط رکھتے ہیں اور مٹی سے جن کا ناتا بڑ بھر پور ہوتا ہے بنیادی انسانی محرکات کا مطالعہ جس بے ساختگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اتنا شاید ان لوگوں کے حوالے سے ممکن نہ ہو جو اپنی فطرت ِ انسانی کو مصنوعی تہذیب ، معاشرت کا لبادہ پہنا دیتے ہیں اور یوں ان کا مصنوعی پن ان کے رہن سہن کے تمام بنیادی رویے مصنوعی بنا دیتا ہے۔اگرچہ منافقت کے حوالے سے مختلف کرداروں پر لکھے گئے ندیم کے افسانوں کے بنیادی موضوعات وہ معاشرتی قدغنیں ہیں معاشی ناہمواریاں ہیں جو ہماری زندگی میں قدم قدم پر موجود ہیں اور بھیس بدل بدل کر ہمارا استحصال کرتی ہیں انہی کی وجہ سے ظلم و انتقام کی بے شمار شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں اور سیاست و مذہب کے ٹھیکیدار اپنے مفادات کی بقا کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر ان فاصلوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔

وسعت نظر:۔

ادیب کا کام اپنے دور کی زندگی کی ترجمانی اپنے دور کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر عہد کے لیے کرنا ہوتی ہے۔ افسانے ہیرو شیما سے پہلے۔ ہیرو شیما کے بعد میں ہیرو شیما پر بم گرا کر جاپانیوں کو شکست دینا دوسری عالمگیر جنگ کا شدید ترین واقعہ تھا لیکن ندیم صرف اس واقعے کے حوالے سے نہیں بلکہ پوری جنگ کے پس منظر میں اس کا اثر پنجاب کے دیہات کی زندگی پر دکھاتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے پنجا ب کے گمنام سے گھرانے میں جو انقلاب آیا وہ ساری جنگ کی اشاراتی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی ہولناکیوں کا غماز ہے۔ معلوم ہوتا ہے جنگ کا ایک ایک لمحہ ایک ایک واقعہ گائوں کی زندگی میں رچ بس گیا ہے اور صدیوں سے روایت کے ایک ہی محو ر پر زندگی گزارنے والا یہی معاشرہ کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو گیا ہے۔ بے یقینی کی کیفیت لہجوں میں جنم لینے لگی ہے۔ ہیرو کا باپ گزرتے لمحوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش رکھنے والا، غربت کے حصار سے نکلنے کے خواب دیکھنے والا۔ہیرو کی غیر موجود گی میں اپنے فطری تقاضوں سے شکست کھانے والی اور دوسرے مرد کے ساتھ بھاگ جانے والی ہیرو کی بیوی اور خود ہیرو وقت کے ساتھ انسان کی تذلیل اور برباد ہونے والی انسانیت کی ایک علامت ۔

فسادات:۔

ندیم کے افسانوں کا ایک اہم موضوع وہ فسادات ہیں جو تقسیم ہند کے موقعے پر رونما ہوئے اور جن کے پس منظر میں ظلم ، جبر ، درندگی اور بربریت کی ایسی ایسی داستانیں پنہاں ہیں جن سے انسانیت کی تذلیل تکمیل تک پہنچی اورانسانی فطرت و ذہنیت کے انتہائی پست پہلو سامنے آئے ۔ یہ موضوع ایسا ہے جس نے اردو افسانے کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایااور اردو کے تقریباً سبھی قدآور افسانہ نگاروں نے اس موضوع کو مثبت یا منفی حوالوں سے برتا ۔ ندیم نے ان واقعات کے پس منظر میں جو افسانے لکھے وہ اس حوالے سے بڑے اہم ہیں کہ ان میں جانبداری نہیں برتی گئی۔ ندیم اس سچائی کا ادراک رکھتے ہیں کہ اچھے برے لوگ معاشرے کے تمام طبقوں میں ہوتے ہیں او رکوئی بھی قوم بہ حیثیت مجموعی ساری کی ساری ظالم یا مظلوم نہیں ہوتی۔ زیادہ تر انفرادی رویے ہوتے ہیں جن کے پس منظر میں انسان کی محرومیاں، ناکامیاں یا نفسیات کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اسی لیے ندیم نے اس حقیقت کے باوجود کہ اسے اپنی مٹی کی خوشبو عزیز ہے اسے اپنی پاکستانیت پر فخر ہے۔ فسادات کے حوالے سے افسانے لکھتے ہوئے چھوٹی چھوٹی جزئیات پیش کرنے میںاپنی جذباتیت کو غالب نہیں آنے دیا اور ایک بالغ النظر ادیب کے طور پر اپنے فرائض سے روگردانی نہیں کی۔

غیر جانبداری:۔

فسادا ت کے موضوع پر لکھتے ہوئے بہت سے اہل قلم صرف تصویر کا ایک رخ بےان کرتے ہیں۔ پاکستا ن سے تعلق رکھنے والوں نے غیر مسلموں کے ظلم و تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ہندوستان کے لکھاریوں نے مسلمانوں کو اس بربریت کا ذمے دار ٹھہرایا اور ا س نکتہ نظر سے لکھے گئے بہت سے افسانے جانبداری اور رواداری کی گر د میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔ تاہم منٹو کے بعد ندیم و ہ اہم افسانہ نگار ہیں جس نے اپنے افسانوں میں یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حالات ہوتے ہیں جو کسی بھی قوم یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مطمئن یا مشتعل کر سکتے ہیں اور یہ کہ انسان دوستی کے عناصر آفاقی ہیں یہ صرف مسلمانوں ، ہندوئوں ، سکھوں، عیسائیوں تک محدود نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں اُ ن کا افسانہ پرمیشر سنگھ بہت ہی اہم ہے۔

انسانی نفسیات سے آگاہی:۔

ندیم نے اپنے افسانوں میں قبائلی دور کے انسان کے انتقام اور رقابت کے اس موضوع کو بھی اپنی تحریروں میں شامل کیا ہے جو معمولی سے جھگڑے، نام نہاد اناپرستی یا جھوٹی غیرت کی بدولت انسانوں کو خاک و خون میں نہلا دینے کا پس منظررکھتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ندیم انسانی نفسیات سے آگاہی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پتھر سے پتھر دل انسان میں بھی محبت اور رحم کے جذبات ضرور ہوتے ہیں اور کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی غیر محسوس طریقے سے اپنا اظہار بھی کرتے ہیں۔ نیکی او ر بدی کے جذبات انسانی کردار کی تکمیل کا ایک حوالہ ہیں۔ کوئی انسان مکمل طور پر نیک نہیں ہوسکتا اور کوئی انسان پوری طرح کمینہ نہیں ہوتا۔ انسان صرف انسانہوتا ہے جس میں اچھائی اور برائی کے عناصر اپنی نسبت کے حوالے سے کم و بیش ہوتے رہتے ہیں اور شاید اسی سے انسان کی پہچان ممکن ہوتی ہے ورنہ تو وہ فرشتہ بن جائے یا پھر شیطان کہلائے۔ندیم نے اس موضوع پر جو افسانے لکھے ہیں ان میں انسانی نفسیات سے آگہی اور بیا ن میں فنی گرفت کے تمام عوامل پوری طرح اپنی موزنیت کا احساس دلاتے ہیں اس ضمن میں ان کے مشہور افسانے گنڈاسا کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں ندیم نے ایک بہت ہی نازک لیکن جمالیاتی ، نفسیاتی حقیقت کی ترجمانی کی ہے۔

موضوعات کا تنوع:۔

زندگی کا ہر جذبہ ایک دوسرے سے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ملا ہوا ہوتا ہے کوئی جذبہ اپنی ذات میں اکیلا نہیں ہوتا ۔ پھول کی خوشبو میں مٹی کی مہک کے ساتھ ساتھ روشنی کی دھنک اور ہوا کی سرسراہٹ بھی شامل ہوتی ہے۔
ندیم ایسا فنکار ہے جس نے ان نازک جزئیات کو محسوس بھی کیا ہے اور ان کے فنکارانہ اظہار میں اپنے فنی قدو قامت کی بلندی کا ثبوت بھی بہم پہنچایا ہے۔ یہاں ایک اور اہم بات کی وضاحت از حد ضروری ہے کہ کسی بھی افسانہ نگار کے لیے وجہ امتیاز یہ نہیں ہے کہ اس کے یہاں موضوعات ِ زندگی کے تنوع میں سیاست، جمالیات، مذہب اور فلسفی موجود ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ان کی موجود گی یا غیر موجو د گی میں انسانی فکر نظر اور ادراک و تیقن کوکس حد تک وسعت دے سکتا ہے۔ اور اس کا نکتہ نظر میں کتنی انفرادیت ، ہمہ گیری ، توازن اور مرکزیت ہے۔

توازن اور غیر جانبداری:۔

گوپی چند نارنگ نے درست کہا ہے کہ مقصد اور فن کا حسین توازن ندیم کی کامیابی کی ضمانت بن گیا ہے۔ندیم ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن اور عہدیدار بھی رہے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اتنا بڑ ا ترقی پسند نہیں جتنا بڑ افنکار ہے۔ اگرچہ اس کی ذہنی و فکری تشکیل میں مارکسزم کا ایک نمایاں کردار ہے ۔ تاہم و ادب میں پروپیگنڈے کی بے اعتدالی کا کبھی شکارنہیں ہوا۔ اس کی جڑیں اپنی مٹی میں بڑی گہری ہیں۔ یوں وہ ایک غیر جانبدار مصنف کے روپ میں ابھر تے ہیں جن کے ہاں نظریے کی آمیزش سے تیار کیے گئے افسانے جابجا نظر آتے ہیں اور دوسری طرف رومان کی حسین فضا اور وطن کی مٹی سے محبت کا حوالہ بھی اُن کے افسانوں کا بنیادی خاصہ ہے۔

مجموعی جائزہ:۔

ندیم کے افسانوں میں زمین اور انسان سے ان کی بے پایاں محبت اور بھی کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان کا تخیل پنجاب کی فضائوں میں چپے چپے سے روشناس ہے اور اس نے لہلہاتے کھیتوں ، گنگناتے دریائوں اور دھوپ میں جھلستے ہوئے ریت کے ذروں کو ایک نئی زبان دی ہے ، نئی معنویت عطا کی ہے۔ پنجاب کی رومانی فضاءاور وہاں کے لوگوں کی معصومیت و زندہ دلی ، جرات وجفاکشی اورخدمت و ایثار کی تصویریں ان کے افسانوں میں آخر لازوال ہو گئی ہیں۔ ان کے ہاں غم و غصے ، تعصب و نفرت اور تنگ نظر و تشدد کا شائبہ تک نہیں۔ ہر کہیں مہر و محبت ، خلوص و وفااور صدق و صفا کا سونا چمکتا محسوس ہوتا ہے اوریہی ان کی بڑائی کی دلیل ہے۔
http://urdustar.com/home/afsany-novels/
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Shai (Thursday, November 21, 2013)
  #2  
Old Thursday, June 14, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

ایک لیجینڈ افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی

ڈاکٹر افشاں ملک


ایک تخلیق کار کی حیثیت سے احمد ندیم قاسمی کی شخصیت کے گوناگوں پہلو ہیں۔ ادب کی تمام اصناف پر انہوں نے طبع آزمائی کی ہے جن میں شاعری، افسانہ نگاری، تنقید نگاری، بچوں و خواتین کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامے بھی شامل ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے مدیر، کالم نویس، سیاسی مبصر اور ایک بہترین صحافی بھی ہیں۔ انہوں نے جاپانی نظموں کے اردو میں تراجم بھی کئے، ڈرامے بھی لکھے۔ ان کا ایک ڈراما شکست و فتح ریڈیو پر خاصا مقبول ہوا۔ جہاں تک افسانہ نگاری کا تعلق ہے اب تک ان کے افسانوی ادب کا بڑا حصہ نہ صرف ہندی زبان میں منتقل ہو چکا ہے بلکہ بہت سے افسانے روسی، چینی اور انگریزی و فارسی کے ساتھ ساتھ پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی اور مراٹھی جیسی علاقائی زبانوں میں بھی منتقل ہو چکے ہیں۔ تنقید نگاری سے بھی انہوں نے پرہیز نہیں کیا۔ تہذیب و فن اور ادب و تعلیم کے رشتے ان کی تنقیدی کتابیں ہیں جو شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کی ادبی خدمات کے سلسلے میں 1963 میں پاکستان سرکار نے پہلی بار ان کے شعری مجموعے دشت وفا کے لئے آدم جی ایوارڈ سے نوازا۔ دوسری بار ان کے شعری مجموعے محیط کے لئے 1976 میں اور پھر تیسرے مجموعے کلام دوام کے لئے 1979 میں انہیں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پاکستان کے ادبی اعزازات میں یہ حکومت پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس اعزاز کے علاوہ 1968 میں پرائیڈ آف پرفارمینس کا سول اعزاز اور حکومت پاکستان کے ستارہ امتیاز جیسے وقیع اعزاز سے نوازا گیا۔



احمد ندیم قاسمی کی ترجیحات میں انسان سرفہرست رہا۔ انہوں نے انسان کو بڑی اہمیت دی۔ دوست کو عزیز جانا اور دشمن کی تحقیر نہیں کی۔ وہ جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی بڑے افسانہ نگار، اتنے ہی اچھے انسان بھی تھے۔


اردو کے افسانوی ادب میں منشی پریم چند نے جو روایت شروع کی تھی اسے پروان چڑھانے کا سہرا منٹو، بیدی اور عصمت کے ساتھ ساتھ احمد ندیم قاسمی کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ پریم چند نے اردو افسانے کو خواب و خیال کی طلسماتی دنیا سے نکال کر براہ راست عام انسانی زندگی سے اس کا رشتہ جوڑا۔ احمد ندیم قاسمی نے منشی پریم چند کی اس روایت کو آگے بڑھایا اور ترقی پسند ادب کی مقصدیت کے ساتھ وابستہ ہونے والے افسانہ نگاروں میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ اپنے ہم عصروں میں وہ اس لئے بھی امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کہ جب ترقی پسند ادیب و شاعر مارکسی یا اشتراکی نظریہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر پروپیگنڈائی ادب تخلیق کر رہے تھے انہوں نے اس وقت بھی اس اشتہاری ادب کی تخلیق سے گریز کیا اور ترقی پسند تحریک کے وہ رجحانات اپنائے جو معاشرے میں قابل قبول تھے اور دینی اور اخلاقی قدروں کا احترام سکھاتے تھے۔ انہوں نے مقصدیت کے پہلو پر زور دیتے ہوئے بھی اپنے فن کو مجروح نہیں ہونے دیا۔



احمد ندیم قاسمی نے دیہی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کے سماجی مسائل اور معائب کا بھی فنکارانہ ڈھنگ سے اظہار کیا۔ ان کے افسانوں میں شہر کی غربت، بے روزگاری، مزدور، بھکاری، کلرک، افسر وغیرہ کے مسائل بطور خاص شامل ہیں۔



ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے احمد ندیم قاسمی کی انفرادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں کے لئے ایسے موضوعات کا بھی انتخاب کیا جن پر ان کے عہد کے دیگر افسانہ نگاروں کی نظر کم پہنچی۔ مثال کے طور پر پسماندہ مسلم طبقہ میں پانچ ضعیف الاعتقادی، توہمات، پیری فقیری اور اس کی آڑ میں چلنے والے غیر اخلاقی دھندے (جس کی مثال ان کا مشہور افسانہ بین ہے) مذہب کے نام پر ظاہر داریاں اور فروعات کا غلبہ، دیہی معاشرے میں خاندانی رقابتیں یہ سب ان کے افسانوں کے موضوع بنے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کا افسانہ چاہے وہ پنجاب (اب پاکستان میں) کے دیہات کو موضوع بنا کر لکھا گیا ہو یا پنجاب کی شہری زندگی کو، وہ صرف پنجاب کے ماحول اور اس کی سرزمین تک محدود ہو کر نہیں رہ جاتا۔ اس کی اپیل آفاقی ہوتی ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ انسان روئے زمین کے جس خطے میں بھی ہے وہ جذباتی اور حسی سطح پر عموماً ایک ہی طرح محسوس کرنے والی مخلوق ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا کمال یہ ہے کہ وہ افسانوں کا تار و پود پنجاب کے ماحول میں رکھتے ہوئے بھی اسے ایسی وسعت دیتے ہیں جس میں پنجاب کے باہر کی دنیا بھی شامل ہو کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔احمد ندیم قاسمی کے فن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں رجائیت کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ادب میں ایسے فنکاروں کی کوئی جگہ نہیں جو قنوطی ہوں اور ایسا فن بھی بیکار ہے جو قاری کو منفی انداز میں اداس کر دے۔ وہ زندگی کے تئیں منفی رویہ کو قابل قبول نہیں گردانتے۔ وہ انسانی زندگی میں مثبت قدروں کی وکالت کرتے ہیں۔


احمد ندیم قاسمی نے ایسے افسانوں میں سماجی مسائل کو اولیت دیتے ہوئے کردار نگاری پر خاصی توجہ دی ہے اور کرداروں کی داخلی اور خارجی کیفیات کے ساتھ ساتھ ان کی نفسیاتی الجھنوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں جب جنسی موضوعات کو اٹھایا تب بھی فحاشی اور عریانیت سے گریز کیا۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود ان کا ادب پروپیگنڈہ نہیں بن سکا۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں الحاد پرستی کی بھی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ انہوں نے تجریدی اور علامتی افسانے کلھ کر بھی افسانوی فضا کو شدت اور تاثر سے بھر دیا۔



احمد ندیم قاسمی چونکہ ایک شاعر بھی ہیں اس لئے ان کے یہاں حسن بلاخیز اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ حسن کے یہ نظارے ان کے افسانوں کے ماحول کے علاوہ کرداروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ فطرت کی حسن کاری سے احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے فن میں اضافہ ہوتا ہے۔ قاسمی فطری مناظر میں چاند، تارے، سورج، آسمان، بادل، ہوا، پھول، جھرنے، تالاب، ندیاں، پگڈنڈیاں وغیرہ کی منظر کشی اس شدت تاثر سے کرتے ہیں کہ قاری اس خوبصورت منظر کشی کے بیان محض سے ہی محسور ہو جاتا ہے۔ فطری حسن کی ایسی پیش کش پریم چند کے یہاں بھی مفقود ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے یہ حسن کاری صرف فطری مناظر کی عکاسی میں ہی نہیں کی ہے بلکہ وہ اپنے افسانوں کے کرداروں میں بھی حسن کی ایسی ہی کرشمہ سازی کو پیش کرتے ہیں۔ کرداروں کی خوبصورتی کا بیان اتنی شدت سے ان کے یہاں ہوا ہے کہ قاری اس کے تاثر سے بچ نہیں پاتا۔ انسانی حسن کی تصویر کشی ان کے کئی افسانوں میں دیکھی جا سکتی ہے جن میں افسانہ پہاڑوں کی برف، نصیب، لارنس آف تھیلیبیا، بھاڑا، بدنام جیسے افسانے خصوصی طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔ حسن کی یہ فنکارانہ پیش کش ہی ہے جس کی وجہ سے ان کا فن جمالیات کی بلندیوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ مناظر فطرت سے افسانہ نگار کا اس شدت سے لگاﺅ بھی احساس جمال کا ہی ایک پہلو گردانا جائے گا۔



ترقی پسند تحریک کے کئی افسانہ نگار ایسے ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں میں ایسے کرداروں اور ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جن سے ان کی واقفیت سنی سنائی یا تخیلاتی ہے۔ عملی اور تجرباتی کم ہے اس کے برعکس احمد ندیم قاسمی ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے دیہی زندگی کے اس طبقاتی اور معاشرتی نظام میں برسوں تک شرکت کی ہے جو مذہبی توہم پرستی، فرسودگی اور روایت زدگی میں مبتلا تھا۔ وہ اس معاشرتی وضع زندگی سے بھی بذات خود گزرے ہیں جن میں خاندانی عداوتیں اور اس کے نتیجے میں نسل در نسل چلنے والی رقابتیں، انتقامی روش، دیہی زندگی کا مہاجنی معاشرہ، زرعی رسم و رواج، فطرت کی گود میں پلنے والے نیز فطری مناظر سے ہم آہنگ لوگوں کے اخلاق و کردار، ان کے رویے، رسمیں اور رومان، پھر گاﺅں سے شہر منتقل ہونے والی زندگی کی چہل پہل، اس کا تصنع پن، دوستی اور منافقت، آپسی داری اور موقع پرستی یعنی ہر ذہنی رویہ کے کرداروں کی عملی رفاقت میں سارا کچھ ان کے ذاتی اور انفرادی تجربوں سے گزرا ہے۔ جتنی موضوعات کو اٹھاتے وقت بھی ان کا قلم بے راہ روی کا شکار نہیں ہوا ہے بلکہ جتنی نا آسودگی کے باعث پیدا ہوئی صورت حال یا جنسی گھٹن کو انہوں نے بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ جنسی نا آسودگی کے سبب اٹھنے والے غلط قدموں کو انہوں نے اپنے افسانے ہیروشیما سے پہلے ہیروشیما کے بعد اور کنجری میں بڑی چابکدستی سے پیش کیا ہے۔ جنسی گھٹن کے سبب پاگل ہو جانے والی ایک معصوم لڑکی پر لکھا گیا افسانہ ماسی گل بانو ایک بہترین افسانہ ہے۔


احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں صرف مجبور اور بے کس کردار ہی تخلیق نہیں کئے ہیں۔ ان کے افسانوں میں اس معاشرتی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والے کردار بھی ہیں۔ محبت کے جذبے پر ایمان رکھنے والے کردار بھی ہیں اور محبت میں جان دینے والے اور جان لے لینے والے کردار بھی ہیں۔ ان افسانوں میں عالاں، حق بجانب، طلائی مہر، بھوت، جن و انس، بے گناہ اور میرا دیس جیسے افسانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔



احمد ندیم قاسمی کے کردار سادہ و معصوم بھی ہیں، عیار و مکار بھی ہیں، نیک اور گنہ گار بھی ہیں۔ ان میں محبت کا جذبہ بھی موجود ہے اور نفرت کا بھی، خلوص اور نیک نیتی بھی ان کرداروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کرداروں کی ذہنی کیفیات کی بہترین عکاسی اور زبان کی سادگی اور سلاست سے افسانوں میں حقیقت نگاری کا پہلو بھی واضح صورت میں نمایاں ہو گیا ہے۔


تقسیم ہند کے بعد پیش آنے والے واقعات کی عکاسی کرتے ہوئے قاسمی نے مہاجروں اور کمزور طبقے کے دہقانوں کی نفسیات کا جائزہ بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے۔ لٹے پٹے مہاجروں سے جاگیرداروں کے ناروا سلوک اور ظالمانہ رویہ کو انہوں نے اپنے ایک افسانے جب بادل امڈے گا میں بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے۔ تقسیم ہند پر ان کا افسانہ پرمیشر سنگھ حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔



احمد ندیم قاسمی نے تقریباً 17 افسانوی مجموعے اردو ادب کو دئیے ہیں۔ ان کے مشہور ترین افسانوں میں کفن دفن، رئیس خانہ، الحمدللہ، بین، السلام علیکم، بابا نور، بیرا، موچی، خربوزے، ماسی گل بانو، ماں، آتش گل، نیلا پتھر، عاجز بندہ، بے گناہ، سلطان وغیرہ وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی نے اپنی شخصیت کی گوناگوں خصوصیات کا عکس اپنے افسانوں پر بھی چھوڑا ہے۔ دراصل ان کی شخصیت کی تشکیل میں جو دیگر عناصر اور محرکات کارفرما رہے ان میں ان کی اصلاح پسند شخصیت، درد مند دل، بے خوف، بے باک اور غیر جانب دار صحافی، بے غرض نقاد اور فطری شاعری کا خاصا دخل ہے اور یہ وہ منجملہ خصوصیات ہیں جو احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری کو نہ صرف بلندی عطا کرتی ہیں بلکہ دوامی شہرت بھی بخشتی ہیں۔



احمد ندیم قاسمی کا کمٹ منٹ کسی سیاسی یا عمرانی نظریے سے نہ ہو کر سماج کے اس انسان کے ساتھ ہے جو زمین کے کسی بھی خطے پر موجود ہے اور عصر حاضر کی تمام الجھنوں، پریشانیوں اور ناانصافیوں کی زد میں ہے اور ادیب کی چشم توجہ کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔
http://www.thesundayindian.com/ur/st...writer/7/1020/

Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
aristotlekhan (Thursday, November 29, 2018), rao saadia (Wednesday, November 21, 2012), Shai (Thursday, November 21, 2013)
Reply

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
PCS lectureship exams 2011 result date is announced famfai PPSC Lecturer Jobs 60 Thursday, December 08, 2011 07:18 PM
SPSC Result of CCE 2008 declared Azhar Hussain Memon SPSC (CCE) 27 Saturday, May 22, 2010 07:34 PM
Maj-Gen Nadeem Ejaz: in the dock for many crimes By Hamid Mir niazikhan2 News & Articles 0 Monday, April 26, 2010 10:06 AM


CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.