Tuesday, November 12, 2019
04:57 PM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > CSS Optional subjects > Group V > Urdu Literature

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #1  
Old Monday, April 16, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default Mirza Ghalib: Fikr o Fun

مرزا اسد اللہ خان غالب

پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد



مرزا اسد اللہ خان غالب( ۱۷۹۷ء تا ۱۸۶۹ء)اُردو شاعری کے مجتہد اور مجدد ہیں ، انہوں نے اپنے فکری نظام اور فنی مہارت سے اُردو شاعری بالخصوص اُردو غزل کو وہ وقار اور اعتبار بخشا جس نے ریختہ کو رشکِ فارسی بنا دیا:
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہے رشکِ فارسی؟
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یوں

مرزا غالب کا منتخب دیوان صرف دو صد پینتیس غزلیات( بہ شمول فردیات) پر مشتمل ہے مگر فکر و فن کی ہُنر مندانہ آمیزش نے اس مختصر دیوان کو رفعت و عظمت کے اُس مقام پر پہنچا دیا جہاں ضخیم اور بھاری بھرکم دواوین کا گُزر نہیں۔ غالب نے حیات و کائنات کے مسائل کو اپنے مخصوص فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھا اور پھر انہیں تغزل کی چاشنی میں یوں گھُلا مِلا کر پیش کیا کہ فلسفہ شعر اور شعر فلسفہ کے ذائقے سے سرشار ہوا۔ غالب نے غزل کے تکنیکی عناصر کو ایک ایسی شان عطا کی جس نے غزل کے تکنیکی اُفق کو روشن اور اس کے فنی امکانات کو وسیع کر دیا۔


مرزا غالب اپنی افتادِ طبع کے اعتبار سے انفرادیت پسند تھے ، روشِ عام پر چلنا اُن کے مزاج کے خلاف تھا۔ اُن کے عہد میں سنگلاخ زمینوں، مشکل ردیفوں ، انوکھے قافیوں، صنائع و بدائع کے کثیر استعمال اور دیگر لسانی نزاکتوں کو شعر کی آبرو اور جان سمجھا جاتا تھا ۔ غالب نے اس جادۂ شعر کو قبول نہیں کیا۔ ان کی فطری مشکل پسندی اور مضمون آفرینی کو فارسی کے بے بدل شاعر مرزا عبدالقادر بیدل کا رنگِ بہار ایجادی ( ۷۸) پسند آگیا اور انہوں نے اس رنگ کے اتباع سے اپنے لیے نیا راستہ بنانے کی کوشش کی ۔ بلند پروازی کی خواہش اور بیدل کے تتبع کے باعث اُن کا ابتدائی دور کا کلام اغراق کا شکار ہوا۔ انوکھی تشبیہات، مبہم استعارات، پیچیدہ تراکیب، غیر مانوس الفاظ اور فارسیت کے غلبے نے ان کے کلام کو بعید الفہم بنا ڈالا۔ منتخب دیوان میں اُس دور کا سارا کلام شامل نہیں تاہم کئی اشعار ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اُس دور کے طرزِ سخن کے گواہ ہیں ،جیسی:
شمارِ سجہ ، مرغوبِ بت ِ مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل پسند آیا

بہ فیضِ بیدلی ، نومیدیِ جاوید آساں ہے

کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

ہوائے سیرِ گُل آئینۂ بے مہریِ قاتل

کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا


مذاقِ عام نے کلام کی اس پیچیدگی اور ابہام کو پسند نہیں کیا، غالب کا کلام ہدفِ تنقید بنا اور ان کی مہمل گوئی کا تذکرہ جا بہ جا ہونے لگا۔ میر تقی میر اور مرزا رفیع سودا کے طرزِ کلام سے ہٹ کر کسی نئی طرز کو قبول کرنا شعرائے دہلی کے مزاج کے خلاف تھا، مشاعروں میں چوٹیں ہونے لگیں۔حکیم مرزا جان عیش نے غزل میں قطعہ کہا جو دہلی کی ادبی محفلوں میں گونجنے لگا
:
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے


کلامِ میر سمجھے ا ور زبانِ میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

مرزا غالب نے گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی کہہ کر معترضین کو خاموش کرنے کی کوشش کی مگر رفتہ رفتہ وہ کود اس رنگِ سخن سے دور ہوتے چلے گئے۔ اس رنگِ سخن کی تبدیلی میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی اور مفتی صدر الدین آزردہ کی صحبتوں کا بھی دخل ہے۔مشق و ممارست اور ذوقِ سلیم نے غالب پر یہ ظاہر کر دیا تھا کہ
:
طرزِ بیدل میں ریختہ کہنا
اسداللہ خاں قیامت ہے


طرزِ بیدل میں غالب کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالغنی رقم طراز ہیں:
غالب، بیدل کا تتبع کیوں کامیابی سے نہ کر سکے۔ یہ سوال بھی بڑا دل چسپ ہے۔ میرے خیال کے مطابق غالب نے بیدل کے رنگ میں غزل کہنا اُس وقت شروع کیا جب کہ وہ ابھی نو مشق تھے، فکر پختہ نہ تھی اور ان کی روح اُن تجارب سے نا آشنا تھی جو تصوف کی عملی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے بیدل کو حاصل ہوئے تھے۔ علاوہ بریں علمی لحاظ سے بھی جو وسعت ِ نظر اور عمیق نگاہ بیدل کو میسر تھی، وہ غالب کے حصے میں نہ آئی اور پھر زمانے کے حالات بھی مختلف تھے جن سے بیدل ایک طرف تو فکری اور عملی لحاظ سے عظمت اور سربلندی کے علم بردار بنے اور دوسری طرف جہاں دار شاہ اور مغل امرا کی پستیِ فطرت کو دیکھ کر انہیں ایک حیات افروز انقلاب کا داعی بننا پڑا۔ غالب کے سامنے ایک از کار رفتہ،بے کار اور معطل معاشرہ تھا جس کی مایوس کن تباہ حالی کے زیرِ نظر غالب کو گوشۂ عافیت کی تلاش کے بغیر اور کُچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔



(حالی سے ما قبل کی غزل پر ایک نظر:پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد


Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Monday, April 16, 2012), Hamidullah Gul (Friday, April 20, 2012)
  #2  
Old Monday, April 16, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

غالب کی شاعری

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور


آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیا ل میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں،
غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔
عبدالرحمن بجنوری لکھتے ہیں کہ،
ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں وید مقدس اور دیوان غالب ۔
اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک ررخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشدت سے محسوس کرتے ہیں۔
غالب
انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں ۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔
غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں ۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔
استدلالی انداز بیان

غالب کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا منطقی اور استدلالی انداز بیان ہے بقول پروفیسر اسلوب احمد انصاری: یعنی غالب صرف جذبات کا تجزیہ ہی نہیں کرتے بلکہ ان میں باہمی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔محبت ان کے لیے کوئی ایسا جذبہ نہیں جو فطری طریقے سے دلکش محاکات میں ڈھل جائے۔ بلکہ یہ ایک گرم تیز رو ہے جو پوری شخصیت کے اندر انقلاب پیدا کردیتی ہے۔ غالب صرف اشاروں سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے نرم و لطیف ، احساسات و کیفیات کا تجزیہ کرتے اور ان پر استدلال کرتے ہیں۔
غالب کے اس اندازِبیان کو سمجھنے کے لئے یہ اشعار ملاحظہ ہوں کہ استدلال کا یہ انداز کس طرح شاعر کے جذبات و احساسات کی معنویت میں اضافہ کرتا ہے۔

ان آبلوں سے پائوں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر


جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی


رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

قول محال کا استعمال

غالب نے قول محال کے استعمال سے بھی اپنی شاعری میں حسن و خوبی پیدا کی ہے۔ قول محال سے مراد یہ ہے کہ کسی حقیقت کا اظہار اسطرح کیا جائے کہ بظاہر مفہوم عام رائے کے الٹ معلوم ہو مگر غور کریں تو صحیح مفہوم واضح ہو۔ قول محال دراصل ایک طرف ذہنی ریاضت ہے۔ اس سے ایک طرف اگر شاعر کی قوت ِفکر کا انحصار ہوتا ہے تو دوسر ی طرف قار ی کو بھی ذہن و دماغ پر زور دینا پڑتا ہے۔ اس سے شاعر لطیف حقائق کی طرف اشارہ ہی نہیں کرتا بلکہ حیرت و استعجاب کی خوبصورت کیفیات بھی پیدا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں غالب کے اشعار دیکھیں
:
ملنا تیر اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں


بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

تشکک پسندی

غالب کی شاعری میں تشکک پسندی کا پہلو بہت اہم ہے۔ جو بحیثیت مجموعی غالب کی شاعری کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ اس کی ایک وجہ غالب کا فلسفیانہ مزاج ہے ۔جبکہ دوسری وجہ غالب کاماحول ہے۔غالب نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ ایک ہنگامی دور تھا۔ ایک طرف پرانی تہذیب مٹ رہی تھی اور اس کی جگہ جدید تہذیب اور تعلیم اپنی جڑیں مضبوط کررہی تھی۔ یوں انتشار اور آویزش کے اس دور میں اُن کی تشکک پسندی کو مزید تقویت ملی۔

ہیں آج کیو ں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں


زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کر یں گے کہ خدا رکھتے تھے


ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھاہے

معانی دار پہلو

حالی نے بڑے زور و شور کے ساتھ غالب کی شاعری کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس میں معانی کی مختلف سطحیں موجود ہیں ۔ غالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں۔ جن کی فلسفیانہ ،سیاسی اور شخصی تفسیر ہم کر بیک وقت کر سکتے ہیں۔ ایسے اشعار ان ترشے ہوئے ہیروں کی مانند ہیں جن کی آب وتاب اور خیرگی سے ہر زاویہ نگاہ سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک غالب کی کئی شرحیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی


کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا


اُگ رہا ہے درو دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

رمز و ایمائیت

غالب نے اپنی شاعری میں رمز و ایمائیت سے بھی حسن پیدا کیا ہے۔ انہوں نے زندگی کی بڑی بڑی حقیقتوں اور گہرے مطالب کو رمز و ایما کے پیرائے میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ انہوںنے اردو غزل کی روایت میں تصوف نے جو رمز و ایمائیت پیدا کی اسے اپنے لیے شمع راہ بنایا۔ یوں انہوں نے سیاسی او ر تہذیبی ، معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور انفرادی رنگ کے پردے میں اجتماعی تجربات کی ترجمانی کی۔ اس طرح سے رمزیت اور ایمائیت کا رنگ ان کی شاعری پر غالب نظرآتا ہے۔

دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے


عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کاکیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک


قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

لطافت خیال اور نکتہ آفرینی

غالب کی شاعری میں نکتہ آفرینی پائی جاتی ہے غالب عام روش سے ہٹ کر چلنا پسند کرتے تھے ۔ شاعری میں بھی الگ روش پر چلنا پسند کرتے تھے ۔ انہوں نے لفظی سے زیادہ معنو ی نکتہ آفرینی پر زور دیا۔ اس طرح وہ مومن سے ممتاز اور برتر ہیں۔ ان کی نکتہ آفرینی سلاست ، گہرائی اور معنویت سے پر ہے۔ اس میدان میں غالب نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اس کی وضاحت اُن کے درج ذیل اشعار سے ہوتی ہے۔

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا


ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے


ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

زندگی کی محرومیاں

غالب کی ذاتی بھی تلخیوں اور محرمیوں کی زنجیر ہے۔ بچپن میں باپ کی موت، چچا کی پرورش ، اُن کی شفقت سے محرومی، تیرہ سال کی ناپختہ عمر میںشادی کا بندھن ، بیوی کے مزاج کا شدید اختلاف ،قرضوں کا بوجھ۔ ان سب نے غالب کو زمانے کی قدرشناسی کا شاکی بنا دیا۔ چنانچہ ان محرومیوں کی تصویر بھی ان کی شاعری میں نمایاں خصوصیت کی حامل ہے۔

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں


زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے


کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

زندگی کا حقیقت پسندانہ تصور

ان تمام تر محرمیوں کے باوجود غالب کا اندازِ فکر قنوطی نہیں۔ چنانچہ قدم قدم پر ان کے ہاں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی خوشی کے ساتھ گزرے یا غموں کی گود میں بہرحال قابلِ قدر ہے۔ خود زندگی کا ہونا ہی بجائے خود ایک بڑی نعمت ہے ا س لیے ہر حال میں اسے غنیمت تصور کرنا چاہیے۔اس کا اعتراف غالب نے اپنے بعض خطوط میں بھی کیا ہے۔ غم سے بچنے کی غالب نے ایک صورت یہ بھی نکالی ہے کہ آدمی رند مشربی اور آزادی اختیار کر لے اور لذت و الم دونوں سے بے نیاز ہو جائے۔

نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
بے صدا ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایک دن


قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں


ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی

طنز و مزاح شوخی وظرافت

شوخی و ظرافت غالب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔عملی زندگی میں وہ خوش باش انسان تھے۔ اسی لیے حالی انھیں حیوان ِ ظریف کہتے ہیں۔ انتہائی کٹھن حالات میں بھی وہ زندہ دلی کا دامن نہیں چھوڑتے ۔انہیں زمانے نے نجانے کتنے دکھ دیئے لیکن غالب پھر بھی ہنسے جاتے ہیں۔ان کی ظرافت میں محض شوخی ہی کام نہیں کر رہی ،جس طرح غالب کی شخصیت پہلو دار شخصیت ہے اسی طرح غالب کی ظرافت کی بھی متعدد سطحیںہیں۔ ان کی شاعری میں طنز و طرافت کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔ غالب کے کچھ طنزیہ اشعار ملاحظہ ہوں
:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے


کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا


چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے


جانتا ہوں ثواب طاعت وزہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

زندہ دلی اور خوش طبعی

غالب کی شاعر ی میں طنز یہ اشعار کے ساتھ ساتھ شوخی اور خوشدلی کا پہلو بھی بڑا نمایاں ہے۔ چنانچہ ان کے ہاں ایسے اشعار بھی بہت ہیں جنہیں خالص مزاح کا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ اصل میں غالب زندگی کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ زندگی کی تلخیوں سے آگاہہیں لیکن انہیں زندگی سے والہانہ لگائو بھی ہے۔ غالب ایک فلسفی شاعر تھے۔ انہوں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر اپنے انکشافات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کر دیا۔ غالب کے کچھ مزاح سے پھرپور اشعار ملاحظہ ہوں
:
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا


کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

پیکر تراشی اور تصویر کاری:۔

غالب کی شاعری میں پیکر تراشی کا عمل جاندار ہے۔ اور بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، غالب کی شاعری میں جو پیکر اور تصویریں ملتی ہیں۔ وہ ان کے ساسی معاشرتی ، تہذیبی حالات، نجی معاملات اور ان کے زیر اثر پرورش پانے والی ذہنی کیفیات کا آئینہ دار ہیں۔ غالب ایک تہذیب کی پیداوار اور ایک تہذیبی روایت کے علمبردار ہیں۔ ۔۔اگرچہ یہ تہذیب مٹ رہی تھی لیکن زوال کے احساس نے اس کی عظمت کے احساس کو بھی بڑھا دیا۔ چنانچہ غالب کی تصویر کاری اور پیکر تراشی میں بھی اس تہذیبی روایت کا اثر مختلف انداز میں خود بخود ظاہر ہوتا ہے۔ اس دور کی بزم ہائے نشاط کی تصویریں غالب کے ہاں بہت خوبصورت اور جاندار ہیں
:
ہم سے کھل جائو بوقت مے پرستی ایک دن
ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر ِ مستی ایک دن


قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن


جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آگیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہوگئیں

فارسی زبان کے اثرات

غالب کو فارسی زبان پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس لئے ان کی شاعری میں فارسی زبان کے اثرات زیادہ ہیں ۔ خود فارسی شاعری کے بلند پایہ شاعر بھی تھے ۔ اور فارسی کو اردو سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔چنانچہ فارسی زبان کے اثر سے ان کی زبان میں شیرینی حلاوت اور شگفتگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے فارسی الفاظ استعمال کرکے اور ان کی ترکیبیں تراش کر نہ صرف اردو زبان کے دامن کو وسیع کیا بلکہ اپنی شاعری میں بھی ایک نکھار اور رعنائی پیدا کر لی۔یہ اشعار ملاحظہ ہوں
:
یا د تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار ِ طاق نسیاں ہوگئیں


بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے

سادہ انداز بیان

مشکل الفا ظ و تراکیب کے ساتھ ساتھ غالب کے ہاں آسان زبان بھی موجود ہے۔غالب نے پیچیدہ مسائل کے اظہار میں عموماً فارسی ترکیبوں سے کام لیا ہے اور سنجیدہ مضامین کے لیے الفاظ کا انتخاب بھی اسی مناسبت سے کیا ہے۔ لیکن سیدھے سادے اور ہلکے پھلکے مضامین کو غالب نے فارسی کا سہار ا لیے بغیر رواں دواں اور سلیس اردو میں پیش کیا ہے۔ زبان کی سادگی ان اشعار کی معنوی قدرو قیمت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالتی بلکہ ان کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔ کیونکہ یہ سادگی شعری تجربے سے ہم آہنگ ہے۔ اس سلسلے میں یہ اشعار ملاحظہ ہوں
:
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے


موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی


آئے ہے بےکسی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب ِ بلا میر ے بعد

فارسی اور اردو کا حسین امتزاج

غالب نے فارسی اور اردوکے امتزاج سے بھی اپنے فن کو نکھارا ہے۔غالب نے فارسی کی شیرینی کو ہندی کی گھلاوٹ سے اس طرح ملا دیا ہے کہ ان کی زبان میں ایک گنگا جمنی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ غالب کے ایسے کلام میں فارسی اثرات زیادہ ہیں۔ جہاں زندگی کے رنگین پہلوئوں کا بیان آیا ہے۔ انہوں نے رومانوی مضامین کے لیے خصوصاً فارسی کی آمیزش کی ہے لیکن فارسی اور ہندی روایتوں کا ملاپ ان کے ایسے اشعار میں نسبتاً زیادہ ہے جہاںانہوں نے قلبی واردات کو پیش کیا ہے اس لیے ایسے اشعار میں ایک گداز کی کیفیت ملتی ہے۔

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک


ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک


بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

صوتی آہنگ

غالب کی شاعری میں صوتی آہنگ بھی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے الفاظ کے انتخاب میں بڑی فنکاری کا ثبوت دیا ہے۔ اور ان سے وہ موسیقیت اور نغمگی پیدا کی ہے جو پڑھنے والے کومسحور کر دیتی ہے۔ غالب مختلف الفاظ کو ملا کر ایک مترنم کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ منفر د الفاظ کی نغمگی اور موسیقیت کا بھی گہرا شعور رکھتے ہیں اور انہوں نے تجربات کے اظہار کے لیے موضوع کی مناسبت سے ان الفاظ کے انتخاب میں بھی بڑے فن کارانہ شعور کا اظہار کیا ہے۔

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
اسے تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا


غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا


ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

تشبیہ و استعارہ کا حسن

غالب کی شاعری کی ایک اور اہم خصوصیت خوبصورت تشبیہات و استعارات کا استعمال ہے۔مرزا اپنی انفرادیت پسند طبع کے تحت قدیم روایتی استعارات کی بجائے جدید اور دلکش تشبیہات استعمال کرتے ہیں۔ مولانا حالی نے اس کی وجہ اُن کے خیالات کی جدت قرار دیا ہے۔ یہ بات بڑی واضح ہے کہ جب خیال جدید اور اچھوتا ہوگا تو اس کے لیے تشبیہ میں بھی لازمی جدت ہوگی۔اسی طرح شیخ اکرام نے ان کو تشبےہات کا بادشاہ قرار دیا ہے۔ مثلاً

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا


سبزہ خط سے ترا کاکل ِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف ِ دم افعی نہ ہوا


دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک


جوۓ خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
مین يہ سمجھوں گا کہ شمعين دو فروزاں ہو گئیں

جدت ادا

غالب ذہنی اور طبعی اعتبار سے انفرادیت پسند تھے ۔ کسی کی تقلید کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ وہ وبائے عام میں بھی مرنا نہیں چاہتے تھے۔ غالب کی یہی جدت ادا ان کی شاعری میں نئے نئے گھل کھلاتی ہے۔ مرزا سے پہلے تمام شعراءکا طریقہ شعر گوئی یہ رہا کہ وہ قدیم خیالات میں کچھ ترمیم کرکے پیش کر دیتے تھے۔ لیکن غالب کے ہاں ایسا نہیں۔اُن کی جدت طبع اور انفرادیت پسندی ہمیشہ نئے نئے خیال ڈھونڈ نے پر مجبور کرتی رہی۔ چنانچہ اُن کی شاعری میں ہمیںرنگا رنگی اور بوقلمونی محسوس ہوتی ہے۔ اگر کبھی مرزا نے کسی قدیم خیال کو ادا بھی کیا ہے تو اس انداز میں کہ شانِ استادی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا


ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں


ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے


بسکہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

تصوف

غالب کوئی باقاعدہ صوفی شاعر نہ تھے اور نہ اُن کو تصوف سے دلچسپی تھی لیکن پھر بھی ان کی شاعری میں بعض مقامات پر تصوف کے عناصر ملتے ہیں جس کی بنیادی وجہ فارسی شاعری میں تصوف کی روایت کی موجودگی ہے اس کے علاوہ اس دور کے حالات بھی تصوف کے لیے خاص طور پر سازگار تھے۔ طبیعتیں بھی غم و الم اور فرار کی طرف مائل تھیں۔ لیکن غالب نے تصوف کو محض رسمی طور پر ہی قبول کیا۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے


اُسے کون دیکھ سکتا وہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا


نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیاہوتا

غالب کا تصور عشق

غالب کے ہاں حسن و عشق کے تصورات اگرچہ وہی ہیں جو صدیوں سے اردو اور فارسی شاعری میں اظہار پاتے رہے ہیں ۔ تاہم غالب کی فطری جدت پسندی نے ان کو صرف انہی موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے ذاتی تجربات و محسوسات کی روشنی میں حسن و عشق کے بارے میں انہوں نے اپنی انفرادیت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
غالب عشق کی اہمیت کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ اس کے بغیر انجمن ہستی کو بے رونق سمجھتے ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ

رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں


غالب کو اس بات کا بڑا قلق ہے کہ وہ عشق کی بزم آرائی تو عمر بھر کرتے رہے لیکن عشق کی راہ میں حقیقی قربانی ایک بھی نہ دے سکے اور وہ غالباً اس لئے کہ ان کے پاس عشق کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔فرماتے ہیں کہ

ہوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ
سوائے حسرت تعمیرگھر میں خاک نہیں


غالب عشق کے پرانے افلاطونی تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے ۔ بلکہ اس کے برخلاف ان کا عشق زمینی اوصاف کا حامل ہے۔

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں


غالب کے ہاں عشق کی روایتی عاجزی اور مسکینی کے برخلاف ایک جارحانہ انداز پایا جاتا ہے ۔ ایک خاص مقام اور مخصوص شان ہے۔ وہ سوتے ہوئے محبوب کے پائوں کا بوسہ محض اس لیے نہیں لیتے کہ وہ بدگماں نہ ہو جائے۔ وہ ناراض محبوب کو مناتے بھی نہیں کہ یوں ان کی سبکسری کا پہلو نکل سکتا ہے۔ وہ بزم میں نہیں بلاتا تو یہ راہ میں نہیں ملتے اور جب وہ عجز و نیاز سے رہ پر نہیں آتے تو اس کے دامن کو حریفانہ کھینچنے کی جرات رندانہ بھی کر لیتے ہیں۔

لے تو لوں سوتے میں اُس کے پائوں کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا


عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر
دامن کو اس کے آج حریفانہ کھنچئے

غالب کا تصور حسن یا تصور محبوب

حسن کے بارے میں غالب کے تصورات کا سراغ لگانے کے لئے اُن کے محبوب کی تصویر دیکھنا ہوگی اس لئے کہ ان کے محبوب کی ذات میں وہ تمام خصوصیات جمع ہوگئیں ہیں۔ایک طرف تو غالب نے روایتی تصوارت سے استفادہ کیا ہے۔ اور دوسری جانب بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو قدیم تصورات سے مختلف ہیں۔ ان کے خیال میں حسن میں سادگی و پرکاری دونوں ہونے چاہئیں۔غالب کو دراز قد ، دراز زلف ، شوخ و شنگ، سادہ و پرکار، شان محبوبی کا مالک ، لمبی لمبی پلکوں والا۔ چاند چہرے کا مالک، ستارہ آنکھوں والا محبوب پسند ہے اور وہ اسی کے حسن کے قصیدے گاتے ہیں۔

سادگی و پرکاری ، بے خودی و ہشیاری
حسن کوتغافل میں جرا ت آزما پایا


اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے


جال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جاکرے کوئی

مجموعی جائزہ

ڈاکٹر فرمان فتح پور ی لکھتے ہیں کہ، "غالب کے اقوال و بیانات کے سلسلے میں خصوصاً محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہ بنوٹ باز شاعر ہیں قدم قدم پر پنتیر ے بدلتے ہیں اور اپنی خوداری اور انانیت کے باوصف مصلحت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔"
عبادت بریلوی لکھتے ہیں کہ
غالب ایک بڑی رنگین ایک بڑی ہی پر کار اور پہلو دار شخصیت رکھتے تھے اور اس رنگینی ، پر کاری اور پہلو
داری کی جھلک ان کی ایک ایک بات میں نظرآتی ہے۔


بقول رشید احمد صدیقی،

مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا ۔ تو میں بے تکلف یہ تین نا م لوں گا غالب اردو اور تاج محل۔
بقول ڈاکٹر محمد حسن، دیوان ِ غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل قرار دے سکتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، اردو میں پہلی بھرپور اور رنگارنگ شخصیت غالب کی ہے۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالاہے۔
Reply With Quote
The Following 5 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Farrah Zafar (Monday, April 16, 2012), Hamidullah Gul (Monday, April 16, 2012), silza (Thursday, September 19, 2013), Taimoor Gondal (Monday, April 16, 2012), tknw01 (Wednesday, April 25, 2012)
  #3  
Old Tuesday, April 17, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default mirza ghalib

مرزا اسد اللہ خان غالب


مرزا غالب(1797-1869)اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے ہیں اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے ہیں۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباًً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی


مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا
آئین اکبری کی منظوم تقریظ

1855 میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف آئین اکبری کی تصیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھا ۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ مردہ پرورن مبارک کارِنیست یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی ، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کردیا۔
غالب اور علی گڑھ

دیار علی گڑھ اپنے جغرافیائی محل و وقوع کے اعتبار سے مرزا غالب کے مولد اکبر آباد اور مسکن و مدفن دہلی کے درمیان آباد وہ قدیم شہر ہے جو تاریخ میں عرصہ دراز تک کولکے نام سے مشہور رہ کر مغل حکمراں بابر کے ایک ماتحت عہدیدار محمدعلی جنگ جنگ (فاتح کول)کے دور میں علی گڑھ کے نام سے موسوم ہوا تھا ۱مگر عہدغالب میں بھی دیار علی گڑھ کو اس کے قدیم نام کول سے یاد کئے جانے کی روایت جاری رہی تھی غالب نے اپنے متعدد اردو خطوط میں اس شہر کو علی گڑھ اور کول دونوں ہی ناموں سے یاد کیا ہے۔ غالب کے مولد و مدفن سے دیار علی گڑھ کے محل وقوع کی قربت غالب اور علی گڑھ کے درمیان ایک وابستگی کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے
.
علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خاں اور اقلیم شعر و ادب کے قد آور سخن ور مرزا اسد اللہ خاں غالب کے درمیان تعلق کے جن رشتوں کا سراغ ملتا ہے اس مقالے میں سب سے پہلے انہیں پر روشنی ڈالنا مناسب ہوگا۔ غالب اور سر سید کے صحیفہ حیات کے مطالعے سے اس دلچسپ اتفاق کا انکشاف ہوتا ہے کہ جس طرح سید احمد خاں کا مولد دہلی غالب کا مسکن رہا تھا اسی طرح غالب کا مولد آگرہ بھی چند سال تک سید احمد خاں کا مسکن بنا تھا۔ گویا ان دونوں ہم عصر مشاہیر میں سے ایک کا مولد دوسرے کا مسکن رہاہے۔ تنخواہ اور پنشن کے سلسلے میں دونوں معاصرین کے احوال میں اشتراک کا یہ دلچسپ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ غالب انگریزی حکومت سے پنشن اور مغل دربار سے تنخواہ پایا کرتے تھے۔ سید احمد خاں کو مغل دربار سے خاندانی پنشن اور انگریزی حکومت سے تنخواہ ملتی رہی تھی۔
مرزا غالب (متولد ۷۲دسمبر ۷۹۷۱ئ)سید احمد خاں (ولادت ۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ئ)سے عمر میں کم و بیش بیس سال بڑے تھے۔ غالب اپنی شادی (۷۱رجب ۵۲۲۱ھ مطابق شنبہ ۸۱ اگست ۰۱۸۱ئ)کے دو تین سال بعد تقریباًًً ۳۱، ۲۱۸۱ءمیں اپنے مولد اکبر آباد کو خیر باد کہہ کر دہلی منتقل ہوئے تھے اور غالب کے ورود دہلی کے چار پانچ سال بعدسید احمد خاں کی ولادت ۷۱اکتوبر ۷۱۸۱ء کو دہلی میں ہوئی تھی ۔

غالب اور سید احمد خاں کے سن وسال میں بیس برس کے اس تفاوت کے باعث ان دونوں ہم عصروں میں برابر کے دوستانہ روابط تو نہ قائم ہوسکے لیکن دہلی کے ایک ہی دیار میں دونوں کا برسوں تک قیام دونوں میں باہمی شناسائی اور قربت کا سبب ضرور بنا تھا۔ حیات جاوید[4] میں شاگرد غالب مولانا حالی راوی ہیں کہ سید احمد خاں مرزا غالب کو چچا کہتے تھے اور مرزا بھی سید صاحب پر بزرگانہ شفقت فرمایا کرتے تھے حیات جاوید[5] میں مولانا حالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ سید احمد خاں اپنے علمی ذوق کی تسکین و تکمیل کےلئے اٹھارہ انیس سال کے سن میں (۶۳۔۵۳۸۱ئ) کے آس پاس دہلی کے جن عالموں کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہتے تھے ان میں غالب بھی شامل تھے۔ فروری ۹۳۸۱ء سے سرسید احمد خاں انگریزی حکومت میں اپنی ملازمت کے باعث دہلی سے نکل کر زیادہ تر مختلف مقامات پر رہنے لگے اور دہلی میںانہیں مستقل قیام کا موقع کم ہی مل سکا تھا.[6] ان حالات کے پیش نظر دہلی میں غالب سے سید احمد خاں کی ملاقات کے مواقع کم ہی رہے ہوں گے لیکن غالب اور سیداحمدخاں کے ادبی آثار میںایسے متعدد شواہد دستیاب ہوتے ہیں جن سے ان دونوں ہم عصروں میں باہمی تعلقات کا اظہار ہوتا ہے۔ مرزا غالب کا اردو دیوان پہلی بار سید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں کے مطبع واقع دہلی سے شعبان ۷۵۲۱ھ مطابق اکتوبر ۱۴۸۱ءمیں شائع ہوا تھا ۔۵ ان دونوں کے درمیان تعلقات کی تصدیق سید احمد خاں کے نام غالب کے اس نودریافت فارسی خط سے بھی ہوتی ہے۔ جو ۰۱جنوری ۲۴۸۱ءکے بعد مگر ۳۱دسمبر ۵۴۸۱ءسے قبل اس زمانے میں لکھا گیا تھا جب سید احمد خاں فتح پور سیکری (ضلع آگرہ) کے منصف تھے۔

غالب کا ایک نو دریافت فارسی خط کتاب تلاش غالب میں موجود ہے۔ اور اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خط در اصل غالب کے نام سید احمد خاں کے ایک خط کا جواب ہے۔ غالب کا یہ خط اور اس میں سید احمد خاں کے مکتوب کا حوالہ غالب اور سید احمد خاں کے درمیان مکاتبت کے رشتے کا بھی انکشاف کرتا ہے اس خط میں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ غالب نے اس خط کے ہمراہ سید احمد خاں کو اپنی ایک نعتیہ مثنوی بھی نقل کرکے ارسال کی تھی۔ غالب نے مکتوب الیہ کے بڑے بھائی کو آخر میںسلام لکھ کراس خط کو تمام کیا ہے۔ سید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں ۳۱ذی الحجہ ۱۶۲۱ھ مطابق ۳۱دسمبر ۵۴۸۱ءکو دہلی میں فوت ہوئے تھے لہٰذا سید احمد خاں کے نام غالب کایہ فارسی خط ۳۱دسمبر ۵۴۸۱ء سے قبل لکھا گیا ہوگا۔ سید احمد خاں مرزا غالب سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھے۔ سید صاحب کی کتاب آثار الصنادید کے ۷۴۸۱ءکے پہلے ایڈیشن کے چوتھے باب میں ذکر بلبل نوایان سواد جنت آباد حضرت شاہ جہاں آباد کے عنوان کے تحت دہلی کے جن متعدد شاعروں کا حال ملتا ہے ان میں سر فہرست خاصی مدح و تعریف کے ساتھ غالب کے مفصل احوال اور ادبی آثار کو جگہ دی گئی ہے۔

اس کتاب میں ذکر غالب کے ضمن میں سید احمد خاں نے غالب سے اپنے عقیدت مندانہ گہرے روابط کا حالان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ : ان (غالب)کی نعمت تربیت کا راقم آثم (سید احمد خاں) کو جو ان کی خدمت میں ہے، اس کا بیان نہ قدرت تقدیر میں ہے اور نہ احاطہ تحریر میںآسکتا ہے اور چوں کہ دلہا بدلہا باشد ان حضرت کو بھی وہ شغف تھا راقم کے حال ہے کہ شاید اپنے بزرگوں کی طرف سے کئی مرتبہ اس کا مشاہدہ کیا ہوگا میں اپنے اعتقاد میں ان کے ایک حرف کو بہتر ایک کتاب سے اور ان کے ایک گل کو بہتر ایک گلزار سے جانتا ہوں۔



غالب کے ادبی آثار میں سید احمد خاں کی مرتب کردہ فارسی کتاب آئین اکبری (سنہ اشاعت ۲۷۲۱ھ مطابق ۵۵۸۱ئ)پر بشکل مثنوی ایک منظوم فارسی تقریظ بھی موجود ہے۔ اڑتیس اشعار کی یہ مثنوی کلیات غالب طبع ۳۶۸۱ءمیں شامل ہے۔ اس مثنوی میں غالب نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ آئین اکبری جیسی تقویم پارینہ کتاب پر محنت کرنے کے بجائے انگریزوں کے آئین حکومت پر توجہ دینا بہتر ہوگا۔


اپنی مرتب کردہ کتاب آئین اکبری کے خلاف غالب کی یہ تقریظ سید احمد خاں کو ناپسند ہوئی اور انہوں نے اسے کتاب میں شائع نہیں کی۔ ۲۷۲۱ھ/۵۵۸۱ءکے آس پاس کا یہ ناخوش گوار واقعہ غالب اور سید احمد خاں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی و بد مزگی کا سبب بنا تھا.[8] آئین اکبری پر غالب کی مخالفانہ تقریظ کی واپسی کے سلسلے میں سید احمد خاں نے غالب کے نام جو خط لکھا تھا وہ تو اب ناپید ہے لیکن حیات جاوید (ص ص ۲۷ تا ۳۷)میں اس ناخوشگوار واقعے کے متعلق مولانا حالی کے بیان کی شہادت سید احمد خاں اور غالب کے درمیان مکاتبت کے اس رشتے کی نشان دہی ضرور کرتی ہے جس کے ثبوت سطور گذشتہ میں پہلے بھی پیش کئے جاچکے ہیں۔ آئین اکبری کے متعلق غالب کی یہ مخالفانہ تقریظ اس لحاظ سے بھی ہمارے نزدیک ایک بعید از انصاف بات ثابت ہوتی ہے کہ غالب اس واقعے سے کچھ عرصہ قبل خود مہر نیم روز کے عنوان سے سلطنت مغلیہ کی تاریخ لکھ چکے تھے۔

مہر نیم روز کی پہلی اشاعت ۲ربیع الاول ۱۷۲۱ھ مطابق جمعہ ۳۲نومبر ۴۵۸۱ءکو منظر عام پر آئی تھی جو اکبر اعظم کے والد مغل حکمراں نصیر الدین ہمایوں تک کی سلطنت مغلیہ کی تاریخ پر مشتمل ہے ۔

ان حقائق کے پیش نظر سلطنت مغلیہ کی تاریخ سے متعلق جس کام کو وہ خود انجام دے چکے تھے اس کی سر انجام دہی پر غالب کا سید احمد خاں کو روکنا کہاں تک جائز تھا۔ ؟ ہمارے خیال میں یہ سوال قابل غور ضرور ہے۔ سید احمد خاں کی مرتب کردہ کتاب آئین اکبری کے متعلق غالب کی تقریظ سے ان دونوں ہم عصر مشاہیر کے درمیان ۵۵۸۱ءکے آس پاس پیدا ہوجانے والی یہ دوری یوں دورہوئی کہ مرزا غالب جب سفر رامپور سے دہلی واپس ہورہے تھے تو وہ راہ میں چند روز کے لئے مراد آبادکی سرائے میں ٹھہرے۔ سید احمد خاں اس زمانے میں مراد آباد ہی میں صدر الصدور تھے۔ سید صاحب غالب کو سرائے سے اپنے مکان لے آئے اور انہوں نے اپنے مکان پر غالب کی خاطر خواہ خاطرمدارات کرکے ان سے اپنے روابط دوبارہ استوار کر لئے۔ حالی کا بیان ہے کہ غالب نے یہ سفر والی ِ رام پور نواب یوسف علی خاں کے زمانے میں کیا تھا ۴۱ ہماری معلومات کے مطابق نواب یوسف علی خاں کے دور میں غالب کے قیام رام پور کازمانہ ۷۲جنوری ۰۶۸۱ءسے ۷۱مارچ ۰۶۸۱ءتک کی درمیانی مدت کو محیط رہا تھا اور وہ ۷۱مارچ سے ۴۲مارچ ۰۶۸۱ءکی درمیانی تاریخوں کے دوران مراد آباد میں سید احمد خان کے مکان پر ایک آدھ روز مہمان رہے تھے۔ غالب اور سید احمد خاں کے درمیان ذاتی نوعیت کے یہ روابط ہمارے غالب اور علی گڑھ کے سلسلے میں پس منظر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غالب کے عزیزوں ، کرم فرماﺅں ، شاگردوں اور عقیدت مندوں کی فہرست میں ایسے متعدد افراد کے نام ملتے ہیں جن کے روابط سید احمد خاں سے بھی ثابت ہوتے ہیں ان دونوں ہم عصر مشاہیر کے مشترک مربیوں اور رفیقوں وغیرہ کی جامع و مکمل فہرست جس محنت و فرصت کی طالب ہے اس کے لئے سر دست ہمارے پاس وقت نہیں ۔ہم غالب و سید احمد خاں کے دائرہ تعارف و تاثر میں شامل صرف ان چند افراد کے مختصر ذکر پر اکتفا کرتے ہیں جن کا حوالہ ان دونوں مشاہیر کے احوال یا ادبی آثار وغیرہ میں ہماری نظر سے گزرا ہے۔
سید محمد خاں سید محمد خاں (متوفی ۳۱ذی الحجہ ۱۶۲۱ھ مطابق ۳۱دسمبر ۵۴۸۱ئ) سید احمد خاں کے حقیقی بڑے بھائی تھے۔ سید محمد خاں نے سید الاخبار کے نام سے دہلی سے ایک ہفتہ وار اخبار نکالا تھا جس میں سید احمد خاں کے مضامین بھی چھپا کرتے تھے۔ یہ اخبار جس پریس سے شائع ہوتاتھا اس کے یہ دو نام ملتے ہیں:


(۱)لیتھو گرافک پریس دہلی. (۲)مطبع سید الاخبار دہلی .


سید الاخبار کے لیتھو گرافک پریس دہلی سے غالب کا اردو دیوان ان کی زندگی کے دوران پہلی بار شعبان ۷۵۲۱ھ مطابق اکتوبر ۱۴۸۱ءمیں چھپا تھا۔ غالب شاید اسی لئے سید محمد خاں اور ان کے سید الاخبار کو عزیز رکھتے تھے ۔سید الاخبار اور سید محمد خاں کے متعلق غالب نے میجر جان کوب کو اپنے ایک فارسی خط میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اردو مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ سید الاخبار کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ منت مزید ہے مطبع سید الاخبار کے مالک جو میرے دوست ہیں میراکلام چھاپ رہے ہیں۔ دیوان اردو غالباً ایک مہینے کے اندر چھپ کر نظر عالی سے گزرے گا۔ سید الاخبار ہر ہفتے آپ کی خدمت میں پہونچتا رہے گا مطبع والوں نے میری آپ سے نیاز مندی کی بنا پر آپ کا نام نامی سر فہرست خریداران رکھا ہے۔ مطبع سید الاخبار سے غالب کے اردو دیوان کے علاوہ خودسید احمد خاں کی بھی بعض کتب شائع ہوئی تھیں۔ جن میںآثار الصنادید طبع اول (مطبوعہ ۷۴۸۱ءبھی شامل ہے (بہ حوالہ آثار الصنادید سید احمد خاں مرتبہ خلیق انجم جلد اول اردو اکادمی دہلی طبع ۰۹۹۱ءص ۷۵۱)
http://ur.wikipedia.org/wiki/

Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Hamidullah Gul (Friday, April 20, 2012), silza (Thursday, September 19, 2013)
  #4  
Old Tuesday, April 17, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

غالب کے خطوط

'مرزا اسد اللہ خان غالب' کی شخصیت کو کون نہیں جانتا ۔ ہمارے ملک میں تو یہ عالم ہے کہ اگر کسی کو تھوڑی بہت اردو کی سوجھ بوجھ ہے تو غالب کے نام کو تو ضرور جانتا ہوگا۔ بحیثیت شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان ذد خلائق ہیں۔ اور بحیثیت نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی ، انشاءپردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین ۔ یہی نمونہ نثر آنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئے ۔ انہوں نے اپنے خطوط کے ذریعہ سے اردو نثر میں ایک نئے موڑ کا اضافہ کیا۔ اور آنے والے مصنفین کو طرز تحریر میں سلاست روانی اور برجستگی سکھائی ۔ البتہ مرزا غالب کے مخصوص اسلوب کو آج تک ان کی طرح کوئی نہ نبھا سکا۔ غالب کے خطوط آج بھی ندرت کلام کا بہترین نمونہ ہیں۔


غالب نے فرسودہ روایات کو ٹھوکر مار کر وہ جدتیں پیدا کیں جنہوں نے اردو خطو ط نویسی کو فرسودہ راستے سے ہٹا کر فنی معراج پر پہنچا دیا۔ غالب کے خطوط میں تین بڑی خصوصیات پائی جاتی ہیں اول یہ کہ انہوں پرتکلف خطوط نویسی کے مقابلے میں بے تکلف خطوط نویسی شروع کی۔ دوسری یہ کہ انہوں نے خطوط نویسی میں اسٹائل اور طریق اظہار کے مختلف راستے پیدا کئے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے خطو ط نویسی کو ادب بنا دیا۔ اُن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے محمد شاہی روشوں کو ترک کرکے خطوط نویسی میں بے تکلفی کو رواج دیا اور القاب و آداب و تکلفا ت کے تمام لوازمات کو ختم کر ڈالا۔


== جدید نثر کی ابتدا ==

شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، اردو انشاء پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔

غالب کی شخصیت ایک شدید انفرادیت کی مالک تھی۔ وہ گھسے پٹے راستے پر چلنے والا مسافر نہیں تھا ۔ وہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے راہرو بھی تھا اور رہبر بھی غالب کی فطرت میں اختراع و ایجاد کی رگ بڑی قوی تھی۔ غالب نے جس جدید نثر کی بنیاد رکھی اسی پر سرسید اور اُن کے رفقاءنے ایک جدید اور قابل دید عمارت کھڑی کردی۔ سادگی ، سلاست ،بے تکلفی و بے ساختگی ، گنجلک اورمغلق انداز بیان کی بجائے سادا مدعا نگاری یہ تمام محاسن جو جدید نثر کا طرہ امتیاز ہیں مکاتیب غالب میں نمایاں نظر آتی ہیں ۔



اس میں کوئی شک نہیں کہ غالب جدید اردو نثر کے رہنما ہیں ۔ آج نثر کی کوئی ایسی صنف موجود نہیں جس کے لئے مکاتیب غالب میں طرز ادا کی رہنمائی نہ ملتی ہو۔ بقول اکرم شیخ،

غالب نے دہلی کی زبان کو تحریر ی جامہ پہنایا اور اس میں اپنی ظرافت اور موثر بیان سے وہ گلکاریاں کیں کہ اردو معلی خا ص و عام کو پسند آئی اور اردو نثر کے لئے ایک طرز تحریر قائم ہوگیا۔ جس کی پیروی دوسروں کے لئے لازم تھی۔
خطوط او ر غالب کی شخصیت

اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انہیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں ۔جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا ۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔

غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں ، اپنی آرزوں اور خواہشوں ، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں ، اپنی شوخیوں ، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔
غرض ان کی شخصیت کی کامل تصویر اپنی تمام تر جزئیات و تفصیلات کے ساتھ ان کے خطوط ہی میں دیکھی جا سکتی ہے
بے تکلفی اور سادگی

غالب کے انداز نگارش کی ممتاز ترین خصوصیت یہ ہے کہ جو کچھ لکھتے ہیں بے تکلف لکھتے تھے۔ ان کے خطوط کا مطالعہ کرتے وقت شائد ہی کہیں یہ احساس ہو کہ الفاظ کے انتخاب یا مطالب کی تلاش و جستجو میں انہیں کاوش کرنی پڑی ۔ عام ادبی بول چال کا سہارا لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالب کی تحریر آورد نہیںآمدہے۔ مولانا حالی کے الفاظ میں ، مرزا سے پہلے کسی نے خط و کتابت کا یہ انداز اختیار کیا اور نہ ان کے بعد کسی سے اس کی پوری پوری تقلید ہو سکی۔
انھوں نے القابات کے فرسودہ نظام کو ختم کردیا۔ وہ خط کو میاں، کبھی برخودار، کبھی مہاراج ، کبھی بھائی صاحب، کبھی کسی اور مناسب لفظ سےشروع کرتے ہیں۔ اس بے تکلفی اور سادگی نے ان کے ہر خط میں ڈرامائی کیفیت پیدا کردی ہے۔ مثلا یوسف مرزا کو اس طرح خط شروع کرتے ہیں،


کوئی ہے، ذرا یوسف مرزا کو بلائیو، لو صاحب وہ آئے
۔
جدت طرازی

غالب کی تحریر کی جان جد ت طرازی ہی ہے۔ وہ بنے بنائے راستوں پر چلنے کے بجائے خود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ عام اور فرسودہ انداز میں بات کرنا اُن کا شیوہ نہیں۔ انہوں نے خطوط نویسی کو اپچ اور ایجاد کا طریقہ نو بخشا، جو ادبی اجتہاد سے کم نہیں، میرمہد ی کا ایک خط یوں شروع ہوتا ہے۔


مار ڈالا یا ر تیری جواب طلبی نے


ایک اور خط کی ابتداءیوں کرتے ہیں،


آہا ہاہا۔ میراپیارا مہدی آیا۔ آئو بھائی، مزاج تو اچھا ہے۔ بیٹھو۔

غالب کی اس جدت پسندی نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ۔ اپنی اس جدت پسندی پر خود اظہار خیال کرتے ہیں کہ،
میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ ہزار کوس سے بہ زبان قلم باتیں کرو ، ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو۔
شوخئ تحریر

مولانا حالی لکھتے ہیں کہ جس چیز نے ان کے مکاتیب کو ناول اور ڈراما سے زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے وہ شوخیتحریر ہے جو اکتساب ، مشق و مہارت یا پیروی و تقلید سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے خط و کتابت میں مرزا کی روش پر چلنے کا ارادہ کیا اور اپنے مکاتبات کی بنیاد بذلہ سنجی و ظرافت پر رکھنی چاہی ہے۔ مگر ان کی اور مرزا کی تحریر میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو اصل اور نقل یا روپ بہروپ میں پایا ہوتا ہے۔مرزا کی طبیعت میں شوخی ایسی بھری ہوئی تھی جیسے ستار میں سر بھرے ہوئے ہیں ۔ اور بقول حالی

مرزا کو بجائے حیوان ناطق حیوان ظریف کہنا بجا ہے۔



غالب نے اپنی طبیعت کی شوخی اور ظرافت سے کام لے کر اپنے خطوں میں بھی بذلہ سنجی اور شگفتگی کے گلزار کھلا ئے ہیں۔ ماہ رمضان میں لکھا گیا ایک خط: پانی ، حقے اور روٹی کے ٹکڑے سے روزے کو بہلاتا ہوں۔
میاں تمہارے دادا امین الدین خان بہادر ہیں میں تو تمہارا دلدادہ ہوں۔ یا جیسے کہ "تم تو چشم نورس ہو اس نہال کے"
ذا ت اور ماحول

پورے مکاتیب غالب کو سامنے رکھ کر حیات غالب کا مکمل نقشہ تیار کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ غالب نے اپنے اردگرد کے ماحول اور حالت زندگی کی مکمل ترجمانی اپنے خطوط میں کی ہے۔ مثلاً پیدائش، خاندان، وسائل معاش ، رہائش ، دوست احباب ، خوردونوش ، شب وروز کی مشغولیات، سفر و حضر وغیرہ ۔ حیات غالب کے متعلق تمام معلومات مکاتیب میں موجود ہیں۔ ایک خط میں اپنے ماحول کے متعلق یوں رقمطراز ہیں،


میں جس شہر میں ہوں ، اس کا نا م دلّی اور اس محلے کا نام بلی ماروں کا محلہ ہے۔ لیکن ایک دوست اس جنم کے دوستوں میں نہیں پایا جاتا ۔ واللہ ڈھونڈنے کو مسلمان اس شہر میں نہیں ملتا ۔ کیا امیر ، کیا غریب ، کیا اہل حرفہ ۔ اگر کچھ ہیں تو باہر کے ہیں۔ ہنود البتہ کچھ کچھ آباد ہوگئے ہیں۔
ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ غالب کئی جدید اصناف کے موجد بھی قرار پائے جن مختصرذکر ذیل میں دیا جا رہا ہے۔
مکالمہ نگاری و انشائیہ

غالب نے نامہ نگاری کو مکالمہ بنا دیا ہے جس میں مکالمے بھی ہیں اور بات چیت کی مجلسی کیفیت بھی: بھائی تم میں مجھ میں نامہ نگاری کاہے کو ہے ۔مکالمہ ہے۔
باتیں کرنے کا یہ انداز نثر میں زندگی کی غمازی کرتا ہے۔ اور اسلوب کا یہ انداز ہے جو انشائیہ نگاری کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اردو میں انشائیہ کی صنف غالب کے بعد سرسید کے زمانے میں ظہور میں آئی۔ لیکن اس صنف ادب کے لئے غالب کے اسلوب گفتگو نے زمین پہلے سے ہموار کردی تھی۔ سرسید اور اُن کے رفقاءنے جب انشائیے لکھنے شروع کئے تو مکاتیب غالب کا سادہ ، صاف اور نکھرا ہوا اسلوب ان کے کام آیا۔
ڈراما

غالب نے اپنے خطوط میں مکالمہ نگاری کا جو اسلوب اپنایا ہے اس میں ڈرامائیت کی وہ اد ا نظر آتی ہے جو آگے چل کر ڈرامہ نگاری کا ایک لازمی حصہ بن گئی۔ اردو کے افسانوی ادب میں ناول اور ڈرامے کی اصناف بھی غالب کے بعد ظہور میں آئیں۔ لیکن خطوط غالب کے یہ پیرایہ ہائے بیان ان اصناف ادب کے لئے اظہار و بیان کی راہیں تیار کر گئے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ لکھتے ہیں۔

غالب: بھئی محمد علی بیگ، لوہاروں کی سواریاں روانہ ہو گئیں؟
محمد علی: حضرت ابھی نہیں!
غالب: کیا آج جائیں گی؟
محمد علی: آج ضرو ر جائیں گے! تیاری ہو رہی ہے!
رپورتاژ

مکالموں اور باتوں کے ساتھ ساتھ مجلسی زندگی کا ایک اہم پہلو خبریں سنانے کا ہے۔ خبریں اور خبروں پر تبصرے معاشرتی جبلت ہے۔ جن کی تکمیل احباب کی شبانہ روز مجلسوں میں ہوتی ہے۔ غالب نے بھی اس کے ذریعے مجلسی فضا پیدا کرکے اپنی اور احباب کی تسکین دل کا سامان کیا ہے: آج شہر کے اخبار لکھتا ہوں۔ سوانح لیل و نہار لکھتا ہوں۔
ہم تمہارے اخبار نویس ہیں اور تم کو خبر دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔
اس طرح غالب صرف واقعات و حالات ہی بیان نہیں کرتے بلکہ ردعمل اور تاثرات بھی قلم بند کر جاتے ہیں۔ اس طرح غالب کے خطوط کا یہ سرمایہ رپورتاژ کی ذیل میں آجاتا ہے۔ جسے ادب میں ایک الگ صنف کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔
آپ بیتی

غالب آپ بیتی یا سر گزشت نہیں لکھ رہے تھے ۔ صرف احباب کے نام خط لکھ رہے تھے لیکن ان خطوط میں انہوں نے اپنی زندگی کے متعلق اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز سے لکھ دیا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہو جاتی ہے۔ اردو ادب میں آپ بیتی کو بعد میں اپنایا گیا لیکن مکاتیب ِ غالب میں ان کی خود نوشت سوانح نے اردو میں آپ بیتی کے لئے زمین ہموار کر دی تھی۔
مختصر کہانی

دراصل خطوط غالب انسانی زندگی کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں اور مختصر کہانی کا موضوع ہی انسانی زندگی کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ غالب نے شخصی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو بیان کرنے میں جس رواں اور شگفتہ انداز بیاں کو اختیار کیا ہے اس نے مختصر کہانی کے لئے راہیں ہموار کیں۔

اس طرح غالب کے خطوط بیشتر اصناف ادب کے لئے پیشرو اور رہنما ثابت ہوئے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر غالب نے اپنے خطوط میں یہ راہیں نہ دکھائی ہوتیں تو اردو کے نثری اوصناف ادب کو اپنے نشونما و ارتقاء میں شائد اتنی سہولتیں نہ ملتیں۔
مجموعی جائزہ

غالب کے خطوط اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اردو ادب کے عظیم نثر پاروں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ یہ خطو ط فطری اور بامعنی ہیں۔ انہوں نے القاب و آداب غائب کر دیے ہیں۔ اور ان میں ڈرامائی عنصر شامل کر دیا ہے۔ اُ ن کا اسلوب خود ساختہ ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بیان کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں ۔ مشاہدہ بہت تیز ہے ۔ منظر نگاری خاکہ نگاری میں بھی ملکہ حاصل ہے اُن کے خطوط کی سب سے بڑی خصوصیت لہجہ کی شیرینی اور مزاح کی خوش بینی ، ظرافت اور مزاح ہے۔ جس میں ہلکی ہلکی لہریں طنز کی بھی رواں ہیں۔ جبکہ یہی خطوط ہیں جو اردو ادب کے کئی اصناف کی ابتداءکا موجب بنے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غالب کو اگر شاعری میں ایک انفرادی حیثیت حاصل ہے تو نثر میں بھی وہ ایک الگ اور منفرد نام رکھتے ہیں۔ بقول غلام رسول مہر: غالب نے اپنی سرسری تحریرات میں ذات اور ماحول کے متعلق معلومات کا جو گراں قدر ذخیرہ و ارادہ فراہم کردیا ہے ۔ اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے مجموعے میں نظر نہ آئے گا۔
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Hamidullah Gul (Friday, April 20, 2012), silza (Thursday, September 19, 2013)
  #5  
Old Tuesday, April 17, 2012
Farrah Zafar's Avatar
Makhzan-e-Urdu Adab
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: May 2010
Location: امید نگری
Posts: 2,383
Thanks: 2,346
Thanked 4,035 Times in 1,574 Posts
Farrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud of
Default

Good work Siddique :-)

Before posting new thread,kindly search it so that we may continue the already started thread.

These two threads should be merged. @ Mods

http://www.cssforum.com.pk/css-optio...za-ghalib.html
__________________
Love is my Shield,Truth is my Sword,Brain is my Crown,Smile is my Treasure and I'm a Queen;
Quitters never win and Winners never quit..!!!
Reply With Quote
  #6  
Old Friday, April 20, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

Quote:
Originally Posted by Farrah Zafar View Post
Good work Siddique :-)

Before posting new thread,kindly search it so that we may continue the already started thread.

These two threads should be merged. @ Mods

http://www.cssforum.com.pk/css-optio...za-ghalib.html
I have checked that , In fact I am sharing these in order to cover the whole syllabus of Urdu; and specifically those only as are in Urdu script. So, i think it is not needed to be merged with any other one.
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
Hamidullah Gul (Friday, April 20, 2012), silza (Thursday, September 19, 2013)
  #7  
Old Wednesday, April 25, 2012
Farrah Zafar's Avatar
Makhzan-e-Urdu Adab
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: May 2010
Location: امید نگری
Posts: 2,383
Thanks: 2,346
Thanked 4,035 Times in 1,574 Posts
Farrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud ofFarrah Zafar has much to be proud of
Default

Quote:
Originally Posted by siddiqui88 View Post
I have checked that , In fact I am sharing these in order to cover the whole syllabus of Urdu; and specifically those only as are in Urdu script. So, i think it is not needed to be merged with any other one.

I said so because I observed here that it's not appreciated to make separate threads for same purpose.Merging just meant to make all stuff available in a single thread to facilitate members.

It's ok if you don't want to make them one.I could only suggest
__________________
Love is my Shield,Truth is my Sword,Brain is my Crown,Smile is my Treasure and I'm a Queen;
Quitters never win and Winners never quit..!!!
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Farrah Zafar For This Useful Post:
siddiqui88 (Thursday, April 26, 2012)
  #8  
Old Thursday, June 07, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

غالب کے محاسنِ کلام


غالب کے محاسنِ کلام ذیل مین درج میں درج ہیں۔

(۱) فلسفیانہ لہجہ

غالب فلسفی شاعر تھے۔ تخیل پروازی اور فلسفیانہ انداذِ بیان انکے کلام پر حاوی ہے اور اس میں ان کا کوئی معاصر انکے مدِ مقابل نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

(۲) تصوف کا رنگ

غالب کی غزل میں ہمیں تصوف کے حقائق بھی جابجا ملتے ہیں۔ جب وہ اس کائنات کو صوفی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو معرفت کے نہایت پاکیزہ اور باریک نکتے بیان کرتے ہیں۔ بقول آل احمد سرور:

ان کا سارا فلسفہ اور تصوف انکے فکرِ روشن کی کرشمہ سازی کا نام ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

عکسِ کلام درج ذیل ہے

یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

محرم نہیں ہے تو ہی نوہائے راز کا
ہاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

(۳) عاشقانہ رنگ

غالب کی رائے میں جذبہ عشق ہی ہنگامہ عالم کی بنیاد ہے۔ زندگی کی تمام رونقیں اور لذتیں جذبہ عشق کی بدولت قائم و دائم ہیں۔ مثال کے طور پر نمونہ کلام ذیل میں درج ہے

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا

ان کے دیکھے سو چہرے پہ آجاتی ہے رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

(۴) رشک و حسد

رشک غالب کا محبوب مضمون ہے۔ وہ رقیب کے علاوہ اپنی ذات سے بھی رشک کرتے ہیں۔ بلکہ بعض انہیں خدا سے بھی رشک ہوجاتا ہے۔ مثلاً

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں کہ ان کی تمنا نہیں کرتے

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاﺅں کدھر کو میں

(۵) غم پسندی

غالب کے نظریہ زندگی کہ مطابق زندگی کے ہنگاموں میں احساسِ غم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ زندگی کی یہ گہماگہمی نغمہِ الم اور غم کی وجہ سے قائم ہے۔ نمونہ کلام درج ذیل ہے

قیدِ حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

غمِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگِ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

(۶) حقیقت پسندی

غالب کی نظر انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔ انہیں انسانی نفسیات کا گہرا شعور حاصل ہے اور انہیں نے اپنے اس شعور سے نہایت مفید نتائج اخذ کےے ہیں۔ مثلاً

ہوچکیں غالب بلائیں سب تمام
اک مرگ ناگہانی اور ہے

رنج سی خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

(۷) ایجاز واختصار

طویل مضامین کو مختصر الفاظ میں بیان کرنے کا جو سلیقہ غالب کے حصے میں آیا وہ بہت ہی کم شاعروں کو نصیب ہوا یعنی دریا کو کوزے میں بند کرنا۔ کلام کی اسی خصوصیت کو بلاغت کا جاتا ہے۔ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معانی پنہاں کرنا ان کی شاعری کا کمال ہے۔ مثلاً

کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی

ملنا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

(۸) روز مرہ زبان اور محاورات کا استعمال

غالب نے اپنے شاعر ی میں روزمرہ زبان اور محاورات کا بھی استعمال کیا ہے جس سے ان کے اشعار میں نکھار آگیا ہے۔ مثال کے طور پر نمونہ کلام درج ذیل ہے

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

(۹) عظمتِ انسانی

غالب جب اپنے ماحول میں انسان کوذلت کی بستیوں میں گراہوا دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے۔مثلاً

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

(۰۱) رندی

ہمیں غالب کی غزل میں رندانہ مضامین کی چاشنی بھی ملتی ہے

کعبہ کس منہ سے جاﺅ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

پلادے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

(۱۱) سہلِ ممتنع

غالب کا کلام سہلِ ممتنع کی ایک بلند و بالا خصوصیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کو اس قدر آسان انداز اور پیرائے میں بیان کیا جائے کہ سننے والا یہ سمجھے کہ وہ بھی اس طرح بات کرسکتا ہے۔ مگر جب کرنے بیٹھے تو عاجز ہوجائے۔ ان کے کلام میں سادگی اور پرکاری کی کیفیت انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ بقول غالب

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

(۲۱) شوخی و ظرافت

غالب شعر میں اظہار غم کے موقع پر جب شوخی یا طنز سے کام لیتے ہیں تو غم میں بھی شگفتگی اور زندہ دلی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔نمونہ کلام ذیل میں درج ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

کیا فرض ہے سب کو ملے ایک سا جواب
آﺅ نہ ہم سیر کریں کوہِ طور کی

حرفِ آخر

حقیقت یہ ہے کہ غالب کی شاعری بڑی پہلو دار شاعری ہے۔ ان کی شخصیت اور شاعری پر مختصر سے وقت میں تبصرہ کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ غالب ہر دور میں غالب رہے گا۔غالب کی کلام کی مندرجہ بالا خصوصیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کلام ایک وسیع دنیا ہے۔ اہلِ دانش نے سچ کہا ہے کہ غالب اردو کی آبرو اور عروسِ غزل کا سہاگ ہیں۔
پروفیسر عزیز احمد کے یہ الفاظ غالب کی عظمت کو بیان کرنے کیلئے حروفِ آخر کا درجہ رکھتے ہیں:

وہ ایک طرح کے شاعرِ آخرالزماں ہیں جن پر ہزار ہا سال کی اردو اور فارسی شاعری کا خاتمہ ہوا۔

بشکریہ: Our Urdu.com
Reply With Quote
  #9  
Old Thursday, June 07, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

غالب کا طلسم خانہ تحیر
سعدیہ اقبال

غالب اپنے دور کے عظیم تجرباتی شاعر تھے ۔اسلوب اور معنویت دونوں اعتبار سے اس قدر متنوع اور گوناگوں تجربات کا اظہار ان کی شاعری میں ہے کہ متقدمین سے لے کر متاخرین تک کوئی بھی ان کا ہم قدم اور ہم سفر نظر نہیں آتا ۔بیسویں صدی میں جتنی بھی تحریکیں وجود میں آئیں ،ہر ایک کا سرچشمہ غالب کی فکر اور فلسفہ ہے ۔ اس تعلق سے مولانا نیاز فتح پوری کا یہ قول بڑی حد تک درست ہے کہاردو شاعری میں نئے رجحانات کا سراغ ہمیں غالب کے وقت سے ملتا ہے
۔

غالب کی شاعرانہ عظمت کو سمجھنے کے لئے ان کا یہ جملہ کہ شاعری صرف قافیہ پیمائی نہیں بلکہ معنی آفرینی ہے بڑی حد تک ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ان کے ذہنی عوامل تک پہچنے میں ممد و معاون بھی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر نے معنی آفرینی کی کوشش میں کس کس وادی خیال کی سیر وسیاحت کی ہے
:

مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال

تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے

غالب فطرتا مشکل پسند واقع ہوئے تھے اس کی ایک وجہ ان کے کلام میں فارسی کا غلبہ اور دوسرے بیدل کے مزاج سے ہم آہنگی تھی کہ ابتدائی دور میں انہوں نے بیدل کی اتباع کی اور یہ اعتراف کیا :

طرز بیدل میں ریختہ کہنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے

اس کے بعد میر کے رنگ میں بھی انہوں نے شعر کہے مگر سادگی کے باوجود ان اے اشعار میں ذہنی اور نفسیاتی پیچیدگی برقرار رہی ۔

غالب کی شاعری قنوطیت ،رجائیت ،رومانیت ،واقعیت ،رندی ،تصوف ، شوخی ،انکساری ،جیسی متضاد کیفیتوں کا حسین و جمیل مرقع ہے ۔غالب کی آزادہ روی نے انہیں کسی مخصوص فکر یا فریم سے مفاہمت نہیں کرنے دیا ۔انہوں نے زندگی کو کھلے ذہن کے ساتھ مختلف زاویوں سے دیکھا اور ایک سچے فنکار کی حیثیت سے زندگی کی متضاد کیفیتوں کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ۔ان کے مشاہدات اس قدر وسیع تھے کہ کائنات کا ہر ذرہ ان کے لئے عرفان و آگہی کا استعارہ تھا
:

صد جلوہ روبرو ہے، جو مژگاں اٹھائیے

طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

بخشے جلوہ گل ذوق تماشا غالب

چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا

غالب نے اپنے ذہن کے تمام دروازے وا رکھے اور مختلف سمتوں سے کھلی ہوا کا خیر مقدم کیا ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ہی لے میں زندگی کا راگ نہیں الاپا ۔ایک خالص تجرباتی شاعر کی حیثیت سے وہ ہر مقام پر رنگ و آہنگ بدلتے رہے ۔ان کی شاعری کے مختلف حصوں سے الگ الگ آوازیں ابھرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ ان صداؤں کا تعلق اردو اور فارسی کے قدیم کلاسیکی شعراء کے علاوہ خود ہماری تہذیب و ثقافت اور روایت سے بہت گہرا ہے اور یہ آہنگ اتنا پر اثر ہے کہ اجتماعی لا شعور کو بھی متاثر کرتا ہے ۔

غالب کے کلام میں ہر سطح اور ذوق کے مطالبات کی تسکین کا سامان بھی ہے ۔ایک طرف ان کی شاعری میں رومانیت کا یہ عالم ہے کہ وہ رات دن تصور جاناں کئے بیٹھے رہنا چاہتے ہیں
:

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

تو دوسری طرف واقعیت کا کا یہ حال ہے کہ محبوب کی ستم شعاری کا شکوہ یوں لطیف طنزئے پیرائے میں یوں کرتے ہیں
:

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں

تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

غالب ذہنی تضادات کا مجموعہ تھے ۔ ایک طرف شاعر کے ذوق گناہ کا عالم ہے کہ وہ خدا سے نا کردہ گناہوں کی حسرت کی داد چاہتا ہے
:

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد

یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

تو دوسری طرف خدا کی رحمتوں پہ اس کا یقین اور اپنے اعمال پہ شرمندگی کا یہ عالم ہے کہ بڑی خوبصورتی سے غالب یہ کہتے ہیں
:

رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے

شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

خواہ سائنس کی دنیا ہو یا شعر وادب کی ،بعض ایسے ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذکاوت کے ذریعے روایت سے ہٹ کر راہ تلاش کرتے ہیں ۔ اور اس صداقت کو اپنی ذہنی گرفت میں لا تے ہیں جس کا اس وقت لوگوں کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا ۔غالب کا شمار بھی کچھ ایسے ہی ذہین لوگوں میں ہوتا ہے ۔مغربی ادب میں انیسویں صدی کے اواخر میں علامت پسندی اور بیسویں صدی کے آغاز میں پیکریت کی تحریک معرض وجود میں آئی لیکن اس سے نصف صدی قبل اس شاعر نے اپنی فطرت ذکاوت کے سبب علامت پسندی اور پیکریت کے تجربات سے بے شمار امکانات کو روشن کیا ۔اور دنیا کو غرق حیرت کر دیا ۔ صرف یہی نہیں غالب نے اپنے زمانے میں ایسے شعر بھی کہے ہیں جن کی قدرو قیمت اشتراکی واقعیت کے عروج کے بعد اور بڑھ گئی ۔ غالب نے اپنی فطری ذکاوت کی مدد سے سو سال بعد کے ذ ہنی انتشار ، انارکی ، بحران کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا ۔

مستقبل کے مسائل کا عرفان کسی بھی دانشور اور مفکر کے لئے آسان ہے لیکن غالب کی انفرادیت اس میں ہے کہ ان کی سو سال قبل کی شاعری جدید رجحان اور ذہن کی عکاس ہے ۔ آل احمد سرور نے صحیح لکھا ہے کہ غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ،غالب نے اسے ذہن دیا

ترقی پسند دور میں غم عشق کے مقابلے غم روزگار کی اہمیت کا احساس شعراء میں جا بجا دکھائی دیتا ہے جس کی بہترین مثال غالب کا یہ شعر ہے
:

غم اگر چہ جاں گسل ہے پر کہاں بچے کہ دل ہے

غم عشق گر نہ ہوتا ،غم روزگار ہوتا

اس صنعتی کلچر اور مشینی عہد میں کسی کو اتنی فرصت نہیں کہ دوسروں کی طرف مڑ کر دیکھے ۔ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں قید ہے ۔ اور تہذیب تنزلی کی طرف مائل ہے ۔ اس تیز گام تہذیب کے زوال کا منظر ان کی شاعری میں یوں روشن ہوا ہے
:

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

خلائی سفر ، ٹکنالوجی اور روز روز کے جدید انکشافات نے انسان کا جس قدر حوصلہ بلند کیا ہے ، اس کا ذکر جدید شعرا کے لئے فطری بھی تھا اور لازمی بھی ۔ لیکن غالب صدیوں قبل انسان کو اس بلندی پر دیکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے ،وہاں تک غالبا اب تک کسی بھی وجودیت پسند شاعر کی رسائی نہیں ہوئی ہے ۔ اس سلسلے کا ایک شعر
:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

غالب کے اختراعی اور خلاق ذہن نے اتنی دنیائیں دریافت کر لی تھیں کہ ہر دنیا ایک طلسم خانہ عجائب لگتی ہے ۔ ان کا ذہن مستقبلیت پسند تھا اسی لئے ان کے یہاں تمنا کے دوسرے قدم کی جستجو غالب رہی اور اسی جستجو نے ان کی شاعری سے آج کے ذہنوں کا رشتہ جوڑ دیا ہے کہ اردو زبان سے محبت رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو دیوان غالب سے متعارف نہ ہو ۔اس دیوان کے بارے میں ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کا یہ خیال بہت معنی خیز ہے کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ،وید مقدس اور دیوان غالب

غالب کی شاعری زندگی کی کشمکش کی پروردہ ہے اسی لئے ان کی شاعری میں جو رنج و الم ملتا ہے ،اور جس تنہائی ، محرومی ،ویرانی ،ناامیدی کی جھلک ملتی ہے ،وہ صرف ذاتی حالات کا عکس نہیں بلکہ اپنے عہد ،سماج اور ماحول کی آئینہ دار ہے ۔وہ فلسفی نہیں لیکن ان کے حساس دل و دماغ میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔غالب کے یہاں استفہامیہ اشعار کی بہتات ہے ،یہ بھی ان کا منفرد انداز ہے ۔ ان کے دیوان کا پہلا شعر ہی سوال سے شروع ہوتا ہے
:

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
ایک دوسرا شعر
:

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے

لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

غالب کی شاعری میں زندگی سے فرار نہیں ہے اور نہ ہی ماضی ان کی پناہ گاہ ہے بلکہ ان کی شاعری میں ہمیں وہ تمام وسعتیں ،حسرتیں ،اور کرب و انتشار ملتے ہیں جو جدید ذہن کا خاصہ ہیں ۔دراصل جدید دور کا آغاز غالب سے ہی ہوتا ہے ۔

غالب کی شاعری میں طنز و مزاح کی نشتریت اور خندگی ہے ۔ حالی نے غالب کو حیوان ظریف کہہ کر ان کی مزاجی کیفیت کی عکاسی کی ہے جبکہ ایسا نہیں کہ وہ بہت خوشحال تھے ،انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی ۔قدم قدم پر قسمت نے انہیں چوٹ پہچائی اس کے باوجود وہ شگفتہ مزاج تھے ،شوخی رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی ۔موقع کچھ بھی ہو ،وہ شوخی گفتار سے باز نہیں آتے ۔ظرف اتنا وسیع تھا کہ وہ اپنے آپ پر ہنسنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔
:

طنز و مزاح کے پس پردہ غالب کی شاعری میں ہمیں غم کی ایسی زیریں لہریں ملتی ہیں جن کے چشمے غم ذات ،غم دوراں ،غم عشق سے پھوٹتے ہیں اور یہ غالب کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے اثرات ان کی شاعری میں بخوبی محسوس کئے جا سکتے ہیں لیکن یہاں بھی غالب کا انداز نرالا ہے۔وہ غم کو آزار نہیں بناتے بلکہ اسے گوارہ بناتے ہیں اور اس سے بلند ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آشوب آگہی کو زہر بناکر نہیں بلکہ امرت بناکر ہمارے اندر منتقل کرتے ہیں ۔لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غالب نشاط زیست کے شاعر ہیں ۔

اسلوب بیان میں بھی غالب کا اپنا منفرد مقام ہے ۔وہ محض فکر ونظر کے مجتہد ہی نہیں ان کا انداز بیاں بھی اورتھا ۔وہ افکار و الفاظ کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے قائل ہیں ۔الفاظ ہوں یا تشبیہات وہ اتنی خوبصورتی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ قاری جنوں اور خرد کی کشمکش میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔

غالب ایک عظیم شاعر تھا ،ان کی عظمتوں کی علامتیں ان کے شعروں میں نمایاں ہیں ۔عہد کوئی بھی ہو ،غالب کی عظمت سے انکار ممکن نہیں ۔غالب اسم با مسمی تھے ،ان کا نام اسد اللہ خاں اور عرفیت مرزا نوشہ تھی ۔مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ ،دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے ،غالب ان کا تخلص تھا ۔اور اس کا اثر ان کے کلام پر بھی رہا کے کوئی انہیں مغلوب نہ کر سکا ۔

بشکریہ: اردو سخن

Reply With Quote
  #10  
Old Thursday, June 07, 2012
siddiqui88's Avatar
43rd CTP (OMG)
CSP Medal: Awarded to those Members of the forum who are serving CSP Officers - Issue reason: CE 2014 - Merit 163
 
Join Date: Aug 2010
Posts: 286
Thanks: 304
Thanked 414 Times in 182 Posts
siddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nicesiddiqui88 is just really nice
Default

غالب کے کلام کا نفسیاتی تجزیہ
محمدصفدر

ماہرین نفسیات کا قصہ مختلف ہے' مگر جب عام آدمی کسی شخص کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے تو پس منظر میں اپنے حالات اور ماضی کی فلم بھی دماغ کے پردۂ سیمیں پر تیرتی رہتی ہے۔نفسیاتی حوالوں سے پیچیدہ افراد' سادہ لوگوں کا تجزیہ کرتے ہوئے بھی ان میں ایسی پیچیدگیاں تلاش کرتے رہتے ہیں کہ اگر اس شخص کو بتادیا جائے جس کے بارے میں تجزیہ کیا جارہا ہے تو وہ خود دنگ رہ جائے۔ اس لیے کسی بھی طور پر عام آدمی کے نفسیاتی تجزیوں کو اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ لیکن شاعر' مصور اور تخلیق کار کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ وہ انہی نفسیاتی پیچیدگیوں کو ملحوظ رکھ کر دوسرے لوگوں کے نفسیاتی مسائل کو فنی شاہ پاروں میں تبدیل کرتا ہے۔یہ نفسیاتی پیچیدگی عام لوگوں کے لیے مرض لیکن تخلیق کار کے لیے لازوال خزانہ ہوتی ہے۔

اُردو د ان طبقہ بجا طور پر غالب کو اُردو غزل کا سب سے بڑا شاعر تسلیم کرتا ہے ۔ غالب نفسیاتی لحاظ سے پیچیدہ تھے مگر یہ نفسیاتی پیچیدگی مرض نہیں تخلیق کا گنجینہ ثابت ہوئی۔ غالب کی غزلیںاس کی اپنی نفسیاتی زندگی کی تصویریں ہیں۔شاید اسی نفسیاتی پیچیدگی ہی نے غالب میں مشکل پسندی کوٹ کوٹ کر بھردی' شعر کا نفس مضمون ہو یا تراکیب و تماثیل' اسلوب ہو یابحروں کا چنائو' غالب مشکل پسندی کو آسانی سے برتنا جانتے تھے۔ علم نفسیات کی روشنی میں غالب کے کلام کا جائزہ یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ ان میں نرگسیت کاواضح رجحان تھا۔ اس نرگسیت نے جہاں ان کے شعروں میںتعلی بھردی وہاں عشق کی جہت میں بھی ایک اضافہ ہو گیا۔روایتی غزل کے برعکس غالب کے شعروں میں جلوہ گر عاشق انا پسندہے۔غالبا اُلفتِ ذات اور جبّ تفوق کی چاہ نے غالب میں مشکل پسندی کے خدوخال اُبھارے کہ اس طرح وہ اپنی علمیت' عظمت اور برتری کا خود بھی احساس کرتا اور دنیا کو بھی احساس کراتا۔

ابتدائے شاعری میں ہی مشکل پسندی اور شعور ولا شعور میں پیدا ہوتے پیچیدہ سوالات سے شعروں کی تخلیق اور فارسی الفاظ و تراکیب کا محابا استعمال کی وجہ سے غالب اپنی علمیت اور برتری کا سکہ جمانے کی کوشش میں منہمک نظر آتے ہیں۔ بیدل کے رنگ میں شعر کو مشکل الفاظ و مضامین سے مزین کرنے والے غالب معتقدِ میر بنے تو سادگی اور سہل پسندی کی حدوں کو چھونے لگے۔ ایک وقت میں غالب کہتے تھے کہ ان کا اصل کلام تو فارسی میں ہے' اُردو میں تو میں نے ''فضول کلام'' لکھا ہے' مگر جب اُردو غزل میں ان کے نام کا ڈنکا ہر سو بجنے لگا تو غالب کو فارسی مشکل پسندی سے میر کی سادگی کی طرف مراجعت کرنا پڑی۔ اس مراجعت نے اُردو غزل کو اُردو کا سب سے بڑا شاعر عطا کردیا۔اس دور میں کہ جب ذوق کی محاورہ بندی اور نصیر کی سنگلاخ زمینوں کا چرچا تھا، غالب مشکل گوئی سے سادہ گوئی کی طرف پلٹ آئے۔ یہ امر بذات خود نرگسی انا کا اظہار ہے کہ اُلفتِ ذات کا مبتلا فنکار زمانے کی روش سے ہٹ کر چلنے کا ہی قائل ہوتا ہے۔ مگر رمز کا مارا دل مشکل گوئی ترک کرنے کے باوجود رمزیت کے ماحول کو الوداع نہ کہہ سکا۔ آل احمد سرور کا یہ تجزیہ کیسا حسبِ حال ہے
:
''غالب بیدل کے چکر سے نکلنے کے باوجود بھی بیدل کی رمزیت کو نہ چھوڑ سکے۔ اسی رمزیت نے ان کی شاعری میں عجیب عجیب گل کھلائے۔ یہ معمولی بات نہیں کہ بیدل کے بعد غالب، حزین' ظہوری' عرفی اور نظیری کی طرف متوجہ ہوئے اور میر کی طرف سب سے آخر میں۔ یہ ترتیب ان کی شاعری کے ارتقا میں بڑی اہمیت رکھتی ہے''۔

ادبی تحریکوں اور دبستانوں کی زبان و ادب کے رجحانات طے کرنے میں بڑی اہمیت ہوتی۔ تحریکیں ادبی گروہوں کو جنم دیتی ہیں' ادبی گروہ اپنے تصورات و نظریات سے ہم آہنگ ماضی کے ادیبوںکے مقام کا تعین کرتے ہی۔ اس کوشش میں کبھی کوئی ادیب بری طرح سے نظر انداز کردیا جاتا ہے تو کوئی گمنامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے شہرت کے آسمان کا روشن ستارہ بن جاتا ہے۔

غالب کی نمایاں خصوصیت میں ایک یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کو جدید دور کے تنقیدی معیارات پر پرکھا گیا' وہ سر خرورہا' ادبی تحریکوں نے اپنی کسوٹیاں اور ترازو ہوا میں بلند کیے' وہ بھاری رہا' جدید تخلیقی تصورات نے زور پکڑا ،وہ سرخرو رہا۔ غالب کی شہرت کو گہنایا جاسکا نہ اُردو اددب کی تاریخ میں انکی اہمیت کم ہوسکی۔ غالب کا ادبی دشمن بھی انکی عظمت اور فہرست میں اولیت سے انکار نہ کرسکا۔ اپنے عصر سے دورِ حاضر تک غالب کی شمع شہرت کی لو تاباں ہی نہیں شعلے کی مانند لپکتی اور روشنی کے پھیلائو میں وسعت اختیار کرتی جارہی ہے۔ کس مقامی زبان میں غالب کا ترجمہ نہ ہوا' کس بڑی بین الاقوامی زبان میں غالب بصورتِ ترجمہ نہ گھسا اور کس زبان کے نقادوں نے اپنا قلم غالب کی مداح سرائی میں نہ چلایا۔

آگرہ میں 27 دسمبر1797ء میں پیدا ہونے والا اسد اللہ کی 13 سال کی عمر میں شادی کردی گئی۔ نسلی برتری اور خاندانی عظمت کا احساس' جو نرگسی انا کو تسکین دیتا ہوگا' ہمیشہ غالب کو رہا۔عاشقانہ مزاج تو خیر غالب کی فطرت کا ناقابل تبدیل جزو تھا ہی ۔ شادی کے بعد دہلی میں مقیم ہوے تو کرایے کے مکان میںرہنے کے باوجود رئیسانہ ٹھاٹھ سے رہے۔ مستقل آمدنی تھی نہیں، اس لیے قرض کی مے پی کر اکثر گو نہ بے خودی سے لطف اندوز ہوتے رہے ، کے مے سے غرضِ نشاط انہیں کہاں تھی۔
''ستم پیشہ ڈومنی'' سے عشق بھی فرمایا۔ 1847ء میں جوئے کے الزام میں گرفتار بھی ہوئے اور تین ماہ سزا کاٹی۔ حصولِ پنشن کی کوششیں بے ثمر رہیں۔ مغل دربار سے وابستہ اور بہادر شاہ ظفر کے اُستاد رہے مگر ڈوبتا مغل خاندان کہاں ان کی ''عیاشیوں'' کی تکمیل کا سامان کرسکتا تھا۔ انگریزوں سے راہ و رسم بڑھانے کی کوششوں میں ملکۂ وکٹوریہ کا سینکڑوں اشعار پر مشتمل قصیدہ لکھا اور درخواست کی کہ انہیںملکہ کا درباری شاعر متعین کیا جائے' مگر کامیابی نہ ہوئی۔ گھریلو زندگی تو ہمیشہ ہی سلجھنے کا نہ سلجھانے کا معمہ بنی رہی' نہ وہ بیوی سے خوش نہ بیوی ان سے ۔ غالب کے متعلق لطیفوں کو ذہن میں لایئے اندازہ ہوجائے گا۔ الغرض مفلوک الحال' مقروض' خود پسندو حسن پرست' نفسیاتی اُلجھنوں کو بیان کرتا' محرومیوں' پژمردگیوں کے ساتھ زندہ دلی سے زندگی کرتا یہ عظیم فنکار شاہراہ ادب پرانمٹ نشان چھوڑ گیا۔ یہ نشان آنے والے کے لیے راہ نما ہیں تو غالب کے مقام کا تعین بھی کرتے ہیں۔یہ مقام ہی وہ منزل ہے جس تک اردو شاعر پہنچنے کی کوشش تو کر سکتا ہے مگر یہ رتبہ بلند جسے مل گیا' سو مل گیا۔
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to siddiqui88 For This Useful Post:
rao saadia (Wednesday, November 21, 2012)
Reply

Tags
ghalib k khatoot, mirza ghalib, urdu zuban aur adab

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
Pakistan's History From 1947-till present Sumairs Pakistan Affairs 14 2 Weeks Ago 03:55 PM
Important urdu mcqs for lecturers naveed143smile PPSC Lecturer Jobs 0 Thursday, September 29, 2011 09:50 AM
Mirza Ghalib Farrah Zafar Urdu Literature 15 Monday, August 29, 2011 05:38 AM
Mirza Galib Sureshlasi Urdu Poetry 20 Saturday, September 12, 2009 11:23 PM
Mirza Ghalib - A creative Biography sibgakhan Urdu Literature 0 Monday, January 23, 2006 01:25 PM


CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.