Monday, September 16, 2019
07:07 PM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > Off Topic Section > Poetry & Literature

Poetry & Literature Post QUOTATIONS and POETRY here that can be used while preparing notes.

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #81  
Old Friday, April 19, 2013
Astute Accountant's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Mar 2007
Location: ǺČĆŐŨŃŤÁŇŦŚ’ ĂVĒŇŬĘ
Posts: 595
Thanks: 198
Thanked 633 Times in 344 Posts
Astute Accountant has a spectacular aura aboutAstute Accountant has a spectacular aura about
Default

ہروقت خدا کے احسانات یاد کر۔۔غور کر کہ ہر سانس خدا کی عنایت ہے یوں دل میں شکر گزاری پیدا ہوگی۔۔ پھر تو بے بسی محسوس کرے گا کہ اتنے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جاسکتا ہے۔۔ وہ بے بسی تیرے دل میں محبت پیدا کرے گی۔۔ تو سوچے گا کہ مالک نے بغیر کسی غرض کے تجھے نوازا، تجھ سے محبت کی۔۔ تو غور کر کہ اتنی بڑی دنیا میں تو کتنا حقیر ہے ۔ سینکڑوں کے مجمع میں بھی تیری کوئی پہچان نہیں ہے۔۔ کوئی تجھ پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالے گا۔۔کسی کو پروا نہیں ہوگی کہ الہٰی بخش بھی ہے۔۔ لیکن تیرا رب کروڑوں انسانوں کے بیچ بھی تجھے یاد رکھتا ہے۔۔ تیری ضروریات پوری کرتا ہے۔۔ تیری بہتری سوچتا ہے تجھے اہمیت دیتا ہے۔۔ ان سب باتوں پر غور کرتا رہے گا تو تیرے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوگی۔۔ اس محبت کے ساتھ بھی یہ سوچتا رہے گا تو محبت میں گہرائی پیدا ہوگی۔۔ اور پھر تجھے خدا سے عشق ہو جائے گا۔۔


عشق کا عین از علیم الحق حقی۔
__________________
I don't give anyone a reason to HATE ME. They create their own drama out of PURE JEALOUSY...!!!
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to Astute Accountant For This Useful Post:
bl chughtai (Sunday, October 20, 2013), Muhammad T S Awan (Sunday, October 20, 2013)
  #82  
Old Sunday, October 20, 2013
bl chughtai's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Mar 2012
Location: heaven
Posts: 147
Thanks: 190
Thanked 71 Times in 53 Posts
bl chughtai is on a distinguished road
Default )حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ(

کشتی ہچکولے کھا رہی ہو تو اللہ کی رحمت کو پکارا جاتا ہے ، جب کشتی کنارے لگ جاۓ تو اپنے زور بازو کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔بہت کم انسان ایسے ہیں جو اپنے حاصل کو رحمت پروردگار کی عطا سمجھتے ہیں۔


۔

)حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ(
__________________
read in order to live...........!
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to bl chughtai For This Useful Post:
Muhammad T S Awan (Sunday, October 20, 2013)
  #83  
Old Sunday, October 27, 2013
bl chughtai's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Mar 2012
Location: heaven
Posts: 147
Thanks: 190
Thanked 71 Times in 53 Posts
bl chughtai is on a distinguished road
Default )حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ(

دوست کے ساتھ صرف ایک ہی سلوک روا ہےٰ اور وہ وفا ہے۔
وفا کرنے والے کسی کی بے وفاءی کا گلہ نہیں کرتے۔
اپنی وفا کا تذکرہ بھی وفا کے باب میں ابتداءے جفا ہے۔

)حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ(
__________________
read in order to live...........!
Reply With Quote
  #84  
Old Sunday, October 27, 2013
bl chughtai's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Mar 2012
Location: heaven
Posts: 147
Thanks: 190
Thanked 71 Times in 53 Posts
bl chughtai is on a distinguished road
Default کبھی ہم خوبصورت تھے مستنصر حسین تارڑ

انگمار برگمین سویڈن کا ایک ایسا ہدایت کار ہے جس کا شمار دنیا کے عظیم ترین ہدایت کاروں میں ہوتا ہے۔ میں نے آج سے تقریباً پچپن برس پیشتر اس کی لازوال فلم ’’دے سیونتھ سِیل‘‘ دیکھی تھی اور میں آج تک اس کے اثر سے آزاد نہیں ہوا۔ فرید الدین عطار کی ’’منطق الطیر ‘‘ کے بعد یہ ’’دے سیونتھ سیل‘‘ ہے جس کی جھلکیاں بار بار میری تحریروں میں سے ظاہر ہوتی ہیں لیکن آج مجھے برگمین کی ایک اور فلم ’’شیم‘‘ یعنی ’’شرمندگی‘‘ کے بارے میں کچھ کہنا ہے۔۔۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کہیں آبادیوں سے دور ایک کسان گھرانہ ایک پر سکون اور مطمئن زندگی بسر کر رہا ہے۔ کسان دن بھر کھیتوں میں مشقت کرتا ہے اور اس کے بیوی بچے اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ وہ کتابیں پڑھنے کا بھی شوقین ہے۔۔۔ فارغ وقت میں وہ ریڈیو سنتا ہے اور کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے۔۔۔ وہ بے حد حساس طبیعت ہے۔ جانوروں اور پرندوں سے پیار کرتا ہے۔۔۔ اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے، بیوی پر جان دیتا ہے۔البتہ بیوی اس کی حساس طبیعت سے بے حد تنگ ہے کیونکہ وہ خوراک کے لیے بھی کسی جانور کو ہلاک نہیں کر سکتا۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی اس کے ہاتھ میں چھروں والی بندوق تھما دیتی ہے کہ تم اگر مرغی کی گردن پر چھری نہیں پھیر سکتے تو اس بندوق سے فائر کر کے دو تین مرغیاں مار ڈالو۔ ہمیں گوشت کی ضرورت ہے اور وہ کسان لبلبی بھی نہیں دبا سکتا۔ مرغیوں کو مار نہیں سکتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ ایک شب دور سے دھماکوں کی آواز آنے لگتی ہے، گولیاں چلنے لگتی ہیں۔ ریڈیو پر خبر آتی ہے کہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ دو تین روز بعد دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں نزدیک آ جاتی ہیں۔ جنگ اُن کی دہلیز تک آنے والی ہے۔ اس کی بیوی کہتی ہے کہ ہمیں یہاں سے منتقل ہو جانا چاہیے لیکن وہ کہتا ہے کہ ہمارا اس جنگ سے کیسا رابطہ۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کون لوگ ہیں جو تباہی پھیلا رہے ہیں اور کیوں جنگ کر رہے ہیں۔۔۔ میں اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ قصہ مختصر توپوں کے گولے اُن کے کھیتوں میں گرنے لگتے ہیں پھر فوجی اُن کے گھر پر یلغار کرتے ہیں۔۔۔ اُس کی بیوی کو بے آبرو کرتے ہیں۔۔۔ وہ لاشیں دیکھتا ہے۔ انسانوں کو ایک دوسرے کو ہلاک کرتے دیکھتا ہے۔۔۔ ذبح کرتے دیکھتا ہے۔۔۔ اس
کے سامنے انسانوں کے پرخچے اڑتے ہیں اور پھر اس میں ایک تبدیلی آنے لگتی ہے۔۔۔ وہ ایک مرے ہوئے سپاہی کی بندوق اٹھا کر بے دریغ یہ جانے بغیر کہ وہ کون ہیں، دشمن ہیں بھی کہ نہیں لوگوں کو بے دردی سے ہلاک کرنے لگتا ہے۔ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے، بچوں کو پیٹتا ہے۔۔۔ وہ خون دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ کسان جو ایک مرغی کو بھی ہلاک نہیں کر سکتا تھا جنگ نے اسے بھی ایک وحشی درندے میں بدل دیا ہے۔۔۔ اس کی انسانی خصلت تبدیل ہو گئی ہے۔
کیا آپ کو محسوس ہوا کہ برگمین کی فلم ’’شرمندگی‘‘ کی کہانی ہماری آج کی کہانی ہے۔۔۔ کبھی ہم خوبصورت تھے، پُر امن اور حساس تھے، کسی کو ہلاک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے
’کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی!
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھ۔۔۔ امی
تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی ساخت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو!‘
(احمد شمیم)
اور پھر یہ دن بیت گئے۔ افغان ’’جہاد‘‘ کے ثمرات میں سے مختلف ثمر ہمارے صحن میں آ کر گرنے لگے اور یہ خود کش ثمر ہوتے ہیں جو ہمیں ہمارے بچوں اور بوڑھوں سمیت ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ ضیاء الحق کے تاریک زمانوں میں زبان و بیاں پر جو پابندیاں عائد تھیں، اُن سے ہم واقف تھے، ہم جانتے تھے کہ خلاف ورزی کی پاداش میں کم از کم کوڑے اور زیادہ سے زیادہ موت منتظر ہو گی اور اس کے باوجود اس سیاہ دور میں دائیں اور بائیں بازو کی تخصیص کے بارے میں شاندار مزاحمتی ادب تخلیق کیا گیا۔ شاعروں کو سہولت تھی اور کہ وہ اشاروں کنایوں میں استعاروں کی مدد سے جبر کی صورت حال کا اظہار کر ڈالتے تھے جب کہ نثر میں آپ کو عیاں ہونا پڑتا ہے۔۔۔ نثر دراصل ایک ایف آئی آر ہوتی ہے جو آپ خود لکھتے ہیں اور گواہ کے طور پر اپنے دستخط ثبت کرتے ہیں۔۔۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا لیکن میرے کم از کم ایک افسانے ’’بابا بگلوس‘‘ کی پاداش میں ایک برس تک ٹیلی ویژن کے دروازے مجھ پر بند کر دیے گئے جو ان دنوں میرا واحد ذریعہ روزگار تھا۔۔۔ ایک سرکاری اخبار نے یہاں تک لکھا کہ یہ افسانہ لکھنے کے جرم میں مجھے پھانسی دینی چاہیے۔ بعد میں اس افسانے سے متاثر ہو کر گلزار نے دو نظمیں لکھیں جو اُن کے ایک شعری مجموعے میں شامل ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں قلق نہ ہوتا تھا کیونکہ ہم نے اپنے ضمیر کی آواز پر یہ اظہار کیا تھا لیکن ان دنوں صورت حال مختلف ہو چکی ہے۔۔۔ اُن زمانوں میں ریاست کی جانب سے پابندیاں عائد ہوتی تھیں، کوڑے لگائے جاتے تھے اور پھانسیاں دی جاتی تھیں جب کہ معاشرہ ہماری مزاحمتی ادبی کاوشوں کی تحسین کرتا تھا اور ان زمانوں میں ریاست کی جانب سے کوئی پابندی نہیں، میڈیا آزاد ہے، آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں لیکن اب معاشرے نے جبر اور ظلم اختیار کر لیا ہے۔۔۔ معاشرے میں ایسے افراد ہیں جنہوں نے جبر اور تعصب کے پرچم اٹھائے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی ایک مرغی بھی ہلاک نہیں کر سکتے تھے۔ اتنے پر امن تھے لیکن جب سے ’’جنگ‘‘ کا آغاز ہوا ہے اس کی ہولناکیوں اور سفاکیوں نے آہستہ آہستہ انہیں بھی بے حس کر دیا ہے۔۔۔ اور وہ کیا کہتے ہیں کہ ’دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف۔۔۔اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی‘۔۔۔ ایک ہی شمارے میں ملالہ کے بارے میں تنقیدی کالموں کے ردعمل میں عارف نظامی نے ’’ملالہ کو معاف کر دیجیے‘‘ لکھا۔۔۔ شکریہ نظامی صاحب۔۔۔ میری بھی یہی درخواست ہے کہ۔۔۔ ملالہ کو معاف کر دیجیے اگرچہ وہ ملکی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس نے ہزاروں لوگوں کو بموں سے اڑا دیا ہے پھر بھی معاف کر دیجیے۔
ریاستی جبر ہمیشہ ایک مخصوص مدت کے لیے ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کسی سی ون تھرٹی کی صورت میں فضل کر دیتا ہے لیکن معاشرے کے جبر کی کوئی طے شدہ مدت نہیں ہوتی۔۔۔ یہ طویل مدت کے لیے آتا ہے اور پھر جاتے جاتے جاتا ہے، اگر جاتا ہے تو!
......
__________________
read in order to live...........!
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to bl chughtai For This Useful Post:
mudasr (Wednesday, April 30, 2014)
  #85  
Old Monday, December 23, 2013
Predator's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason:
 
Join Date: Aug 2007
Location: Karachi
Posts: 2,572
Thanks: 813
Thanked 1,972 Times in 838 Posts
Predator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to behold
Default

__________________
No signature...
Reply With Quote
The Following 5 Users Say Thank You to Predator For This Useful Post:
aniqa hashmi (Tuesday, December 24, 2013), anum balouch (Monday, December 23, 2013), Arain007 (Monday, December 23, 2013), Farrah Zafar (Thursday, January 30, 2014), Tassawur (Monday, December 23, 2013)
  #86  
Old Monday, January 27, 2014
Predator's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason:
 
Join Date: Aug 2007
Location: Karachi
Posts: 2,572
Thanks: 813
Thanked 1,972 Times in 838 Posts
Predator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to beholdPredator is a splendid one to behold
Default

__________________
No signature...
Reply With Quote
  #87  
Old Friday, January 31, 2014
bl chughtai's Avatar
Senior Member
 
Join Date: Mar 2012
Location: heaven
Posts: 147
Thanks: 190
Thanked 71 Times in 53 Posts
bl chughtai is on a distinguished road
Default

‫معافی اور توبہ کی توفیق بھی مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ورنہ آنکھوں پر لوہے کے پردے اور کانوں میں سیسہ پگھلا دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ انسان کی سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔‬
__________________
read in order to live...........!
Reply With Quote
  #88  
Old Wednesday, April 30, 2014
Senior Member
 
Join Date: Sep 2008
Posts: 349
Thanks: 117
Thanked 134 Times in 99 Posts
new_horizons is on a distinguished road
Arrow

دنیا میں کچھ رشتے ایسے بھی تو ہوتے ہیں کہ جنہیں بات یا ملاقات کی مجبوری نہیں ہوتی _ وہ انسان کی ہر بات اور اس کی ہر ملاقات میں ہمیشہ شامل رہتے ہیں ...مانتے ہو نہ کہ لفظ اور تصویر ہی سب کچھ نہیں ہوتے ...جہاں یہ سب کچھ ختم ہوتا ہے وہاں سے تصور کا رشتہ شروع ہوتا ہے

بچپن کا دسمبر -- Hashim nadeem
__________________
Khaak ho jaen gay hum tum ko khabar honay tak ...
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to new_horizons For This Useful Post:
mudasr (Wednesday, April 30, 2014)
  #89  
Old Wednesday, April 30, 2014
Senior Member
 
Join Date: Sep 2008
Posts: 349
Thanks: 117
Thanked 134 Times in 99 Posts
new_horizons is on a distinguished road
Default

میں نے غور کیا اور دیکها تو وہی لوگ زیادہ بدقسمت دکهائی دیے جو کسی کو نہیں چاہتے اور دنیا کو چمٹنے والے یہی لوگ دکهائی دیے. میں نے کان لگا کر سنا ...... کسی کو چاہنے والے ...... کسی کی تمنّا دل میں لیے ہوے ...... انسان کی آہیں مجهے گانے کے سُروں سے زیادہ میٹهی معلوم ہوئیں. اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کے ہرگوشے میں حُسن و محبّت کے لئے ایک تڑپ ہو.
(خلیل جبران)
__________________
Khaak ho jaen gay hum tum ko khabar honay tak ...
Reply With Quote
  #90  
Old Wednesday, April 30, 2014
Senior Member
 
Join Date: Sep 2008
Posts: 349
Thanks: 117
Thanked 134 Times in 99 Posts
new_horizons is on a distinguished road
Default

زندگی میں سائن بورڈز اور روڈ سائنز کو بھولنا مشکل هوتا هے
پھر زندگی میں آنے والے انسانوں کو کیسے بهلایا جاسکتا هے.. جس راستے سے ایک بار گزر هو جاۓ وهاں کی نشانیاں ذهن میں بیٹھ جاتی هیں اور سالوں بعد بھی دوباره اسی راستے پر گزرتے هوۓانسان پهچان ،شناخت، تلاش اور دریافت کے جذباتی مراحل سے گزرتا هے تو زندگی میں ساتھ چلنے والے انسان کیسے همارے ذهن پر اپنے نقوش اور یادیں نه چھوڑ جائیں..آواز،انداز،نقل،نظر، لفظ،لمس،عادت،آهٹ یه کیسے ممکن هے انسان کوبھولنے کے ساتھ ساتھ یه سب بھی بھول جاۓ....کبھی وهم نه هو، کبھی شائبه سا نه گزرے، کبھی یادوں کی پرچھائیاں فریب نه دیں

(عمیره احمد کے ناول عکس سے اقتباس)
Reply With Quote
Reply

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On



CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.