Saturday, September 21, 2019
08:08 AM (GMT +5)

Go Back   CSS Forums > CSS Optional subjects > Group V > Urdu Literature

Reply Share Thread: Submit Thread to Facebook Facebook     Submit Thread to Twitter Twitter     Submit Thread to Google+ Google+    
 
LinkBack Thread Tools Search this Thread
  #1  
Old Thursday, August 18, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Lightbulb Ashfaq Ahmed ki lazawal tehreerain

زندگی
پيدائش
:
1925

انتقال
:ستمبر
2004 ء
اشفاق احمداردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور ميں پيدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ايم اے کيا، اڻلی کی روم يونيورسڻی اور گرے نوبلے يونيورسڻی فرانس سے اطالوی اور فرانسيسی زبان ميں ڈپلومے کيے، اور نيويارک يونيورسڻی سے براڈکاسڻنگ کی خصوصی تربيت حاصل کی۔ انہوں نے ديال سنگه کالج لاہور ميں دو سال تک اردو کے ليکچرر کے طور پر کام کيا اور بعد ميں روم يونيور ڻ سی ميں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کيا جو اردو کے آفسٹ طباعت ميں چهپنے والے ابتدائی رسالوں ميں شمار کيا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزه ليل و نہار کی ادارت بهی کی۔
وه انيس سو سڑسڻه ميں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائري ڻ کر مقرر ہوئے جو بعد ميں اردو سائنس بورڈ ميں تبديل ہوگيا۔ وه انيس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وه صدر جنرل ضياءالحق کےدور ميں وفاقی وزارت تعليم کے مشير بهی مقرر کيے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور اديبوں ميں شامل ہيں جو قيام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نماياں ہوئے اور انيس سو ترپن ميں ان کا افسانہ گڈريا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو ميں پنجابی الفاظ کا تخليقی طور پر استعمال کيا اور ايک خوبصورت شگفتہ نثر ايجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجهی جاتی ہے۔ اردو ادب ميں کہانی لکهنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تها وه کم لوگوں کے حصہ ميں آيا۔
ايک محبت سو افسانے اور اجلے پهول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہيں۔ بعد ميں سفردر سفر
(سفرنامہ) ، کهيل تماشا (ناول) ، ايک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نماياں تصانيف ہيں۔ انيس سو پينسڻه سے انہوں نے ريڈيو پاکستان لاہور پر ايک ہفتہ وار فيچر پروگرام تلقين شاه کے نام سے کرنا شروع کيا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تيس سال سے زياده چلتا رہا۔ ساڻه کی دہائی ميں اشفاق احمد نے دهوپ اور سائے نام سے ايک نئی طرح کی
فيچر فلم ب ا نئی جس کے گيت مشہور شاعر منير نيازی نے لکهے اور طفيل نيازی نے اس کی موسيقی ترتيب دی تهی اور اداکار قوی خان اس ميں پہلی مرتبہ ہيرو کے طور پر آئے تهے۔ اس فلم کا مشہور گانا تها اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دريا اور بدريا چهائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامياب ہوگئی۔ ستر کی دہائی کے شروع ميں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ايک محبت سو افسانے کے نام سے ايک ڈرامہ سيريز لکهی اور اسی کی دہائی ميں ان کی سيريز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا ميں وه تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقيد کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں ميں پلاٹ سے زياده مکالمے پر زور ديتے تهے اور ان کے کردار طويل گفتگو کرتے تهے۔ کچه عرصہ سے وه پاکستان ڻيلی وژن پر زاويے کے نام سے ايک پروگرام کرتے رہے جس ميں وه اپنے مخصوص انداز ميں قصے اور کہانياں سناتے تهے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following 3 Users Say Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Ali Randhava (Thursday, August 18, 2011), Farrah Zafar (Thursday, August 18, 2011), siddiqui88 (Wednesday, October 26, 2011)
  #2  
Old Thursday, August 18, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default بابا کی تعريف

بابا وه شخص ہوتا ہے جو دوسرے انسان کو آسانی عطا کرے۔ يہ اس کی تعريف ہے۔ آپ کے ذہن ميں يہ آتا ہو گا کہ بابا ايک بهاری فقير ہے۔ اس نے سبز رنگ کا کرتا پہنا ہوا ہے۔ گلے ميں منکوں کی مالا ہے۔ ہاته ميں اس کے لوگوں کو سزا دينے کا تازيانہ پکڑا ہوا ہے، اور آنکهوں ميں سرخ رنگ کا سرمہ ڈالا ہے۔ بس اتنی سی بات تهی۔ ايک تهری پيس سوٹ پہنے ہوئے اعلٰی درجے کی سرخ رنگ کی ڻائی لگائی ہے۔ بيچ ميں سونے کا پن لگائے ہوئے ايک بہت اعلٰی درجے کا بابا ہوتا ہے۔ اس ميں جنس کی بهی قيد نہيں ہے۔ مرد عورت، بچہ، بوڑها، ادهيڑ نوجوان يہ سب لوگ کبهی نہ کبهی اپنے وقت ميں بابے ہوتے ہيں، اور ہو گزرتے ہيں۔ لمحاتی طور پر ايک دفعہ کچه آسانی عطا کرنے کا کام کيا۔ اور کچه مستقلاً اختيار کر ليتے ہيں اس شيوے کو۔ اور ہم ان
کا بڑا احترام کرتے ہيں۔ ميری زندگی ميں بابے آئے ہيں اور ميں حيران ہوتا تها کہ يہ لوگوں کو آسانی عطا کرنے کا فن کس خوبی سے کس سليقے سے جانتے ہيں۔

ميری يہ حسرت ہی رہی۔ ميں اس عمر کو پہنچ گيا۔ ميں اپنی طرف سے کسی کو نہ آسانی عطا کر سکا، نہ دے سکا اور مجهے ڈر لگتا ہے کہ نہ ہی آئنده کبهی اس کی توقع ہے۔

جب ہم تهرڈايئر ميں تهے تو کرپال سنگه ہمارا ساتهی تها۔ ہم اس کو کرپالاسنگه کہتے تهے۔ بيچاره ايسا ہی آدمی تها جيسے ايک پنجابی فوک گانے والا ہوتا ہے۔ لال رنگ کا لباس پہن کے بہت ڻيڑها ہو کے گايا کرتا ہے۔ ايک روز ہم لاہور کے بازار انارکلی ميں جا رہے تهے تو سڻيشنری کی دکانوں کے آگے ايک فقير تها۔ اس نے کہا بابا لله کے نام پر کچه دے تو ميں نے کوئی توجہ نہيں دی۔ پهر اس نے کرپال سنگه کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بابا سائيں کچه دے۔ تو کہنے لگا کہ بهاجی اس وقت کچه ہے نہيں، اور اس کے پاس
واقعی نہيں تها۔ تو فقير نے بجائے اس سے کچه لينے کے بهاگ کر اس کو اپنے بازوؤں ميں لے ليا اور گهٹ کے چبهی
(معانقہ) ڈال لی۔ کہنے لگا، ساری دنيا کے خزانے مجه کو ديئے، سب کچه تو نے لڻا ديا۔ تيرے پاس سب کچه ہے۔ تو نے مجهے بهاجی کہہ ديا۔ ميں ترسا ہوا تها اس لفظ سے۔ مجهے آج کسی نے بها جی نہيں کہا۔ اب اس کے بعد کسی چيز کی ضرورت باقی نہيں رہی۔

ان دنوں ہم سارے ہوسڻل کے لڑکے چوری چهپے سينما ديکهنے جاتے تهے۔ تو لاہور بهاڻی کے باہر ايک تهيڻر تها اس ميں فلميں لگتی تهيں۔ ميں ارواند، غلام مصطفٰی، کرپال يہ سب۔ ہم گئے سينما ديکهنے، رات کو لوڻے تو انار کلی ميں بڑی يخ بستہ سردی تهی، يعنی وه کرسمس کے قريب کے ايام تهے سردی بہت تهی۔ سردی کے اس عالم ميں کہرا بهی چهايا ہوا تها۔ ايک دکان کے تختے پر پهڻا جو ہوتا ہے، ايک دردناک آواز آ رہی تهی ايک بڑهيا کی۔ وه رو رہی تهی اور کراه رہی تهی، اور بار بار يہ کہے جا رہی تهی کہ ارے ميری بہوجهے بهگوان سميڻے تو مر جائے نی، مجهے ڈال گئی، وه بہو اور بيڻا اس کو گهر سے نکال کے ايک دکان کے پهڻے پر چهوڑ گئے تهے۔ وه دکان تهی جگت سنگه کواترا کی جو بعد ميں بہت معروف ہوئے۔ ان کی ايک عزيزه تهی امرتا پرتيم، جو بہت اچهی شاعره بنی۔ وه خير اس کو اس دکان پر پهينک گئے تهے۔ وہاں پر وه ل ڻ یی چيخ و پکار کر رہی تهی۔ ہم سب نے کهڑے ہو کر تقرير شروع کی کہ ديکهو کتنا ظالم سماج ہے، کتنے ظالم لوگ ہيں۔ اس غريب بڑهيا بيچاری کو يہاں سردی ميں ڈال گئے۔ اس کا آخری وقت ہے۔ وہاں اروند نے بڑی تقرير کی کہ جب تک انگريز ہمارے اوپر حکمران رہے گا، اور ملک کو سوراج نہيں ملے گا ايسے غريبوں کی ايسی حالت رہے گی۔ پهر وه کہتے حکومت کو کچه کرنا چاہيے۔ پهر کہتے ہيں۔ اناته آشرم
(کفالت خانے، مقيم خانے) جو ہيں وه کچه نہيں کرتے۔ ہم يہاں کيا کريں۔ تو وه کرپال سنگه وہاں سے غائب ہو گيا۔ ہم
نے کہا، پيچهے ره گيا يا پتا نہيں کہاں ره گيا ہے۔ تو ابهی ہم تقريريں کر رہے تهے۔ اس بڑهيا کے پاس کهڑے ہو کے کہ وه بايئسکل کے اوپر آيا بالکل پسينہ پسينہ سرديوں ميں، فق ہوا، سانس اوپر نيچے ليتا آگيا۔ اس کے ہوسڻل کے کمرے ميں چارپائی کے آگے ايک پرانا کمبل ہوتا تها جو اس کے والد کبهی گهوڑے پر ديا کرتے ہوں گے۔ وه ساہيوال کے بيدی تهے۔ تو وه بچها کے نا اس کے اوپر بيڻه کر پڑهتے وڑهتے تهے۔ بدبودار گهوڑے کو کمبل جسے وه اپنی چارپائی سے کهينچ کر لے آيا بايئسکل پر، اور لا کر اس نے بڑهيا کے اوپر ڈال ديا، اور وه اس کو دعائيں ديتی رہی۔ اس کو نہيں آتا تها وه طريقه کہ کس طرح تقرير کی جاتی ہے۔ فنِ تقرير سے ناواقف تها۔ بابا نور والے کہا کرتے تهے انسان کا کام ہے دوسروں کو آسانی دينا۔

****************************
__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following 4 Users Say Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Ali Randhava (Thursday, August 18, 2011), nain jee (Sunday, August 21, 2011), rao saadia (Friday, November 23, 2012), Saira Nadeem (Thursday, August 18, 2011)
  #3  
Old Thursday, August 18, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default ميں کون ہوں ؟

بہت دير کا وعده تها جو جلد پورا ہونا چاہئے تها ، ليکن تاخير اس لئے ہو گئی کہ شايد مجه پر بهی کچه اثر ميرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشميريوں کے ساته بڑی دير سے وعده کر رکها تها کہ ہم وہاں رائے شماری کرائيں گے۔ ليکن آج تک وه اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وه وعده يو اين او کے فورم ميں کيا گيا تها، ليکن ميری نيت ان کی طرح خراب نہيں تهی۔ ميں اس دير کے وعدے کے بارے ميں يہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکه، جانچ اور اس کی آنکه ديگر تمام جانداروں سے مختلف بهی ہے اور مشکل بهی۔ جتنے دوسرے جاندار ہيں ان کو بڑی آسانی کے ساته جانچا اور پرکها جا سکتا ہے ليکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے ميں کوئی حتمی فيصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جيسے فوجيوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وه آپ کا قد ماپيں گے، وزن کريں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کريں گے، بينائی ديکهيں گے يعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچيں اور پرکهيں گے اور پهر انہوں نے جو بهی اصول اور ضابطے قائم کئے ہيں، اس کے مطابق چلتے رہيں گے۔ ليکن اس کے ساته ہی اندر کی مشينری کو جانچنے کے لئے بهی انہوں نے پيمانے بنائے ہيں۔
اگر آپ خدانخوستہ کسی عارضے ميں مبتلا ہيں تو اس کو کيسے جانچيں گے؟
ڈاکڻر اپنا اسڻيتهو سکوپ سينے پر رکه کر دل کی دهڑکنيں اور گڑ گڑاہڻيں سنتا
ہے، تهرما ميڻر استعمال کرتا ہے، ايکسرے، الڻرا ساؤنڈ اور سی ڻی سکين، يہ سب چيزيں انسان کے اندر کی بيماريوں کا پتا ديتی ہيں۔ پهر اس کے بعد تيسری چيز انسان کی دماغی اور نفسياتی صورتحال کا جائزه لينا ہوتا ہے۔ نفسيات دان اس کو جانچتے ہيں۔ انہوں نے کچه تصويری خاکے اور معمے بنائے ہوتے ہيں۔ ايک مشين بنا رکهی ہے، جو آدمی کے سچ يا جهوٹ بولنے کی کيفيت بتاتی ہے۔ کچه ايسی مشينيں بهی ہيں، جو شعاعيں ڈال کر پتُلی کے سکڑنے اور پهيلنے سے اندازه لگاتی هيں کہ اس شخص کا اندازِ تکلم اور اندازِ زيست کيسا ہے؟
نفسيات کے ايک معروف ڻيسٹ ميں ايک بڑے سے سفيد کاغذ پر سياہی گرا دی
جاتی ہے اور اس کاغذ کی تہہ لگا ديتے ہيں۔ جب اس کو کهولا جاتا ہے تو اس
پر کوئی تصوير سی چڑيا، طوطا يا تتلی بنی ہوئی ہوتی ہے اور پوچها جا ا ت ہے
کہ آپ کو يہ کيا چيز نظر آتی ہے؟ اور پهر ديکهنے والا اس کو جيسا محسوس
کرتا ہے، بتلاتا ہے، کوئی اسے خوبصورت چڑيا سے تعبير کر کے کہتا ہے
اسے ايک چڑيا نظر آ رہی ہے، جو گاتی ہوئی اڑی جا رہی ہے۔
ايک اور مزاج کا بنده آتا ہے اور کہتا ہے کہ اس ميں ايک بڑهيا هے، جو ڈنڈا
پکڑے بيڻهی ہے اور اس کی شکل ميرے جيسی ہے۔ اس طرح سے ديکهنے
والے کی ذہنی کيفيت کا اندازه لگايا جاتا ہے۔ جانوروں کو بهی اسی معيار پر
پرکها جا سکتا ہے۔ قصائی جس طرح بکرے کو ديکه کر بيمار يا تندرست کا پتا
چلا ليتا ہے۔ بهينس کو ديکه کر بهی اندازه لگايا جاتا ہے کہ يہ اچهی بهينس
ہے يا نہيں۔ گهوڑوں کو بهی چيک کر ليا جاتا ہے۔ جانوروں کا چيک کرنا اس
لئے بهی آسان ہے کہ اگر ہم جانور کے ساته کسی خاص قسم کا برتاؤ کريں
گے، تو وه بهی جواب ميں ويسا ہی برتاؤ کرے گا۔ ليکن انسان کے بارے ميں
يہ فيصلہ نہيں کيا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ آپ ايک آدمی کو زور کا تهپڑ ماريں
اور وه پستول نکال کر آپ کو گولی مار دے۔ ممکن ہے کسی کو ايک تهپڑ
ماريں اور وه جهک کر آپ کو سلام کرے يا ہاته بانده کر کهڑا ہو جائے۔ اس
لئے انسان کے حوالے سے کچه طے نہيں کيا جا سکتا۔ اس کو جانچنا ہمارے
صوفيائے کرام اور
بابے جن کا ميں اکثر ذکر کرتا ہوں، ان کے لئے ہميشہ
ايک مسئلہ رہا ہے کہ انسان اندر سے کيا ہے؟ اور جب تک وه اپنے آپ کو نہ
جان سکے، اس وقت تک وه دوسروں کے بارے ميں کيا فيصلہ کر سکتا ہے۔
آپ کے جتنے بهی ايم اين اے اور ايم پی اے ہيں، يہ ہمارے بارے ميں بيڻه کر
فيصلے کرتے ہيں، ليکن وه خود يہ نہيں جانتے کہ وه کون ہيں؟ يہ ايسے
تيراک ہيں جو ہم کو بچانے کی کوشش کرتے ہيں، ليکن ان کو خود تيرنا نہيں
آتا۔ سيکها ہی نہيں انہوں نے۔ جو گہری نظر رکهنے والے لوگ ہيں وه جاننا
چاہتے ہيں۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کبهی اگر آپ نے غور کيا ہو يا نہ کيا
ہو، ليکن آپ کے شعور سے يہ آواز آتی ہی رہتی ہے کہ
ميں کون ہوں اور

"ميں کہاں ہوں اور اس سارے معاملے اور کائنات ميں کہاں فٹ ہوں، اس کے
لئے ہمارے بابوں نے غور کرنے اور سوچنے کے بعد اور بڑے لمبے وقت اور
وقفے سے گزرنے کے بعد اپنی طرز کا طريق سوچا ہے، جس کے کئے رخ
ہيں۔ آسان لفظوں ميں وه اس نئے طريق کو
فکر يا مراقبے کا نام ديتے
ہيں۔
اب يہ مراقبہ کيوں کيا جاتا ہے، اس کی کيا ضرورت ہے، کس لئے وه بيڻه کر
مراقبہ کرتے ہيں اور اس سے ان کی آخر حاصل کيا ہوتا ہے؟ مراقبے کی
ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ايسی مشين يا آلہ ايجاد نہيں ہوا،
جو کسی بندے کو لگا کر يہ بتايا جا سکے کہ
? What am I? who
am I
، کہ ميں کيا ہوں؟ اس کے لئے انسان کو خود ہی مشين بننا پڑتا ہے
خود ہی سبجيکٹ بننا پڑتا ہے اور خود ہی جانچنے والا۔ اس ميں آپ ہی ڈاکڻر
ہے، آپ ہی مريض ہے۔ يعنی ميں اپنا سراغ رساں خود ہوں اور اس سراغ
رسانی کے طريقے مجهے خود ہی سوچنے پڑتے ہيں کہ مجهے اپنے بارے
ميں کيسے پتا کرنا ہے۔ بہت اچهے لوگ ہوتے ہيں، بڑے ہی پيارے، ليکن ان
سے کچه ايسی باتيں سرزد ہوتی رہی ہيں کہ وه حيران ہوتے ہيں کہ ميں عبادت
گزار بهی ہوں، ميں بهلا، اچها آدمی بهی ہوں، ليکن مجهے يہ معلوم نہيں کہ
ميں ہوں کون؟ اور پتا اسے يوں نہيں چل پاتا، اس کی وجہ يہ ہے کہ خداوند
تعالٰی نے انسان کے اندر اپنی پهونک ماری ہوئی ہے اور وه چلی آ رہی ہے۔
اس کو آپ
Erase نہيں کر سکتے۔ اس کو آپ پرده کهول کر ديکه نہيں
سکتے، آپ ايک لفظ ياد رکهيئے گا
Self يعنی ذات کا۔ اقبال جسے خودی
کہتا ہے۔ خودی کيا ہے؟ اس لفظ خودی کے لئے کئی الفاظ ہيں، ليکن
ذات

زياده آسان اور معنی خيز ہے۔
حضرت علامہ اقبال نے اس لفظ کو بہت استعمال کيا اور اس پر انہوں جے بہت
غور بهی کيا۔ اب اس ذات کو جاننے کے لئے جس ذات کے ساته بہت سارے
خيالات چمٹ جاتے ہيں، جيسے گڑ کی ڈلی کے اوپر مکهياں آ چمڻتی ہيں يا
پرانے زخموں پر بهنبهناتی ہوئی مکهياں آ کر چمٹ جاتی ہيں۔ خيال آپ کو
کنڻرول کرتا ہے اور وه ذات وه خوبصورت پارس جو آپ کے ميرے اندر ہم سب
کے اندر موجود ہے، وه کستوری جو ہے وه چهپی رہتی ہے۔ اس کو تلاش
کرنے کے لئے اس اس کی ايک جهلک ديکهنے کے لئے لوگ
meditate

مراقبہ
) کرتے ہيں۔ کبهی کبهی کسی خوش قسمت کے پاس ايسا گُر آ جاتا ہے )

کہ وه چند سيکنڈ کے لئے اس خيال کی مکهيوں کی بهنبهناہٹ کو دور کر ديتا
ہے اور اس کو وه نظر آتا ہے۔ ليکن خيال اتنا ظالم ہے کہ وه اس خوبصورت
قابل رشک زريں چيز کو ہماری نگاہوں کے سامنے آنے نہيں ديتا۔
جب آپ دو، تين چار مہينے کے تهے تو اس وقت آپ اپنی ذات کو بہت اچهی
طرح سے جانتے تهے۔ جو معصوميت دے کر لله نے آپ کو پيدا کيا تها، اس کا
اور آپ کی ذات کا رشتہ ايک ہی تها۔ آپ وه تهے، وه آپ تها۔ ايک چيز تها دو
پونے دو سال يا کوئی سی بهی مدت مقرر کر ليں۔ جب خيال آ کر آپ کو پکڑنے
لگا تو وه پهر يہ ہوا کہ آپ گهر ميں بيڻهے تهے۔ ماں کی گود ميں۔ کسی کی بہن
آئی انہوں نے آ کر کہا کہ اوه ہو، نسرين يہ جو تمہارا بيڻا ہے يہ تو بالکل بهائی
جان جيسا ہے۔ اس بيڻا صاحب نے جب يہ بات سن لی تو اس نے سوچا ميں تو
ابا جی ہوں۔ ايک خيال آ گيا نا ذہن ميں، حالانکہ وه ہے نہيں ابا جی۔ پهر ايک
دوسری پهوپهی آ گئيں۔ انہوں نے آ کر کہا کہ اس کی تو آنکهيں بڑی
خوبصورت ہيں، تو اس بچے نے سوچا ميں تو خوبصورت آنکهوں والا ہيرو
ہوں۔ جيسا کہ ميں پہلے بهی عرض کر چکا ہوں کہ انسان نے اپنی ذات کے
آگے سائن بورڈ لڻکانے شروع کر ديئے
: ہيرو، رائڻر، ليڈر، پرائم منسڻر،
خوبصورت اور طاقتور وغيره۔ اس طرح کے کتنے سارے سائن بورڈز لڻکا کر
ہم آپ سارے جتنے بهی ہيں، نے اپنے اپنے سائن بورڈ لگا رکهے ہيں اور جب
ملنے کے لئے آتے ہيں، تو ہم اپنا ايک سائن بورڈ آگے کر ديتے ہيں۔ کہ ميں تو
يہ ہوں اور اصل بنده اندر سے نہيں نکلتا اور اصل کی تلاش ميں ہم مارے
مارے پهر رہے ہيں۔
خدا تعالٰی نے اپنی روح ہمارے اندر پهونک رکهی هے۔ ہم يہ بهی چاہتے ہيں کہ
اس سے فائده اڻهائيں اس کی خوشبو ايک بار ليں، اس کے لئے لوگ تڑپتے
ہيں اور لوگ جان مارتے ہيں۔ وه ذات جو لله کی خوشبو سے معطّر ہے اس کے
اوپر وه خيال جس کا ميں ذکر کر رہا ہوں اس کا بڑا بوجه پڑا ہوا ہے۔ وه خيال
کسی بهی صورت ميں چهوڑتا نہيں ہے۔ اس خيال کو اس کستوری سے ہڻانے
کے لئے مراقبے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ آدمی ذرا
ڻهيک ہو۔ اس کو پتا چلے کہ وه کيا ہے۔ اس سے پهر اسے نماز ميں بهی مزا
آتا ہے۔ عبادت، گفتگو، ملنے ملانے ميں، ايک دوسرے کو سلام کرنے ميں بهی
مزا آتا ہے۔ ايک خاصتعلق پيدا ہوتا ہے، اس کے لئے جس کا بتانے کا ميں
نے وعده کيا تها۔
آسان ترين نسخہ يہ ہے کہ دو اوقات صبح اور شام صبح فجر پڑهنے کے بعد
اور شام کو مغرب کے بعد
(يہ اوقات ہی اس کے لئے زياده اچهے ہيں) آپ بيس
منٹ نکال کر گهر کا ايک ايسا کونہ تلاش کريں، جہاں ديوار ہو، جو عمودی ہو،
وہاں آپ چار زانو ہو کر
چوکڑی مار کر بيڻه جائیں۔ اپنی پشت کو بالکل
ديوار کے ساته لگا ليں، کوئی جهکاؤ
کبُ نہ پيدا ہو۔ يہ بہت ضروری ہے،
کيونکہ جو کرنٹ چلنا ہے، نيچے سے اوپر تک وه سيدهے راستے سے چلے۔

__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Ali Randhava (Thursday, August 18, 2011), Kamran Chaudhary (Thursday, August 18, 2011)
  #4  
Old Thursday, August 18, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default پنجاب کا دوپڻہ

جب آدمی ميری عمر کو پہنچتا ہےتو وه اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے
- کچه چيزيں ايسی ہوتی ہيں، جو انسان بد قسمتی سے ساته ہی سميٹ کر لے جاتا ہے- مجهے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ڻکڑيوں ميں ملتے ہيں- ميں چاہتا ہوں کہ اب وه آپ کے حوالے کر دوں- حالانکہ اس ميں تاريخی نوعيت کا کوئی بڑا واقعہ آپ کو نہيں ملے گا ليکن معاشرتی زندگی کو بہ نظرِ غائر ديکها جائے تو اس ميں ہماری سياسی زندگی کے بہت سے پہلو نماياں نظر آئيں گے۔ آج سے کوئی بيس بائيس برس پہلے کی بات ہے ميں کسی سرکاری کام سے حيدرآباد گيا تها۔ سنده ميں مجهے تقريبا ايک ہفتے کے لئے رہنا پڑا، اس لئے ميں نے اپنی بيوی سے کہا کہ وه بهی ميرے ساته چلے، چنانچہ وه بهی ميرے ساته تهی- دو دن وہاں گزارنے کے بعد ميری طبيعت جيسے بے چين ہو گئی-ميں اکثراس حوالے سے آپ کی خدمت میں بابوں کا ذکر کرتا ہوں- ميں نے اپنی بيوی سے کہا کہ بهٹ شاه (شاه عبدالطيف بهڻائی ) کا مزار يہاں قريب ہی ہے اور آج جمعرات بهی ہے، اس لئے آج ہم وہاں چلتے ہيں- وه ميری بات مان گئی- ميزبانوں نے بهی ہميں گاڑی اور ڈرائيور دے ديا، کيونکہ وه راستوں سے واقف تها- ہم مزار کی طرف روانہ ہو گئے- جوں جوں شاه عبدالطيف بهڻائی کا مزار قريب آ رہا تها، مجه پر ايک عجيب طرح کا خوف طاری ہونے لگا- مجه پر اکثر ايسا ہوتا ہے- ميں علم سے اتنا متأثر نہيں ہوں، جتنا کريکڻر سے ہوں- علم کم تر چيز ہے، کردار بڑی چيز ہے- اس لئے صاحبانِ کردار کے قريب جاتے ہوئے مجهے بڑا خوف آتا ہے- صاحبانِ علم سے اتنا خوف نہيں آتا، ڈر نہيں لگتا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بہت سے لوگ ايک ميلے کی صورت ميں ان کے مزار کے باہر موجود تهے- گهوم پهر رہے تهے- ہم مياں بيوی کافی مشکل سے مزار کے صحن ميں داخل ہوئے- بہت سے لوگ وہاں بيڻهے ہوئے تهے اور شاه عبدالطيف بهڻائی کا کلام سنا رہے تهے-اس کلام ميں جب شاه کی شاعری ميں موجود ايک خاص ڻکڑا آتا تو سارے سازندے چوکس ہو کر بيڻه جاتے اور گانے لگتے۔ کلام ميں يہ خاص ڻکڑا اس قدر مشکل اور پيچيده ہے کہ وہاں کے رہنے والے بهی کم کم ہی اس کا مطلب سمجهتے ہيں، ليکن اس کی گہرائی زمانے کے ساته ساته کُهلتی چلی جاتی ہے- ہم بهی وہاں ايک ديوار کے ساته لگ کر کهڑے ہو گئے- وہاں کافی رش تها- کچه لوگ زمين پر ليڻے ہوئے تهے- عورتيں، مرد سب ہی اور کچه بيڻهے کلام سن رہے
تهے
- ہم بهی جا کر بيڻه گئے- جب شاه کی وائی ( مخصوص ڻکڑی ) شروع ہوتی تو ايک خادم دهات کے بڑے بڑے گلاسوں ميں دوده ڈال کر تقسيم کرتا- يہ رسم ہے وہاں کی کہ جب وائی پڑهتے ہيں تو دوده تقسيم کيا جاتا ہے- گلاس بہت بڑے بڑے تهے، ليکن ان ميں تولہ ڈيڑه تولہ دوده ہوتا- جب اتنا بڑا گلاس اور اتنا سا دوده لا کر ايک خادم نے ميری بيوی کو ديا، تو اُس نے دوده لانے والے کی طرف بڑی حيرت سے ديکها اور پهر جهانک کر گلاس کے اندر ديکها- ميں نے اُس سے کہا کہ دوده ہے پی لو- ميں نے اپنے گلاس کو ہلايا- ميرے گلاس کے اندر دوده ميں ايک تنکا تها- ميں اُس تنکے کو نظر انداز کرتا تها، ليکن وه پهر گهوم کر سامنے آ جاتا تها- ميں نے يہ فيصلہ کيا کہ ميں دوده کو تنکے سميت ہی پی جاتا ہوں-چنانچہ ميں نے دوده پی ليا اور اپنی بيوی سے کہا کہ آپ بهی پئيں، يہ برکت کی بات ہے۔ خير! اسُ نے زبردستی زور لگا کر پی ليا اور قريب بيڻهے ہوئے ايک شخص سے کہا کہ آپ ہميں تهوڑی سی جگہ ديں- اُس شخص کی بيوی ليٹ کر اپنے بچے کو دوده پلا رہی تهی- اُس شخص نے اپنی بيوی کو ڻہوکہ ديا اور کہا کہ مہمان ہے، تم اپنے پاؤں پيچهے کرو- ميری بيوی نے کہا کہ نہيں نہيں، اس کو مت اڻُهائيں- ليکن اسُ شخص نے کہا،نہيں نہيں کوئی بات نہيں- اُس کی بيوی ذرا سمٹ گئی اور ہم دونوں کو جگہ دے دی- انسان کا خاصہ يہ ہے کہ جب اُس کو بيڻهنے کی جگہ مل جائے، تو وه ليڻنے کی بهی چاہتا ہے-جب ہم بيڻه گئے تو پهر دل چاہا کہ ہم آرام بهی کريں اور ميں آہستہ آہستہ کهسکتا ہوا پاؤں پسارنے لگا- فرش بڑا ڻهنڈا اور مزيدار تها- ہوا چل رہی تهی- ميں نيم دراز ہو گيا- ميری بيوی نے تهوڑی دير کے بعد کہا کہ ميں چکر لگا کر آتی ہوں، کيونکہ يہ جگہ تو ہم نے پوری طرح ديکهی ہی نہيں- ميں نے کہا ڻهيک ہے- وه چلی گئی- دس پندره منٹ گزر گئے، وه واپس نہ آئی تو مجهے انديشہ ہوا کہ کہيں گُم ہی نه ہو جائے، کيونکہ پيچيده راستے تهے اور نئی جگہ تهی۔

جب وه لوٹ کر آئی تو بہت پريشان تهی- کچه گهبرائی ہوئی تهی- اُس کی سانس پهولی ہوئی تهی- ميں نے کہا، خير ہے! کہنے لگی آپ اڻُهيں ميرے ساته چليں- ميں آپ کو ايک چيز دکهانا چاہتی ہوں- ميں اُڻه کراُس کے ساته چل پڑا- وہاں رات کو دربار کا دروازه بند کر ديتے ہيں اور زائرين باہر بيڻهے رہتے ہيں- صبح جب دروازه کُهلتا ہے تو پهر دعائيں وغيره مانگنا شروع کر ديتے ہيں- جب ہم وہاں گئے تو اسُ نے ميرا ہاته پکڑ ليا اور کہنے لگی، آپ ادهر آئيں- شاه کے دروازے کے عين سامنے ايک لڑکی کهڑی تهی- اُس کے سر پر جيسے ہمارا دستر خوان ہوتا ہے، اس سائز کی چادر کا ڻکڑا تها اور اُس کا اپنا جو دوپڻہ تها وه اُس نے شاه کے دروازے کے کنڈے کے ساته گانڻه دے کر باندها ہوا تها اور اپنے دوپڻے کا آخری کونہ ہاته ميں پکڑے کهڑی تهی اوربالکل خاموش تهی۔ اسُے آپ بہت ہی خوبصورت لڑکی کہہ سکتے ہيں۔ اُس کی عمر کوئی سولہ،ستره يا اڻهاره برس ہو گی- وه کهڑی تهی، ليکن لوگ ايک حلقہ سا بنا کر اُسے تهوڑی سی آسائش عطا کر رہے تهے تاکہ اُس کے گرد جمگهڻا نہ ہو- کچه لوگ، جن ميں عورتيں بهی تهيں، ايک حلقہ سا بنائے کهڑے تهے- ميں نے کہا، يہ کيا ہے؟ ميری بيوی کہنے لگی، اس کے پاؤں ديکهيں- جب ميں نے اسُ کے پاؤں ديکهے تو آپ يقين کريں کہ کوئی پانچ سات کلو کے- اتنا بڑا ہاتهی کا پاؤں بهی نہيں ہوتا- بالکل ايسے تهے جيسے سيمنٹ، پتهر يا اينٹ کے بنے ہوئے ہوں- حالانکہ لڑکی بڑی دهان پان کی اور دُبلی پتلی سی تهی- ہم حيرانی اور ڈر کے ساته اُسے ديکه رہے تهے، تو وه منہ ہی منہ ميں کچه بات کر رہی تهی- وہاں ايک سندهی بزرگ تهے- ہم نے اُن سے پوچها کہ آخر يہ معاملہ کيا ہے؟ اُس نے کہا، سائيں! کيا عرض کريں- يہ بيچاری بہت دُکهياری ہے- يہ پنجاب کے کسی گاؤں سے آئی ہے اور ہمارے اندازے کے مُطابق مُلتان يا بہاولپور سے ہے- يہ گياره دن سے اسی طرح کهڑی ہے اور اس مزار کا بڑا خدمتگار، وه سفيد داڑهی والا بُزرگ، اس کی منت سماجت کرتا ہے تو ايک کهجور کهانے کے لئے يہ منہ کهول ديتی ہے، چوبيس گهنڻے ميں- ميری بيوی کہنے لگی کہ اسے ہوا کيا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ اس کے بهائی کو پهانسی کی سزا ہوئی ہے اور يہ بيچارگی کے عالم ميں وہاں سے چل کر يہاں پہنچی ہے اور اتنے دن سے کهڑی ہے اور ايک ہی بات کہہ رہی ہے کہ اے شاه! تُو تو لله کے راز جانتا ہے، تُو ميری طرف سے اپنے ربّ کی خدمت ميں درخواست کر کہ ميرے بهائی کو رہائی ملے اور اس پر مقدّمہ ختم ہو- وه بس يہ بات کہہ رہی ہے- شاه اپنی ايک نظم ميں فرماتے ہيں کہ اے لوگو! چودهويں کے چاند کو جو بڑا خوبصورت اور دلکش ہوتا ہے، پہلی کے چاند کو جو نظر بهی نہيں آتا اور لوگ چهتوں پر چڑه کر اُنگليوں کا اشاره کر کے اسے ديکهتے ہيں- يہ کيا راز ہے تم ميرے قريب آؤ ميں تمهيں چاند کا راز سمجهاتا ہوں ( يہ شاه عبدالطيف بهڻائی کی ايک نظم کا حصّہ ہے) وه لڑکی بهی بيچاری کہيں سے چل کر چلتی چلتی پتا نہيں اس نے اپنے گهر والوں کو بتايا بهی ہے کہ نہيں، ليکن وه وہاں پہنچ گئی ہے اور وہاں کهڑی تهی- چونکہ رات کو مزار کا دروازه بند ہو جاتا ہے، اس لئے کوئی کنکشن نہيں رہتا، اس نے اپنا دوپڻہ اتُار کر وہاں بانده رکها ہے- وه بابا بتا رہا تها کہ اب اس کا چلنا مشکل ہے- بڑی مشکل سے قدم اُڻها کر چلتی ہےاور ہم سب لوگ اس لڑکی کے لئے دعا کرتے ہيں- ہم اپنا ذاتی کام بهول جاتے ہيں اور ہم اس کے لئے اور اس کے بهائی کے لئے لله سائيں سے گڑگڑا کر دعا کرتے ہيں کہ لله تُو اس پر فضل کر- کتنی چهوڻی سی جان ہے اور اس نے اپنے اوپر کيا مصيبت ڈال لی ہے- ميں کهڑا اس لڑکی کو ديکه رہا تها- اُس کا دوپڻہ اگر سر سے اُتر جاتا تو وہاں کے لوگ اپنے پاس سے اجرک يا کوئی اور کپڑا اُس کے سر پر ڈال ديتے- ميں اس کو ديکهتا رہا- مجهے باہر ديکهنا، وائی سننا اور دوده پينا سب کچه بهول گيا- ميں چاہتا تها کہ اس سے بات کروں، ليکن ميرا حوصلہ نہيں پڑ رہا تها، کيونکہ وه اتنے بلُند کردار اور طاقت کے مقام پر تهی کہ ظاہر ہے ايک چهوڻا، معمولی آدمی اس سے بات نہيں کر سکتا تها- ہميں وہاں کهڑے کهڑے کافی دير ہو گئی- ہم نے ساری رات وہاں گزارنے کا فيصلہ کيا- ہم نے ساری رات اس لڑکی کےلئےدعائيں کيں- بس ہم اس کے لئے کچّی پکّی دعائيں کرتے رہے۔ صبح چلتے ہوئے ميں نے اپنی بيوی سے کہا کہ
جب تک پنجاب کا دوپڻہ شاه عبدالطيف بهڻائی کے کُنڈے سے بندها ہے پنجاب اور سنده ميں کسی قسم کا کريک نہيں آسکتا
- يہ تو اپنے مقصد کے لئے آئی ہے نا، ليکن مقصد سے ماورا بهی ايک اور رشتہ ہوتا ہے- ميری بيوی کہنے لگی، کيوں نہيں، آپ روز ايسی خبريں پڑهتے ہيں کہ يہ سنده کارڈ ہے، يہ پنجاب کارڈ ہے- جب ايک چودهری ديکهتا ہے کہ لوگوں کی توجّہ ميرے اوپر
ہونے لگی ہے اور لوگ ميرے بارے ميں
Critical ہونے لگے ہيں، تو وه پهر کہتا ہے اے لوگو! ميری طرف نہ ديکهو- تمهارا چور پنجاب ہے- دوسرا کہتا ہے، نہيں! ميری جانب نہ ديکهو تمهارا چور سنده ہے، تاکہ اس کے اوپر سے نگاہيں ہڻيں، ورنہ لوگوں کے درميان وہی اصل رشتہ قائم ہے جو مُلتان يا بہاولپور سے جانے والی لڑکی کا شاه کے مزار سے ہے، جو اکيلی تن تنہا، سوجے پاؤں بغير کسی خوراک کے کهڑی ہوئی ہے اس کا اعتقاد اور پورا ايمان ہے کہ اس کا مسئلہ حل ہو گا- اپنی ايک نظم ميں شاه فرماتے ہيں کہ اے کمان کسنے والے تُو نے اس ميں تير رکه ليا ہے اور تُو مجهے مارنے لگا ہے، ليکن ميرا سارا وجود ہی تيرا ہے، کہيں توُ اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لے

__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Ali Randhava (Thursday, August 18, 2011), Arain007 (Friday, August 19, 2011)
  #5  
Old Thursday, August 18, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default پنجاب کا دوپڻہ

چند سردياں پہلے کی بات ہے کہ ہمارے باغِ جناح ميں پُرانے جم خانے کے سامنے اندرونِ شہر کی ايک خاتون بنچ کے اوپر بيڻهی تهی اور اپنے چهوڻے بچے کو اپنے گُهڻنے کے اوپر پلا رہی تهی
- اسُ کی تين بچياں کهيلتے ہوئے باغ ميں پهيل گئی تهيں اور ايک دوسری کے ساته لڑتی تهيں اور بار بار چيخيں مارتی ہوئی ماں سے ايک دوسری کی شکايت کرتی تهيں- ذرا دير بعد پهر ماں کو تنگ کرنا شروع کر ديتيں اور پهر چلی جاتيں- آخر ميں پهر لڑتی ہوئی دو بچياں آئيں اور کہا کہ امّاں اس نے ميری فلاں اتنی بڑی چيز لے لی ہے- ايک نے مُڻهی بند کی ہوئی تهی- آخر ماں نے اس کا ہاته پکڑا اور کہا کهول دے مُڻهی- جب اس نے مُڻهی کهولی تو اس ميں سوکها ہوا درخت سے گِرا بهيڑه تها- ايک نے کہا، پہلے ميں نے ديکها تها يہ ميرا ہے- اُن کی ماں نے دوسری سے کہا، اسے دے دو- پهر وه صُلح صفائی کرتے ہوئے بهاگ کر چلی گئيں- جب ميں نے ان کے درميان اتنی زياده لڑائی ديکهی تو ميں نے اسُ خاتون سے کہا کہ آپ تو مشکل ميں پڑی ہوئی ہيں- يہ بچے آپ کو بہت تنگ کرتے ہيں- تو اسُ نے کہا کہ بهائی! مجهے يہ بہت تنگ کرتے ہيں، ليکن ميں انِ سے تنگ ہوتی نہيں- ميں نے کہا وه کيسے؟ کہنے لگيں، يہ جو ميرے بچے ہيں، اپنی نانی کے مرنے کے بعد پيدا ہوئے ہيں- ميں سوچتی ہوں کہ اگر ان کی نانی زنده ہوتی تو يہ بچياں کتنی ہی شيطانياں کرتيں، ضد کرتيں، لڑائياں کرتيں، ليکن پهر بهی اپنی نانی کی پيارياں اور لاڈلياں ہی رہتيں۔ جب ميرے ذہن ميں يہ خيال آتا ہے تو يہ کچه بهی کريں- ميں اپنی نانی کی حوالے سے ان کو معاف کر ديتی ہوناور يہ مزے سے کهيلتی رہتی ہيں، حالانکہ جسمانی اور ذہنی وروحانی طور پر مجهے تنگ کرتی ہيں- جب اسُ نے يہ بات کی تو ميں سوچنے لگا کہ کيا ہمارے سياسی اور سماجی وجود ميں کوئی نانی جيسا تصوّر نہيں آسکتا؟ کيا ہميں ايسا ليڈر نہيں مل سکتا، يا سکا جس کے سہارے ہم اپنی
مشکلات کو اس کے نام
Dedicate کر کے يہ کہيں کہ اگرايسی مشکلات ہوتيں اور اگر قائداعظم زنده ہوتے تو ہم ان کے حوالے کر ديتے کہ جی يہ مشکلات ہيں اور وه ان کو ويسے ہی سميٹ ليتے جيسا کہ وه دوسری مشکلات سميڻا کرتے تهے، بلکہ اکيلے انُہوں نے ہی تمام مشکلات کو سميڻا تها- ليکن شايد يہ ہماری قسمت يا مقدّر ميں نہيں تها، ليکن اس کے باوجود ميں يہ سمجهتا ہوں کہ اگر ايک دهان پان سی، دُبلی پتلی لڑکی اتنی ہمّت کر کے اپے ذاتی مقصد کے لئے اتنا بڑا کنکشن ميرے آپ کے اور سنده کے درميان پيدا کر سکتی ہے، تو ہم جو زياده پڑهے لکهے، دانشمند اور دانشور لوگ ہيں يہ دل اور روح کے اندر مزيد گہرائی پيدا کرنے کے لئے کچه کيوں نہيں کر سکتے؟ کوئی ايسی صبح طلوع ہو يا کوئی ايسی شام آئے، جب ہم ديوار سے ڈهو لگا
کر ايک
Meditation ميں داخل ہوتے ہيں، تو کيا اس مراقبے ميں يہ ساری چيزيں نہيں آتيں، يا يہ کہ ہم اس مراقبے کے اندر کبهی داخل ہی نہيں ہو سکے؟ ايک چهوڻی سی لڑکی اس طرح ايک تہيہ کے اندر اور ايک ارادے کے
اندر داخل ہو گئی تهی اور ہم جو بڑے ہيں ان سے يہ کام نہيں ہو تا
- اس کے باوجود ميں بہت پرُ اميد ہوں کہ يقينا ايسا وقت آجائے گا جس کا کوئی جواز ہمارے پاس نہيں ہو گا، جس کی کوئی منطق نہيں ہو گی- ليکن وه وقت ضرور
آئے گا، کيوں آئے گا، کس لئے آئے گا، کس وجہ سے اورکيسے آئے گا؟ اس کا بهی کوئی جواب ميرے پاس نہيں ہے
- ليکن اتنی بڑی معاشرتی زندگی ميں جان بوجه کر يا بيوقوفی سے ہم جو نام لے چکے ہيں، انہيں کبهی نہ کبهی،
کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر سفل ہونا ضروری ہے
- يہ ميرا ايک ذاتی خيال ہے، جس کے ساته ميں وابستہ رہتا ہوں- مايوسی کی بڑی گهڻائيں ہيں، بڑی بے چينياں ہيں، بڑی پريشانياں ہيں-اکنامکس کا آپ کے يوڻيليڻی بلز کا ہی مسئلہ اتنا ہو گيا ہے کہ انسان اس سے باہرہی نہيں نکلتا- آدمی روتا رہتا ہے، ليکن ہمارے اس لاہور ميں، ہمارے اس مُلک ميں اور ہمارے اس مُلک سے ماورا دوسری اسلامی دنيا ميں کچه نہ کچه تو لوگ ايسے ضرور ہوں گے جو اکنامکس کی تنگی کے باوصف يہ کہتے ہوں گے جو ميں نہيں کہہ سکتا- ميں کسی نہ کسی طرح سے خوش ہو سکتا ہوں، کيونکہ خوشی کا مال ودولت کے ساته کوئی تعلق نہيں- ہمارے بابے کہا کرتے ہيں کہ اگر مال ودولت کے ساته جائيداد کے ساته خوشی کاتعلق ہوتا تو آپ اتنی ساری چيزيں چهوڑ کرکبهی سوتے ناں! ان ساری چيزوں کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے چهوڑ کر سو جاتے ہيں اور سونا اتنی بڑی نعمت ہے جو آپ کو راحت عطا کرتی ہےاور اگر آپ کو کوئی جگائے تو آپ کہتے ہيں کہ مجهے تنگ نہ کرو- اگر اس سے کہيں کہ تيری وه کار، جائيداد اور بينک بيلنس پڑا ہے تو اس سونے والے کو اس کی کوئی پرواه نہيں ہوتی- اس سے طے يہ پايا کہ يہ دولت يہ مال ومتاع يہ سب
کچه آپ کو خوشی عطا نہيں کرتے، خوشی آپ کے اندر کی لہر ہے مچهلی جس کو پکڑ لے وه اس لہر پر ڈولفن کی طرح سوار ہو کر دُور جا سکتی ہے- اگر وه لہر نہ پکڑی جائے تو پهر ہماری بد قسمتی ہے- پهر ہم کچه نہيں کر سکتے- اس لہر کو ديکهنا، جانچنا اور پکڑنا اور اس پر سوار ہونا شہ سواروں کا کام ہے، عام لوگوں کا نہيں- بڑی تکليفيں اور دقتّيں ہيں، ليکن ان کے درميان رہتے ہوئے بهی کئی آدمی گاتے ہوئے گزر جاتے ہيں اور ہم اپنے کانوں سے ان کا گانا سُنتے ہيں اور ہم ان کی تحقيق نہيں کر سکتےکہ ان کے اندر کون سی چُپ لگی ہوئی ہے، کس قسم کی پروگرامنگ ہوئی ہوتی ہے کہ يہ گاتے چلے جا رہے ہيں- لله آپ کو خوش رکهے اور بہت سی آسانياں عطا فرمائے اور خداوند تعالٰی آپ کو آسانياں تقسيم کرنے کا شرف عطا فرمائے

***********************************
__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Arain007 (Friday, August 19, 2011)
  #6  
Old Friday, August 19, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default سلطان سنگهاڑے والا

انسانی زندگی ميں ايک وقت ايسا بهی آتا ہے، جب اسُ کی آرزو يہ ہوتی ہے کہ وه اب بڑے پُرسکون انداز ميں زندگی بسر کرے اور وه ايسے جهميلوں ميں نہ رہے، جس طرح کے جهميلوں ميں اُس نے اپنی گزشتہ زندگی بسر کی ہوئی ہوتی ہے اور يہ آرزو بڑی شدت سے ہوتی ہے۔ ميں نے يہ ديکها ہے کہ جو لوگ لله کے ساته دوستی لگا ليتے ہيں، وه بڑے مزے ميں رہتے ہيں اور وه بڑے چالاک لوگ ہوتے ہيں۔ ہم کو اُنہوں نے بتايا ہوتا ہے کہ ہم ادهر اپنے دوستوں کے ساته دوستی رکهيں اور وه خود بيچ ميں سے نکل کر لله کو دوست بنا ليتے ہيں۔ انُ کے اوپر کوئی تکليف، کوئی بوجه اور کوئی پہاڑ نہيں گرتا۔ سارے حالات ايسے ہی ہوتے ہيں جيسے ميرے اور آپ کے ہيں، ليکن ان لوگوں کو ايک ايسا سہارا ہوتا ہے، ايک ايسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ انُہيں کوئی تکليف نہيں پہنچتی۔

ميں نے يہ بہت قريب سے ديکها ہے۔ ہمارے گهر ميں دهوپ سينکتے ہوئے ميں ايک چڑيا کو ديکها کرتا ہوں، جو بڑی دير سے ہمارے گهر ميں رہتی ہے اور غالبا يہ اسُ چڑيا کی يا تو بيڻی ہے، يا نواسی ہے جو بہت ہی دير سے ہمارے مکان کی چهت کے ايک کونے ميں رہتی ہے۔ ہمارا مکان ويسے تو بڑا اچها ہے، اس کی
"آروی" کی چهتيں ہيں، ليکن کوئی نہ کوئی کهدرا ايسا ره ہی جاتا ہے، جو ايسے مکينوں کو بهی جگہ فراہم کر ديتا ہے۔ يہ چڑيا بڑے شوق، بڑے سبهاؤ اور بڑے ہی مانوس انداز ميں گهومتی پهرتی رہتی ہے۔ ہمارے کمرے کے اندر بهی اور فرش پر بهی چلی آتی ہے۔ کل ايک فاختہ آئی جو ڻيليفون کی تار پر بيڻهی تهی اور يہ چڑيا اُڑ کر اُس کے پاس گئی، اُس وقت ميں دهوپ سينک (تاپ) رہا تها۔ اسُ چڑيا نے فاختہ سے پوچها کہ " آپا يہ جو لوگ ہوتے ہيں انسان، جن کے ساته ميں رہتی ہوں، يہ اتنے بے چين کيوں ہوتے ہيں؟يہ بهاگے کيوں پهرتے ہيں؟ دروازے کيوں بند کرتے اور کهولتے ہيں؟ اس کی وجہ کيا ہے؟" فاختہ نے کہا کہ "ميرا خيال ہے کہ جس طرح ہم جانوروں کا ايک لله ہوتا ہے، ان کا کوئی لله نہيں ہے اور ہميں يہ چاہئے کہ ہم مل کر کوئی دعا کريں کہ ان کو بهی ايک لله مل جائے۔ اس طرح انہيں آسانی ہو جائے گی، کيونکہ اگر ان کو لله نه مل سکا، تو مشکل ميں زندگی بسر کريں
"گے۔

اب معلوم نہيں ميری چڑيا نے اسُ کی بات مانی يا نہيں، ليکن وه بڑی دير تک گفت وشنيد کرتی رہيں اور ميں بيڻها اپنے تصور کے زور پر يہ ديکهتا رہا کہ ان کے درميان گفتگو کا شايد کچه ايسا ہی سلسلہ جاری ہے۔ تو ہم کس وجه سے، ہمارا اتنا بڑا قصور بهی نہيں ہے، ہم کمزور لوگ ہيں جو ہماری دوستی لله کے ساته ہو نہيں سکتی۔ جب ميں کوئی ايسی بات محسوس کرتا ہوں يا سُنتا ہوں تو پهر اپنے
"بابوں" کے پاس بهاگتا ہوں_ ميں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی ! ميں لله کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذريعہ چاہتا ہوں۔ اسُ تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ يعنی ميں لله والے لوگوں کی بات نہيں کرتا۔ ايک ايسی دوستی چاہتا ہوں، جيسے ميری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساته ہے،تو انُہوں نے کہا "اپنی شکل ديکه اور اپنی حيثيت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گهر ميں داخل ہو سکتا ہے، يہ نا ممکن ہے۔" ميں نے کہا، جی! ميں پهر کيا کروں؟ کوئی ايسا طريقہ تو ہونا چاہئے کہ ميں اسُ کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طريقہ يہی ہے کہ خود نہيں جاتے لله کو آواز ديتے ہيں کہ "اے لله! تو آجا ميرے گهر ميں" کيونکہ لله تو کہيں بهی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وه ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد ميں نے سوچا کہ واقعی ميں نے کبهی اسُے بلايا ہی نہيں، کبهی اس بات کی زحمت ہی نہیں کی۔ ميری زندگی ايسے ہی رہی ہے، جيسے بڑی دير کے بعد کالج کے زمانے کا ايک کلاس فيلو مل جائےبازار ميں تو پهر ہم کہتے ہيں کہ بڑا اچها ہوا آپ مل گئے۔ کبهی آنا۔ اب وه کہاں آئے، کيسےآئے اس بےچارے کو تو پتا ہی نہيں۔

ہمارے ايک دوست تهے۔ وه تب ملتے تهے، جب ہم راولپنڈی جاتے تو کہتے کہ جی آنا، کوئی ملنے کا پروگرام بنانا، يہ بہت اچهی بات ہے، ليکن ايڈريس نہيں بتاتے تهے۔ جيسے ہم لله کو اپنا ايڈريس نہيں بتاتے کسی بهی صورت ميں ميں کہ کہيں سچ مچ ہی نہ پہنچ جائے۔ ايک دهڑکا لگا رہتا ہے۔ وه مجهے کہا کرتے تهے کہ بس مہينے کے آخری ويک کی کسی ڈيٹ کو ملاقات کا پروگرام بنا ليں گے
Sunset ، کے قريب، نہ ڈيٹ بتاتے تهے نہ ڻائم بتاتے تهے
Determine نہيں کرتے تهے، تو ايسا ہی لله کے ساته ہمارا تعلق ہے۔ ہم
يہ نہيں چاہتے، بلکہ کسی حد تک ڈر جاتے ہيں کہ خدا نخواستہ اگر ہم نے لله سے دوستی لگا لی اور وه آگيا تو ہميں بڑے کام کرنے پڑيں گے۔ دوپڻہ چننا ہوتا ہے، بوٹ پالش کرنا ہوتے ہيں، مہندی پر جانا ہوتا ہے۔ اسُ وقت لله مياں آگئے اور اُنہوں نے کہا کہ
"کيا ہو رہا ہے؟" تو مشکل ہوگی۔ ہم نے آخر زندگی کے کام بهی نمڻانے ہيں۔ باقی جو بات ميں سوچتا ہوں اور ميں نے اپنے بابا کو يہ جواب ديا کہ ميں سمجهتا ہوں کہ لله کی عبادت کرنا بہت اچهی بات ہے اور ہے بهی اچهی بات۔ اُنہوں نے کہا کہ عبادت کرنا ايک اور چيز ہے، تم نے تومجه سے کہا کہ ميں خداوند کريم کو بِلا واسطہ طور پو ملنا چاہتا ہوں۔ عبادت کرنا تو ايک گرائمر ہے جو آپ کر رہے ہيں اور اگر آپ عبادت کرتے بهی ہيں،تو پهر آپ اپنی عبادت کوCelebrate
کريں، جشن منائيں، جيسے مہندی پر لڑکياں تهال لےکر ناچتی ہيں نا، موم بتياں جلا کر اس طرح سے، ورنہ تو آپ کی عبادت کسی کام کی نہيں ہوگی۔ جب تک عبادت ميں
Celebration ،
نہيں ہوگی، جشن کا سماں نہيں ہوگا جيسے وه بابا کہتا ہے "تيرے عشق نچايا کر کے تهيا تهيا" چاہے سچ مچ نہ ناچيں ليکن اندر سے اس کا وجود اور روح "تهيا تهيا" کر رہی ہے، ليکن جب تک
Celebration
نہيں کرے گا، بات نہيں بنے گی۔ اس طرح سے نہيں کہ نماز کو لپيٹ کر "چار سنتاں، فير چار فرض فير دو سنتاں فير دو نفل،تنِ وتِر" سلام پهيرا، چلو جی رات گزری فکر اُترا۔ نہيں جی! يہ تو عبادت نہيں۔ ہم تو ايسی ہی عبادت کرتے رہے ہيں، اس ليے تال ميل نہيں ہوتا۔ جشن ضرور منانا چاہئے عبادت کا، دل لگی، محبتّ اور عقيدت کے ساته عبادت۔ ہمارے يہاں جہاں ميں رہتا ہوں، وہاں دو بڑی ہاکی اور کرکٹ گراونڈز ہيں، وہاں سنڈے کے سنڈے بہت سويرے، جب ہم سير سے لوٹ رہے ہوتے ہيں، منہ اندهيرے گڈی اُڑانے والے آتے ہيں۔ وه اس کا بڑا اہتمام کئے ہوئے ہوتے ہيں، ان کے بڑے بڑے تهيلے ہوتے ہيں اور بہت کاريں ہوتی ہيں، جن ميں وه اپنے بڑے تهيلے رکه کر پتنگ اڑُانے کے لئے کهلے ميدان ميں آتے ہيں۔ اب وه خالی پتنگ نہيں اُڑاتے، بلکہ اہتمام کے ساته اس کا جشن بهی مناتے ہيں۔ جب تک اس کے ساته جشن نہ ہو، وه پتنگ نہيں اڑتی اور نہ ہی پتنگ اڑُانے والا سماں بندهتا ہے، کهانے پينے کی بے شمار چيزيں باجا بجانے کے "بهومپو" اور بہت کچه لے کر آتے ہيں، وہاں جشن زياده ہوتا ہے، کائٹ فلائنگ کم ہوتا ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں عبادت زياده ہوتی ہے،
Celebration
، لله کو ماننا کم ہوتا ہے۔ ميں نے سوچا يہ گڈی ارُانے والے بہت اچهے رہتے ہيں، ہمارے پاس بابا جی کے ہاں ايک گڈی اُڑانے والا آيا کرتا تها موچی دروازے کے اندر علاقے سے، بڑی خوبصورت دهوتی (تہبند) باندهتا تها، جيسے انجمن فلموں ميں باندها کرتی تهی، لمبے لڑ چهوڑ کرباندها کرتی تهی، وه جب آتا تو ہمارے بابا جی اُسے کہتے، گڈی اُڑاؤ ( اس طرح باباجی ہميں
Celebrate
کرنے کا حوصلہ ديتےتهے، جو بات اب سمجه ميں آئی ہے) وه اتنی اونچی پتنگ اڑُاتا تها کہ نظروں سے اوجهل ہو جاتی تهی ميرے جيسا آدمی تو اس لمبی ڈور کو
سنبهال بهی نہيں سکتا۔ ميں نے اسُ سے پوچها کہ بها صديق
! تم يہ گڈی کيوں اُڑاتے ہو؟ کہنے لگا، جی ! يہ گڈی اُڑانا بهی لله کے پاس پہنچنے کا ايک ذريعہ
ہے۔ کہنے لگا، نظر نہيں آتی، ليکن اس کی کهينچ بتاتی رہتی ہے کہ ميں ہوں، لله نظر نہيں آتا ليکن آپ کے دلوں کی دهڑکن يہ بتاتی ہے کہ
"ميں ہوں"۔ يہ نہيں کہ وه آپ کے رُوبرو آ کر موجود ہو۔ جب ميں ريڈيو ميں کام کرتا تها تو ہميں ايک Assignment
ملی تهی۔ وه يہ کہ پتا کريں چهوڻے دکانداروں سے کہ وه کس طرح کی زندگی بسر کرتے ہيں۔ چهوڻے دکانداروں سے مراد چهابڑی فروش۔ يہ کچه دير کی بات ہے، ميں نے بہت سے چهابڑی فروشوں کا انڻرويو کيا۔ اُن سے حال معلوم کئے۔ پيسے
کا ہی سارا اونچ نيچ ہے اور ہم جب بهی تحقيق کرتے ہيں يا تحليل کرتے ہيں يا


Analysis
کرتے ہيں تو
Economics
کی
Base
پر ہی کرتے ہيںکہ کتنے امير ہيں، کتنے غريب ہيں، کياتناسب ہے کہ وه کس Ratio
کے ساته زندگی بسر کر رہے ہيں؟ اُن کے کيا مسائل ہيں؟ دِلّی (دہلی) دروازے کے
باہر اگر آپ لوگوں ميں سے کسی نے دہلی دروازه ديکها ہو، اُس کے باہر اي
آدمی کهڑا تها نوجوان، وه کوئی تيس بتيس برس کا ہو گا۔ وه سنگهاڑے بيچ رہا تها۔ ميں اُس کے پاس گيا۔ ميں نے پوچها، آپ کا نام کيا ہے؟ کہنے لگا، ميرا نام
سلطان ہے
! ميں نے کہا کب تک تم يہ سنگهاڑے بيچتے ہو؟ کہنے لگا، شام تک کهڑا رہتا ہوں۔ ميں نے پوچها اس سے تمہيں کتنے روپے مل جاتے ہيں؟ اسُ نے بتايا، ستر بہتر روپے ہوجاتے ہيں۔ ميں نے اسُ سے پوچها، انہيں کالے کيسے کرتے ہيں؟ ( ميری بيوی پوچهتی رہتی تهی مجه سے،کيونکہ وه ديگچے ميں ڈال کر ابُالتی ہے تو وه ويسے کے ويسے ہی رہتے ہيں) اُس نے کہا کہ جی پنساريوں کی دکان سے ايک چيز ملتی ہے، چمچہ بهر اس ميں ڈال ديں تو کالے ہو جائيں گے اُبل کر اور آپ جا کر کسی پنساری سے پوچه ليں کہ سنگهاڑے کالے کرنے والی چيز دے ديں، وه ديدے گا۔جب اُس نے يہ بات کی تو ميں نے کہا، يہ اندر کے بهيد بتانے والا آدمی ہے اور کوئی چيز پوشيده نہيں رکهتا۔ کهلی نيتّ کا آدمی ہے۔ يقينا يہ ہم سے بہتر انسان ہوگا۔

__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Arain007 (Saturday, August 20, 2011)
  #7  
Old Friday, August 19, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default سلطان سنگهاڑے والا

ميں نے کہا، جب آپ ستر بہتر روپے روز بنا ليتے ہيں تو پهر ان روپوں کا کيا کرتےہيں؟ کہنے لگا، ميں جا کر
"رضيہ" کو دے ديتا ہوں۔ ميں نے کہا، رضيہ کون ہے؟ کہنے لگا، ميری بيوی ہے۔ميں نے کہا کہ شرم کرو اتنی محنت سے پيسے کماتے ہو اور سارے کے سارے اُسے دے ديتے ہو۔ کہنے لگا، جی اسی کے لئے کماتے ہيں۔ ( لله کہتا ہے نا قرآنِ پاک ميں کہ الَرّجَالُ قوُامُون عَلیٰ النسِّاء يہ جو مرد ہيں، يہ عورت کے
Provider
ہيں )۔ ميں نے اُس سے کہا، اچها تو بيچ ميں سے کچه نہيں رکهتے؟ کہنے لگا، نہيں جی! مجهے کبهی ضرورت نہيں پڑی۔ ميں نے کہا، اس وقت رضيہ کہاں ہے؟ ( وه
inside
خوبصورت آدمی تها اس ليے مجهے اسُ ميں دلچسپی پيدا ہوئی) کہنے لگا، رضيہ کہيں بازار وغيره گئی ہو گی۔ اس کی دو سہيلياں ہيں اور وه تينوں صبح سويرے نکل جاتی ہيں بازار۔ اسُ نے بتايا کہ وه کبهی کبهی گلوکوز لگواتی ہيں، اُن کو شوق ہے ( اس طرح مجهے تو بعد ميں پتا چلا کہ اندرونِ شہر کی عورتيں گلوکوز لگوانا پسند کرتی ہيں، گلوکوز لگوانا انہيں اچهی سی چيز لگتی ہے کہ اس کے لگوانے سے جسم کو تقويت ملے گی)۔ ميں نے کہا، اچها تم خوش ہو اُس کے ساته؟ کہنے لگا، ہاں جی! ہم اپنے لله کے ساته بڑے راضی ہيں۔ ميری تو لله کے ساته ہی آشنائی ہے۔ ميں تو کسی اور آدمی کو جانتا نہيں۔ اس پر ميں چونکا اور ڻهڻکا۔ اسُ کی باتوں سے يہ ظاہر ہوتا تها کہ ايک بڑا آدمی ہے لاہور کا۔ ميں نے اگر کوئی حاکم ديکها ہے تو وه "سلطان سنگهاڑا فروش" ہے۔ اُس کو کسی چيز کی پروا نہيں تهی۔ کوئی واردات، واقعہ اُس کے اوپر اثر انداز نہيں ہوتا تها۔

ميں اسُ سے جب بهی ملتا رہا کوئی شکايت اسُ کی زبان پر نہيں ہوتی تهی۔ اب تو تين سال سے جانے وه کہاں غائب ہے۔ مجهے نظر نہيں آيا، ليکن ميں اسُ کے حضور ميں حاضری ديتا ہی رہا۔ اسُ کا درجہ چونکہ اس اعتبار سے بلند تها کہ اسُ کی دوستی ايک بزرگ ترين ہستی سے تهی۔ ميں ذرا اپنی گفتار اور باتوں ميں تهوڑا سا با ادب ہو گيا۔ ميں نے اسُ سے کہا، يار سلطان
! کيا تم لله کے ساته گفتگو بهی کرتے ہو؟ کہنے لگا، ہم تو شام کو جاتے، صبح کو آتےہوئے، منڈی سے سودا خريدتے ہوئے اسُ کے ساته ہی رہتے ہيں اور اسُی کے ساته گفتگو کرتے ہيں۔ ميں نے کہا، کون سی زبان ميں؟ وه کہنے لگا، "اوه پنجابی وی جاندا اے، اردو جاندا اے، سندهی جو وی بولی بوليں او سب جاندا اے!" ميں نے کہا تو نے مجهے بتايا تها ايک دن کہ گياره برس ہوگئے تمہاری شادی کو اور تمہارا کوئی بچّہ نہيں ہے؟ کہنے لگا، بچّہ کوئی نہيں ميں اور رضيہ اکيلے ہيں۔ ميں نے کہا، لله سے کہو کہ لله تجهے ايک بچّہ دے۔ کہنے لگا، ، نہيں جی! يہ تو ايک بڑی شرم کی بات ہے۔ بزرگوں سے ايسی بات کيا کرنی، بُرا سا لگتا ہے۔ وه خداوند تعالٰی کو ايک بزرگ ترين چيز سمجه کر کہ رہا تهاکہ جی! بڑوں کے ساته ايسی بات نہيں کرنی۔ ميں يہ کہتا فضول سا لگوں گا کہ لله مجهے بچّہ دے۔ ميں نے کہا کہ کيا ايسے ہو سکتا ہے کہ ہماری بهی اسُ کے ساته دوستی ہو جائے؟ کہنے لگا، اگر آپ چاہيں تو ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نہ چاہيں تو نہيں ہو سکتا۔ ميں نے جيسا کہ ميں پہلے عرض کر رہا تها، اپنے سارے برسوں کا ميں نے جائزه ليا، سارے دنوں کا، ميں نے کبهی يہ نہيں چاہا۔ ميرا يہی خيال تها کہ ميں عبادت کروں گا اور عبادت ہی اس کا راز ہے اور عبادت کو ہی لپيٹ کر رکه دوں گا اپنے مصلّے کے اوپر اور دن رات اسی طرح عبادت کرتا رہوں گا۔ ليکن وه جو ميرا منتہائے مقصود ہے، وه جو ميرا محبوب ہے، اُس کی طرف جانے کی کبهی کوشش نہيں کی۔ ميں يہی سمجهتا رہا اور آج تک يہی سمجهتا رہا ہوں کہ عبادت ہی يہ سارا راز اور سارا بهيد ہے، حلانکہ عبادت سے ماورا (ميں يہ جو بات عرض کر رہا ہوں، آپ کو سمجهانے کے لئے کر رہا ہوں) عبادت سے پرے ہٹ کر ايک آرزو کی بهی تلاش ہے کہ ميں اپنے لله کے ساته جس کی کوئی ايک ہستی ہے نہ نظر ميں آنے والی، اس کے ساتهی کوئی رابطہ قائم کروں، جيسا سلطان نے کيا تها۔ جيسے اسُ کے علاوه چار پانچ بندے اور بهی ہيں ميری نظر ميں۔ ميں نے اس بات سے اندازاه لگايا کہ اتنا خوش آدمی ميں نے زندگی ميں کوئی نہيں ديکها۔ جتنے بهی لله کے ساته تعلق رکهنے والے لوگ تهے، وه انتہائی خوش تهے۔
ء کی جنگ ميں اس (سلطان) کے پاس گيا، لوگ گهبرائے بهی ہوئے 1965

تهے، جذباتی بهی تهے۔ وه ڻهيک تها، ويسے ہی، بالکل اسی انداز ميں جيس پہلے ملا کرتا تها۔ ميں نے اُس سے کہا تم مجهے کوئی ايسی بات بتاؤ جس سے ميرے دل ميں چلو کم از کم يہ خواہش ہی پيدا ہوجائے، خدا سے دوستی کی اور ميں کم از کم اس پليٹ فارم سے اُتر کر دو نمبر کے پليٹ فارم پر آ جاؤں۔ پهر ميں وہاں سے سيڑهياں چڑه کر کہيں اور چلا جاؤں۔ ميری نگاه اوپر ہوجائے، تو کہنے لگا
( حالانکہ انَ پڑه آدمی تها، اب لوگ مجه سے بابوں کا ايڈريس پوچهتے ہيں، ميں انہيں کيسے بتاؤں کہ ايک سلطان سنگهاڑے والا دِلّی دروزے کے باہر جہاں تانگے کهڑے ہوتے ہيں، ان کے پيچهے کهڑا ہے، جو بہت عظيم "بابا" ہے اور نظر آنے والوں کوشايد نظر آتا ہوگا، مجهے پورے کا پورا تو نظر نہيں آتا ) بها جی! بات يہ ہے کہ جب ہم منہ اوپر اُڻهاتے ہيں تو ہم کو آسمان اور ستارے نظر آتے ہيں۔ لله کے جلوے دکهائی ديتے ہيں۔ کہنے لگا، آپ کبهی مری گئے ہيں؟ ميں نے کہا، ہاں ميں کئی بار مری گيا ہوں۔ کہنے لگا، جب آدمی مری جاتا ہے نا پہاڑی پر تو پهر حال کا نظاره لينے کے
لئے وه نيچے بهی ديکهتا ہے اور اوپر بهی۔ پهر اسُ کا سفر
Complete

ہوتا ہے۔ خالی ايک طرف منہ کرنے سے نہيں ہوتا۔ جب آپ نيچے کو اور اوپر کو ملاتے ہيں، تو پهر ساری وسعت اس ميں آتی ہے۔ اُس نے کہا کہ يہ ايک راز ہے جب آدمی يہ سمجهنے لگ جائے کہ ميں وسعت کے اندر داخل ہو رہا ہوں
( وه پنجابی ميں بات کرتا تها، اسُ کے الفاظ تو اور طرح کے ہوتے تهے) پهر اُس کو قربت کا احساس ہوتا ہے۔ ليکن حوصلہ کر کے وہی کہنا پڑتا ہے، جيسا کہ بابا جی کہتے تهے کہ "اے لله! تو ميرے پاس آجا مجه ميں تو اتنی ہمّت نہيں کہ ميں آ سکوں" اور وه يقينا آتا ہے۔ بقول سلطان سنگهاڑے والے کے کہ اس کے لئے کہيں جانا نہيں پڑتا، اس لئے کہ وه تو پہلے سے ہی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ کی شہ رگ کے پاس کرسی ڈال کر بيڻها ہوا ہے۔ آپ اُسے دعوت ہی نہيں ديتے۔ ميں نے اُس سے کہا کہ اس کا مجهے کوئی راز بتا، مجهے کچه ايسی بات بتا کہ جس سے ميرے دل کے اندر کچه محسوس ہو۔ کہنے لگا، جی! آپ کے دل کے اندر کيا ميں تو سارے پاکستان کے، لاہور کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب وه باہر نکلا کريں پورا لباس پہن کر نکلا کريں۔ ميں نے کہا، سارے ہی پورا لباس پہنتے
ہيں۔ کہنے لگا، يہ ديکه تانگے ميں چار بندے بيڻهے ہوئے ہيں۔ پورا لباس نہيں پہنا ہوا۔ ميں نے کہا، ه ی بابو گزرا ہے تهری پيس سوٹ پہنا ہوا ہے اس نے ڻائی بهی لگائی ہوئی ہے۔ کہنے لگا، نہيں جی آدمی جب کم از کم باہر نکلے تو جس طرح لڑکياں ميک اپ کرتی ہيں، خاص طور پر باہر نکلنے کے لئے، تو اس طرح آدمی کو بهی اپنے لباس کے اوپر خصوصی توجہ دينی چاہئے۔ ميں يہی سمجه ا ت رہا کہ وه کوئی اخلاقی بات کرنا چاہتا ہے لباس کے بارے ميں، جيسے ہم آپ لوگ کرتے ہيں۔ کہنے لگا، لوگ سارے کپڑے پہن تو ليتے ہيں، ليکن اپنے چہرے پر مسکراہٹ نہيں رکهتے اور ايسے ہی آجاتے ہيں لڑائی کرتے ہوئے اور لڑائی کرتے ہوئے ہی چلے جاتے ہيں۔ تو جب تک آپ چہرے پر مسکراہٹ نہيں سجائيں گے، لباس مکمل نہيں ہوگا۔ يہ جو تانگے پر بيڻهے ہوئے ہيں چار آدمی، کہنے لگا يہ تو برہنہ جا رہے ہيں۔ مسکراہٹ لله کی شکر گزاری ہے اور جب آدمی لله کی شکر گزاری سے نکل جاتا ہے، تو پهر وه کہيں کا نہيں رہتا۔ ميں کہا، يار
! ہم تو بہت عبادت گزار لوگ ہيں۔ باقاعدگی سے نماز پڑهتے ہيں، روزے رکهتے ہيں۔ اس پر وه کہنے لگا،جی! ميں لال قدسی ميں رہتا ہوں، وہاں بابا وريام ہيں۔ وه رات کو بات (لمبی کہانی سنايا کرتے ہيں۔ انہوں نے ہميں ايک کہانی سنائی کہ پيرانِ پير کے شہر بغداد ميں ايک بنده تها جو کسی پر عاشق تها۔ اسُ کے لئے تڑپتا تها، روتا تها، چيخيں مارتا تها اور زمين پر سر پڻختا تها۔ ليکن اسُ کا محبوب اسُے نہيں ملتا تها۔ اسُ شخص نے ايک بار خدا سے دعا کی کہ اے لله! ايک بار مجهے ميرے محبوب کے درشن تو کرا دے۔لله تعالٰی کو اُس پر رحم آگيا اور اُس کا محبوب ايک مقرره مقام پر، جہاں بهی کہا گيا تها، پہنچ گيا۔ دونوں جب ملے تو عاشق چڻهيوں کا ايک بڑا بنڈل لے آيا۔ يہ وه خط تهے، جو وه اپنے محبوب کے ہجر ميں لکهتا رہا تها۔ اُس نے وه کهول کر اپنے محبوب کو سنانے شروع کر دئيے۔ پہلا خط سنايا اور
اہنے ہجر کے دکهڑے بيان کئے۔ اس طرح دوسرا خط پهر تيسرا خط اور جب وه گيارہويں خط پر پہنچا تو اُس کے محبوب نے اُسے ايک تهپڑ رسيد کيا اور کہا

گدهے کے بچّے! ميں تيرے سامنے موجود ہوں، اپنے پورے وجود کے ساته اور تو مجهے چڻهياں سنا رہا ہے۔ يہ کيا بات ہوئی" سلطان کہنے لگا، بها جی! عبادت ايسی ہوتی ہے۔آدمی چڻهياں سناتا رہتا ہے، محبوب اسُ کے گهر ميں ہوتا ہے، اُس سے بات نہيں کرتا۔ جب تک اُس سے بات نہيں کرے گا، چڻهياں سنانے سے کوئی فائده نہيں۔ ميں يہ عرض کر رہا تها کہ ايسے لوگ بڑے مزے ميں رہتے ہيں۔ ميں بڑا سخت حاسد ہوں ان کا، ميں چاہتا ہوں کہ کچه کئے بغير، کوشش، Struggle
کئے بغير مجهے بهی ايسا مقام مل جائے، مثلا جی چاہتا ہے کہ ميرا بهی پرائز بانڈ نکل آئے ساڑهے تين کروڑ والا۔ ليکن اس سے پہلے ميں يہ بهی چاہتا ہوں کہ چاہے وه پرائز بانڈ نکلے نہ نکلے ( ايمانداری کی بات کرتا ہوں) مجهے وه عياشی ميسر آجائے، جو ميں نے پانچ آدميوں کے چہرے پر اُن کی روحوں پر ديکهی تهی، کيونکہ اُن کی دوستی ايک بہت اونچے مقام پر تهی۔

لله آپ کو آسانياں عطا فرمائے اور آسانياں تقسيم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

***********************
__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
  #8  
Old Friday, August 19, 2011
Junior Member
 
Join Date: Nov 2010
Location: Sindh
Posts: 26
Thanks: 18
Thanked 1 Time in 1 Post
Dazling is on a distinguished road
Default

Quote:
Originally Posted by Taimoor Gondal View Post
ميں نے کہا، جب آپ ستر بہتر روپے روز بنا ليتے ہيں تو پهر ان روپوں کا کيا کرتےہيں؟ کہنے لگا، ميں جا کر
"رضيہ" کو دے ديتا ہوں۔ ميں نے کہا، رضيہ کون ہے؟ کہنے لگا، ميری بيوی ہے۔ميں نے کہا کہ شرم کرو اتنی محنت سے پيسے کماتے ہو اور سارے کے سارے اُسے دے ديتے ہو۔ کہنے لگا، جی اسی کے لئے کماتے ہيں۔ ( لله کہتا ہے نا قرآنِ پاک ميں کہ الَرّجَالُ قوُامُون عَلیٰ النسِّاء يہ جو مرد ہيں، يہ عورت کے
Provider
ہيں )۔ ميں نے اُس سے کہا، اچها تو بيچ ميں سے کچه نہيں رکهتے؟ کہنے لگا، نہيں جی! مجهے کبهی ضرورت نہيں پڑی۔ ميں نے کہا، اس وقت رضيہ کہاں ہے؟ ( وه
inside
خوبصورت آدمی تها اس ليے مجهے اسُ ميں دلچسپی پيدا ہوئی) کہنے لگا، رضيہ کہيں بازار وغيره گئی ہو گی۔ اس کی دو سہيلياں ہيں اور وه تينوں صبح سويرے نکل جاتی ہيں بازار۔ اسُ نے بتايا کہ وه کبهی کبهی گلوکوز لگواتی ہيں، اُن کو شوق ہے ( اس طرح مجهے تو بعد ميں پتا چلا کہ اندرونِ شہر کی عورتيں گلوکوز لگوانا پسند کرتی ہيں، گلوکوز لگوانا انہيں اچهی سی چيز لگتی ہے کہ اس کے لگوانے سے جسم کو تقويت ملے گی)۔ ميں نے کہا، اچها تم خوش ہو اُس کے ساته؟ کہنے لگا، ہاں جی! ہم اپنے لله کے ساته بڑے راضی ہيں۔ ميری تو لله کے ساته ہی آشنائی ہے۔ ميں تو کسی اور آدمی کو جانتا نہيں۔ اس پر ميں چونکا اور ڻهڻکا۔ اسُ کی باتوں سے يہ ظاہر ہوتا تها کہ ايک بڑا آدمی ہے لاہور کا۔ ميں نے اگر کوئی حاکم ديکها ہے تو وه "سلطان سنگهاڑا فروش" ہے۔ اُس کو کسی چيز کی پروا نہيں تهی۔ کوئی واردات، واقعہ اُس کے اوپر اثر انداز نہيں ہوتا تها۔

ميں اسُ سے جب بهی ملتا رہا کوئی شکايت اسُ کی زبان پر نہيں ہوتی تهی۔ اب تو تين سال سے جانے وه کہاں غائب ہے۔ مجهے نظر نہيں آيا، ليکن ميں اسُ کے حضور ميں حاضری ديتا ہی رہا۔ اسُ کا درجہ چونکہ اس اعتبار سے بلند تها کہ اسُ کی دوستی ايک بزرگ ترين ہستی سے تهی۔ ميں ذرا اپنی گفتار اور باتوں ميں تهوڑا سا با ادب ہو گيا۔ ميں نے اسُ سے کہا، يار سلطان
! کيا تم لله کے ساته گفتگو بهی کرتے ہو؟ کہنے لگا، ہم تو شام کو جاتے، صبح کو آتےہوئے، منڈی سے سودا خريدتے ہوئے اسُ کے ساته ہی رہتے ہيں اور اسُی کے ساته گفتگو کرتے ہيں۔ ميں نے کہا، کون سی زبان ميں؟ وه کہنے لگا، "اوه پنجابی وی جاندا اے، اردو جاندا اے، سندهی جو وی بولی بوليں او سب جاندا اے!" ميں نے کہا تو نے مجهے بتايا تها ايک دن کہ گياره برس ہوگئے تمہاری شادی کو اور تمہارا کوئی بچّہ نہيں ہے؟ کہنے لگا، بچّہ کوئی نہيں ميں اور رضيہ اکيلے ہيں۔ ميں نے کہا، لله سے کہو کہ لله تجهے ايک بچّہ دے۔ کہنے لگا، ، نہيں جی! يہ تو ايک بڑی شرم کی بات ہے۔ بزرگوں سے ايسی بات کيا کرنی، بُرا سا لگتا ہے۔ وه خداوند تعالٰی کو ايک بزرگ ترين چيز سمجه کر کہ رہا تهاکہ جی! بڑوں کے ساته ايسی بات نہيں کرنی۔ ميں يہ کہتا فضول سا لگوں گا کہ لله مجهے بچّہ دے۔ ميں نے کہا کہ کيا ايسے ہو سکتا ہے کہ ہماری بهی اسُ کے ساته دوستی ہو جائے؟ کہنے لگا، اگر آپ چاہيں تو ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نہ چاہيں تو نہيں ہو سکتا۔ ميں نے جيسا کہ ميں پہلے عرض کر رہا تها، اپنے سارے برسوں کا ميں نے جائزه ليا، سارے دنوں کا، ميں نے کبهی يہ نہيں چاہا۔ ميرا يہی خيال تها کہ ميں عبادت کروں گا اور عبادت ہی اس کا راز ہے اور عبادت کو ہی لپيٹ کر رکه دوں گا اپنے مصلّے کے اوپر اور دن رات اسی طرح عبادت کرتا رہوں گا۔ ليکن وه جو ميرا منتہائے مقصود ہے، وه جو ميرا محبوب ہے، اُس کی طرف جانے کی کبهی کوشش نہيں کی۔ ميں يہی سمجهتا رہا اور آج تک يہی سمجهتا رہا ہوں کہ عبادت ہی يہ سارا راز اور سارا بهيد ہے، حلانکہ عبادت سے ماورا (ميں يہ جو بات عرض کر رہا ہوں، آپ کو سمجهانے کے لئے کر رہا ہوں) عبادت سے پرے ہٹ کر ايک آرزو کی بهی تلاش ہے کہ ميں اپنے لله کے ساته جس کی کوئی ايک ہستی ہے نہ نظر ميں آنے والی، اس کے ساتهی کوئی رابطہ قائم کروں، جيسا سلطان نے کيا تها۔ جيسے اسُ کے علاوه چار پانچ بندے اور بهی ہيں ميری نظر ميں۔ ميں نے اس بات سے اندازاه لگايا کہ اتنا خوش آدمی ميں نے زندگی ميں کوئی نہيں ديکها۔ جتنے بهی لله کے ساته تعلق رکهنے والے لوگ تهے، وه انتہائی خوش تهے۔
ء کی جنگ ميں اس (سلطان) کے پاس گيا، لوگ گهبرائے بهی ہوئے 1965

تهے، جذباتی بهی تهے۔ وه ڻهيک تها، ويسے ہی، بالکل اسی انداز ميں جيس پہلے ملا کرتا تها۔ ميں نے اُس سے کہا تم مجهے کوئی ايسی بات بتاؤ جس سے ميرے دل ميں چلو کم از کم يہ خواہش ہی پيدا ہوجائے، خدا سے دوستی کی اور ميں کم از کم اس پليٹ فارم سے اُتر کر دو نمبر کے پليٹ فارم پر آ جاؤں۔ پهر ميں وہاں سے سيڑهياں چڑه کر کہيں اور چلا جاؤں۔ ميری نگاه اوپر ہوجائے، تو کہنے لگا
( حالانکہ انَ پڑه آدمی تها، اب لوگ مجه سے بابوں کا ايڈريس پوچهتے ہيں، ميں انہيں کيسے بتاؤں کہ ايک سلطان سنگهاڑے والا دِلّی دروزے کے باہر جہاں تانگے کهڑے ہوتے ہيں، ان کے پيچهے کهڑا ہے، جو بہت عظيم "بابا" ہے اور نظر آنے والوں کوشايد نظر آتا ہوگا، مجهے پورے کا پورا تو نظر نہيں آتا ) بها جی! بات يہ ہے کہ جب ہم منہ اوپر اُڻهاتے ہيں تو ہم کو آسمان اور ستارے نظر آتے ہيں۔ لله کے جلوے دکهائی ديتے ہيں۔ کہنے لگا، آپ کبهی مری گئے ہيں؟ ميں نے کہا، ہاں ميں کئی بار مری گيا ہوں۔ کہنے لگا، جب آدمی مری جاتا ہے نا پہاڑی پر تو پهر حال کا نظاره لينے کے
لئے وه نيچے بهی ديکهتا ہے اور اوپر بهی۔ پهر اسُ کا سفر
Complete

ہوتا ہے۔ خالی ايک طرف منہ کرنے سے نہيں ہوتا۔ جب آپ نيچے کو اور اوپر کو ملاتے ہيں، تو پهر ساری وسعت اس ميں آتی ہے۔ اُس نے کہا کہ يہ ايک راز ہے جب آدمی يہ سمجهنے لگ جائے کہ ميں وسعت کے اندر داخل ہو رہا ہوں
( وه پنجابی ميں بات کرتا تها، اسُ کے الفاظ تو اور طرح کے ہوتے تهے) پهر اُس کو قربت کا احساس ہوتا ہے۔ ليکن حوصلہ کر کے وہی کہنا پڑتا ہے، جيسا کہ بابا جی کہتے تهے کہ "اے لله! تو ميرے پاس آجا مجه ميں تو اتنی ہمّت نہيں کہ ميں آ سکوں" اور وه يقينا آتا ہے۔ بقول سلطان سنگهاڑے والے کے کہ اس کے لئے کہيں جانا نہيں پڑتا، اس لئے کہ وه تو پہلے سے ہی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ کی شہ رگ کے پاس کرسی ڈال کر بيڻها ہوا ہے۔ آپ اُسے دعوت ہی نہيں ديتے۔ ميں نے اُس سے کہا کہ اس کا مجهے کوئی راز بتا، مجهے کچه ايسی بات بتا کہ جس سے ميرے دل کے اندر کچه محسوس ہو۔ کہنے لگا، جی! آپ کے دل کے اندر کيا ميں تو سارے پاکستان کے، لاہور کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب وه باہر نکلا کريں پورا لباس پہن کر نکلا کريں۔ ميں نے کہا، سارے ہی پورا لباس پہنتے
ہيں۔ کہنے لگا، يہ ديکه تانگے ميں چار بندے بيڻهے ہوئے ہيں۔ پورا لباس نہيں پہنا ہوا۔ ميں نے کہا، ه ی بابو گزرا ہے تهری پيس سوٹ پہنا ہوا ہے اس نے ڻائی بهی لگائی ہوئی ہے۔ کہنے لگا، نہيں جی آدمی جب کم از کم باہر نکلے تو جس طرح لڑکياں ميک اپ کرتی ہيں، خاص طور پر باہر نکلنے کے لئے، تو اس طرح آدمی کو بهی اپنے لباس کے اوپر خصوصی توجہ دينی چاہئے۔ ميں يہی سمجه ا ت رہا کہ وه کوئی اخلاقی بات کرنا چاہتا ہے لباس کے بارے ميں، جيسے ہم آپ لوگ کرتے ہيں۔ کہنے لگا، لوگ سارے کپڑے پہن تو ليتے ہيں، ليکن اپنے چہرے پر مسکراہٹ نہيں رکهتے اور ايسے ہی آجاتے ہيں لڑائی کرتے ہوئے اور لڑائی کرتے ہوئے ہی چلے جاتے ہيں۔ تو جب تک آپ چہرے پر مسکراہٹ نہيں سجائيں گے، لباس مکمل نہيں ہوگا۔ يہ جو تانگے پر بيڻهے ہوئے ہيں چار آدمی، کہنے لگا يہ تو برہنہ جا رہے ہيں۔ مسکراہٹ لله کی شکر گزاری ہے اور جب آدمی لله کی شکر گزاری سے نکل جاتا ہے، تو پهر وه کہيں کا نہيں رہتا۔ ميں کہا، يار
! ہم تو بہت عبادت گزار لوگ ہيں۔ باقاعدگی سے نماز پڑهتے ہيں، روزے رکهتے ہيں۔ اس پر وه کہنے لگا،جی! ميں لال قدسی ميں رہتا ہوں، وہاں بابا وريام ہيں۔ وه رات کو بات (لمبی کہانی سنايا کرتے ہيں۔ انہوں نے ہميں ايک کہانی سنائی کہ پيرانِ پير کے شہر بغداد ميں ايک بنده تها جو کسی پر عاشق تها۔ اسُ کے لئے تڑپتا تها، روتا تها، چيخيں مارتا تها اور زمين پر سر پڻختا تها۔ ليکن اسُ کا محبوب اسُے نہيں ملتا تها۔ اسُ شخص نے ايک بار خدا سے دعا کی کہ اے لله! ايک بار مجهے ميرے محبوب کے درشن تو کرا دے۔لله تعالٰی کو اُس پر رحم آگيا اور اُس کا محبوب ايک مقرره مقام پر، جہاں بهی کہا گيا تها، پہنچ گيا۔ دونوں جب ملے تو عاشق چڻهيوں کا ايک بڑا بنڈل لے آيا۔ يہ وه خط تهے، جو وه اپنے محبوب کے ہجر ميں لکهتا رہا تها۔ اُس نے وه کهول کر اپنے محبوب کو سنانے شروع کر دئيے۔ پہلا خط سنايا اور
اہنے ہجر کے دکهڑے بيان کئے۔ اس طرح دوسرا خط پهر تيسرا خط اور جب وه گيارہويں خط پر پہنچا تو اُس کے محبوب نے اُسے ايک تهپڑ رسيد کيا اور کہا

گدهے کے بچّے! ميں تيرے سامنے موجود ہوں، اپنے پورے وجود کے ساته اور تو مجهے چڻهياں سنا رہا ہے۔ يہ کيا بات ہوئی" سلطان کہنے لگا، بها جی! عبادت ايسی ہوتی ہے۔آدمی چڻهياں سناتا رہتا ہے، محبوب اسُ کے گهر ميں ہوتا ہے، اُس سے بات نہيں کرتا۔ جب تک اُس سے بات نہيں کرے گا، چڻهياں سنانے سے کوئی فائده نہيں۔ ميں يہ عرض کر رہا تها کہ ايسے لوگ بڑے مزے ميں رہتے ہيں۔ ميں بڑا سخت حاسد ہوں ان کا، ميں چاہتا ہوں کہ کچه کئے بغير، کوشش، Struggle
کئے بغير مجهے بهی ايسا مقام مل جائے، مثلا جی چاہتا ہے کہ ميرا بهی پرائز بانڈ نکل آئے ساڑهے تين کروڑ والا۔ ليکن اس سے پہلے ميں يہ بهی چاہتا ہوں کہ چاہے وه پرائز بانڈ نکلے نہ نکلے ( ايمانداری کی بات کرتا ہوں) مجهے وه عياشی ميسر آجائے، جو ميں نے پانچ آدميوں کے چہرے پر اُن کی روحوں پر ديکهی تهی، کيونکہ اُن کی دوستی ايک بہت اونچے مقام پر تهی۔

لله آپ کو آسانياں عطا فرمائے اور آسانياں تقسيم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

***********************
realy nyc
__________________
A mind not to be chang'd by place or time. The mind is its own place , and in its self. Can make a heaven of hell , a hell of heaven.
Reply With Quote
  #9  
Old Friday, August 19, 2011
Taimoor Gondal's Avatar
Senior Member
Medal of Appreciation: Awarded to appreciate member's contribution on forum. (Academic and professional achievements do not make you eligible for this medal) - Issue reason: Diligent Service Medal: Awarded upon completion of 5 years of dedicated services and contribution to the community. - Issue reason:
 
Join Date: Jul 2010
Location: Mandi Bahauddin
Posts: 1,569
Thanks: 1,658
Thanked 2,182 Times in 1,056 Posts
Taimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant futureTaimoor Gondal has a brilliant future
Default ايم اے پاس بلّی

آج صبح کی نماز بهی ويسے ہی گزر گئی اور يہ کوئی نئی بات نہيں ہے
- ميرے ساته اکثر وبيشتر ايسے ہو جاتا ہے کہ آنکه تو کهل جاتی ہے ليکن اڻُهنے ميں تاخير ہو جاتی ہے اور پهر وه وقت بڑا بوجهل بن کر وجود پر گزرتا ہے- ميں ليڻا ہوا تها- ميں نے کہا اور کوئی کام نہيں چلو کل کا اخبار ہی ديکه ليں- ميں نے ہيڈ ليمپ آن کيا، بتیّ جلائی اور اخبار ديکهنے لگ پڑا اور آپ جانتے ہيں اخبار ميں کتنی خوفناک خبريں ہوتی ہيں، وه برداشت نہيں ہوتيں- مثلا يہ کہ سرحد کے پار سے تيس گاڑياں مزيد چوری ہوگئی ہيں-دو بيڻوں نے کاغذات پر انگوڻهے لگوا کر باپ کو قتل کر کے اُس کی لاش گندے نالے ميں پهينک دی تاوان کے لئے بچّہ اغوا کرنے والے نے بچّے کو کسی ايسی جگہ پر رکها کہ
وه والدين کی ياد ميں تين دن تک روتا ہوا انتقال کر گيا وغيره

ايسی خبريں پڑهتے ہوئے دل پر بوجه پڑتا ہے
- ظاہر ہے سب کے دل پر پڑتا ہو گا- ميں يہ سب کچه پڑه کر بہت زياده پريشان ہو گيا اور ميں سوچنے لگا کہ ڻهيک ہے خود کشی حرام ہے، ليکن ايسے موقعے پر اس کی اجازت ہونی چاہئے يا مجه سے پہلے جو لوگ اس دنيا سے چلے گئے ہيں، وه کتنے اچهے تهے- خوش قسمت تهے کہ انُہوں نے يہ ساری چيزيں نہيں ديکهی تهيں- ميں يہ دردناک باتيں سوچ ہی رہا تها کہ اچانک دو اڑهائی کلو کا ايک گولہ ميرے پيٹ پر آن گرا اور ميں ہڑبڑا گيا- اخبار ميرے ہاته سے چهوٹ گيا- ميں نے غور سے ديکها تو ميری پياری بلیّ "کنبر" وه فرش سے اُچهلی اور اُچهل کر ميرے پيٹ پر آن گری تهی اور جب ميں نے گهبراہٹ ميں اُس کی طرف ديکها، تو وه چلتی چلتی سينے پر پہنچ گئی- اسُ نے پيار سے ميرے منہ کے قريب اپنا منہ لاکر مياؤں کی، چيخ ماری اور کہا کہبيوقوف آدمی! ليڻے ہوئے ہو، يہ تو ميرے دوده کا ڻائم ہے اور تم مجهے اس وقت دوده ديا کرتے ہو ميں تهوڑی دير کے لئے اسُے پيار کرتا رہا اور وه ويسے ہی ميرے سينے کے اوپر آنکهيں بند کر کے مراقبے ميں چلی گئی- جبکنبر مراقبے ميں گئی تو ميں سوچنے لگا کہ جس طرح اس کنبر کو اعتماد ہے مجه پر، ميرے وجود پر اور ميری ذات پر، کيا مجه کو ميرےلله پر نہيں ہو سکتا؟ يعنی يہ مجه سے
کتنی
"
Superior"
ہے، برتر ہے اور کتنی ارفع واعلٰی ہے کہ اس کو پتہہے کہ مجهے گهر بهی ملے گا، حفاظت بهی ملے گی،
Care ، بهی ملے گی

Protection
بهی ملے گی اور ميں آرام سے زندگی بسر کروں گی، ليکن ميرے اندر يہ چيز اس طرح سے موجزن نہيں ہے، جيسے ميری بلّی کے اندر موجود ہے- ميرا يقين کيوں ڈگماگاتا ہے خیر! ميں اڻُها اور باورچی خانے ميں گيا- وہاں ميری بيڻی نے اسُ کو ايک تهالی ميں دوده ديا- اور وه تهالی سے دوده لپرنے لگی- ميں دير تک سوچتا
رہا
- بہت سارے خوف ابهی تک ميرے ساته چمڻے ہوئے تهے- خوف انسان کو آخری دم تک نہيں چهوڑتا اور يہ بڑی ظالم چيز ہے- ميں نے اس کا اپنے طور
پر ايک طريق نکالا ہوا ہے
- ميں سوچتا رہتا ہوں اور جو ميرے دل کا خوف ہوتا
ہے،اسے ميں ايک بڑے اچهے، خوبصورت کاغذ پر لکهتا ہوں
- ايک نئے مارکر کے ساته کہاے لله! ميرے دل کے اندر جو خوف ہے کہ مجه سے اُس مقام تک نہيں پہنچا جائے گا، جس مقام تک پہنچنے کے لئے تو نے ہميں رائے دی ہے، پهر ميں يہ لائن بڑی دفعہ لکهتا ہوں- کوئی ذاتی خوف، بچّے کے پاس نہ ہونے کا خوف يا بچّی کی شادی نہ ہونے کا، ميں اسے پہلے ايک کلر ميں لکهتا ہوں، پهر کئی اور کلرز ميں لکهتا ہوں اور جب ميں اسے بار بار پڑهتا ہوں اور بالکل اس کا وظیفہ کرتا ہوں تو عجيب بات ہے کہ آہستہ آہستہ ميرے ذہن سے وه خوف کم ہونے لگتا ہے اور جب وه کم ہونے لگتا ہے، تو پهر ميں اسُ کاغذ کو پهاڑ کر ردّی کی ڻوکری ميں ڈال ديتا ہوں، ہر روز ميرے خوف اور ميرے ڈر، جو ہيں وه نئی نئی Shape
اختيار کر کے آگے ہی آگے چلتے رہتے ہیں ميری ايک تمناّ،آرزو اور بہت بڑی Desire
يہ ہے کہ ميں لله پر پورے کا پورا اعتماد کروں، ويسا نہيں جيسا ہم عام طور پر کيا کرتے ہيںاچها جی! لله جو بهی کرائے ڻهيک ہے- لله نے جيسا چاہا جی انشاءلله ويسے ہی ہوگا- لله کو جو منظور ہوا وہی ہوگا- يہ تو لله کے ساته تعلق کی بات نہيں ہے- لله کے ساته تعلق تو ايسے ہونا چاہئے کہ آدمی اپنے کمرے کے اندر پلنگ کے بازو پر بيڻها ہوا اسُ کے ساته باتيں کر رہا ہو اور اپنی مشکلات بيان کر رہا ہو، اپنی زبان ميں، اپنے انداز ميں کہ اے خدا! مجهے يہ مشکل درپيش ہے- لله کے ساته تعلق تو اُس وقت ہوتا ہے جب آپ ايک بہت بڑے کُهلے ميدان ميں، جہاں
بچّے کرکٹ کهيل رہے ہوں، اسُ کے کارنر يا کونے ميں بنچ پر بيڻهے ہوئے انُ کو ديکه رہے ہيں اور لله کے ساته آپ کا تعلق چل رہا ہے، اتنا ہی وسيع جتنا بڑا ميدان آپ کے سامنے ہےاور اتنی ہی قربت کے ساته جتنا بچّوں کا واسطہ
اپنے کهيل سے ہے- لله کے ساته تعلق تو ايسے ہوتا ہے جب آپ حضرات يا خواتين بازار جاتے ہيں سودا لينے اور اُس کے بعد آپ بس کے انتظار ميں بس سڻينڈ پر بيڻه جاتے ہيں، تو اسُ وقت آپ لله سےکہيں کہ اے لله! شازيہ نے بی اے کر ليا ہے، اب اُس کے رشتے کی تلاش ہے، اب يہ بوجه تيرا ہی ہے، تو جانے- يہ تعلق جو ہے يہ مختلف مدارج ميں ہوتا ہوا چلتے رہنا چاہئے- يہ جو ہم خدا سے تعلق کے محاورے بول جاتے ہيں کہ اچها جی جو لله چاہے کرے گا- لله کی مرضی!! کبهی کبهی وقت نکال کر لله کے ساته کوئی نہ کوئی تعلق ضرور پيدا کرنا چاہئے، جيسے پالتو بلیّ کو گهر کے افراد ساته ہوتا ہے کہ ميری ساری ذمّے دارياں انہوں نے اڻُهائی ہوئی ہيں اور ميں مزے سے زندگی بسر کر رہی ہوں- کبهی نہ کبهی تو ہمارا بهی دل چاہتا ہے مزے سے زندگی بسر کرنے کا، ہم بهی تو اس بات کے آرزو مند ہوں گے
کہ ہم بهی مزے سے زندگی بسر کريں اور اپنے لله کے اوپر سارا بوجه ڈال
ديں
ہم نے تو بہت سارا بوجه خود اپنے کندهے پر اُڻها رکها ہے
- ہم اتنے سيانے ہوجاتے ہيں جيسے ميں کئی دفعہ اپنے دل ميں کہتا ہوں کہ نہيں يہ تو ميرے
کرنے کا کام ہے، اسے ميں لله کے حوالے نہيں کر س ت کا، کيونکہ ميں ہی اس کی باريکيوں کو سمجهتا ہوں اور ميں نے ہی ابهی
Statistics
کا مضمون پاس کيا ہے اور يہ نيا علم ہے- اسے ميں ہی جانتا ہوں- ليکن يہ قسمت والوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ وه اپنا سارا بوجه اسُ (لله) کے حوالے کر ديتے ہيں اور
اسُ کے ساته چلتے رہتے ہيں
- ايک دفعہ ہمارے ہاں ايک نمُائش ہوئی تهی، بڑی دير کی بات ہے، ميرا بچّہ اسُ وقت بہت چهوڻا تها- اسُ نمائش ميں بہت ساری چيزيں تهيں- خاص طور پر کهلونوں کے سڻال تهے اور چائنہ جو نيا نيا ابهر رہا تها، اسُ کے بنے ہوئے بڑے کهلونے ادُهر موجود تهے- ميرے سارے بچّے اسی کهلونوں کے سڻال پر ہی جا کر جمع ہو گئے- ظاہر ہے ميں اور اُن کی ماں بهی وہاں انُ کے ساته تهے- وہاں پر چائنہ کا بنايا ہوا ايک پهول، بہت اچها اور خوبصورت پهول، جو کپڑے اور مصالحے کا بنا ہوا تها اور سڻال والے کا دعویٰ تها کہ يہ پهول رات کے وقت روشنی ديتا ہے، يعنی اندهيرے ميں رکهو تو روشن ہو جاتا ہے- ميرے چهوڻے بيڻے نے کہا کہ ابو يہ پهول لے ليتے ہيں- وه اسُ پهول کے بارے ميں بڑا متجسس تها- ميں نے کہا ڻهيک ہے، لے ليتے ہيں- وه اتنا قيمتی بهی نہيں تها- ہم نے پهول لے ليا- اب وه (ميرا بيڻا) بيچارا سارا دن اسی آرزو اور انتظار ميں رہا کہ کب رات آتی ہے اور کب ميں اس کو روشن ديکهوں گا
رات کو وه اپنے کمرے ميں وه پهول لے گيا اور بيچارا آدهی رات تک بيڻها رہا،
ليکن اسُ ميں سے کوئی روشنی نہيں آئی تهی
- صبح جب ميں اڻُها تو وه ميرے
بستر کے پاس کهڑا
پهُس پهُس رو رہا تها اور پهول اسُ کے ہاته ميں تها اور
کہ رہا تها کہ ابو اس ميں کوئی روشنی نہيں تهی، يہ تو ويسا ہی کالے کا کالا ہے
- يہ تو ہمارے ساته دهوکہ ہو گيا- ميں نے کہا، نہيں ! تم ابهی تهوڑا انتظار کرو اور صبر کی کيفيت پيدا کرو- اگر اسُ سڻال والے نے دعویٰ کيا ہے تو اس ميں سے کچه ہو گا- ميں نے اسُ سے وه پهول لے ليا اور اسُے اپنے کوڻهے(گهر کی چهت) پر لے جا کر (وہاں کڑی دهوپ تهی) دهوپ ميں رکه ديا- مجهے پتہ تها کہ اس مين جونسا چمکنے والا مصالحہ انہوں نے لگايا تها، وه جب تک سورج کی کرنيں جذب نہيں کرے گا، اُس وقت تک اُس ميں روشنی نہيں آئے گی- بالکل ويسے ہی جيسے گهڑياں ہوتی تهيں کہ وه دن کو روشنی ميں رہتی تهيں، تو رات کو پهر جگمگاتی تهيں- جب شام پڑی تو ميں نے اپنے بيڻے سے کہا کہ اب تم اس پهول کو لے جاؤ- جب رات گہری اندهيری ہو گئی تو جيسا ميں نے اُسے بتايا تها کہ اس کے اوپر کالا کپڑا رکهنا اور فلاں فلاں وقت ميں اسے ديکهنا ( ميں نے اُسے اس انداز ميں سمجهايا جيسے جادوگر کرتے ہيں)- اُس نے ايسے ہی کيا اور خوشی کا نعره اور چيخ ماری- اُس کا سارا کمره جگمگ روشن جو ہو گيا تها- اسُ نے اپنی ماں کو اور چهوڻے بهائيوں کو بلايا اور وه جگمگاتا ہوا پهول دکهانے لگا- ہمارے گهر ميں ايک جشن کا سا سماں ہو گيا

__________________
Success is never achieved by the size of our brain but it is always achieved by the quality of our thoughts.
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Taimoor Gondal For This Useful Post:
Arain007 (Saturday, August 20, 2011)
  #10  
Old Sunday, August 21, 2011
Tariqmehsud's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Jun 2011
Posts: 2
Thanks: 2
Thanked 0 Times in 0 Posts
Tariqmehsud is on a distinguished road
Default

like it sir g.....
Reply With Quote
Reply

Thread Tools Search this Thread
Search this Thread:

Advanced Search

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
CSS 2009 Result Last Island CSS 2009 Exam 118 Tuesday, June 15, 2010 02:15 AM
SPSC Result of CCE 2008 declared Azhar Hussain Memon SPSC (CCE) 27 Saturday, May 22, 2010 06:34 PM
CSS 2009 Qualifier list Saqib Riaz CSS 2009 Exam 14 Thursday, November 05, 2009 06:01 PM


CSS Forum on Facebook Follow CSS Forum on Twitter

Disclaimer: All messages made available as part of this discussion group (including any bulletin boards and chat rooms) and any opinions, advice, statements or other information contained in any messages posted or transmitted by any third party are the responsibility of the author of that message and not of CSSForum.com.pk (unless CSSForum.com.pk is specifically identified as the author of the message). The fact that a particular message is posted on or transmitted using this web site does not mean that CSSForum has endorsed that message in any way or verified the accuracy, completeness or usefulness of any message. We encourage visitors to the forum to report any objectionable message in site feedback. This forum is not monitored 24/7.

Sponsors: ArgusVision   vBulletin, Copyright ©2000 - 2019, Jelsoft Enterprises Ltd.